آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں متنوع اقسام کے جنگلات پائے جاتے ہیں، لیکن دوسری جانب یہ حقیقت ہے کہ یہ دولت محدود ہے اور ہماری منفی سرگرمیاں اسے تیزی سے ضائع کر رہی ہیں۔ پاکستان میں صرف چار اعشاریہ سینتیس ملین ہیکڑز پر مختلف اقسام کے جنگلات موجود ہیں، یعنی ملک کے کل رقبے میں سے پانچ فی صد حصے پر یہ جنگلات ہمیں تعمیراتی مقاصد، جلانے، فرنیچر وغیرہ بنانے کے لیے لکڑیاں، پانی، جنگلی حیات اور تفریح کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ بعض مصنوعات بھی فراہم کرتے ہیں، جنہیں محکمۂ جنگلات کی سرکاری اصطلاح میں ’’معمولی جنگلی مصنوع‘‘ (Minor forest produce) کہا جاتا ہے۔ ان میں غذائی مصنوعات، شہد، جنگلی پھل اور مغزیات، خشک میوے، سبزیاں، غذائی کھمبیاں، مسالے، ادویاتی پودے، صنعتی مصنوعات، گوند، لاکھ، بیروزہ، چھالیں، گھاس، ریشمی کویا (Silk cocoons) وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔

روزگار اور زرِمبادلہ کا ذریعہ

ان مصنوعات کی اہمیت کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیوںکہ یہ ایک جانب بہت سے افراد کو دیہات اور شہروں میں روزگار فراہم کرتی ہیں یا ان کی آمدن میں اضافے کا ذریعہ بنتی ہیں اور دوسری جانب کئی شعبہ ہائے زندگی کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں ۔ ان میں سے بعض مصنوعات ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی فراہم کرتی ہیں، لہٰذا انہیں ’’معمولی جنگلی مصنوع‘‘ قرار دینا کسی بھی طرح منصفانہ نہیں ہے، کیوں کہ اقتصادی اور معاشی لحاظ سے یہ کسی بھی طرح معمولی حیثیت کی حامل قرار نہیں دی جا سکتیں۔

ان مصنوعات میں سے کھمبیوں ہی کو لے لیجیے۔ ہر سال پاکستان کے جنگلات سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد پچاس ٹن خشک کھمبیاں جمع کرتے ہیں، انہیں جمع کرنے والے زیادہ تر بچّے اور خواتین ہوتی ہیں۔ یہ تمام کھمبیاں بیرون ملک برآمد کر دی جاتی ہیں، جس سے ملک کو 130 تا 150 ملین امریکی ڈالرز کے مساوی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح پندرہ ہزار افراد ہر سال ان جنگلات سے 55 تا 65 ٹن شہد جمع کرتے ہیں۔ مصنوعی طریقوں سے حاصل ہونے والا سالانہ پچاس ٹن شہد اس کے علاوہ ہے، جسے 35 تا چالیس ہزار افراد جمع کرتے ہیں ۔ یہ شہدسات تا بارہ سو روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کیا جاتا ہے۔

چلغوزے کی پیداواراور برآمدات

جنگلات سے متنوع اقسام کے جنگلی پھل، مغزیات اور میوے بھی حاصل کیے جاتے ہیں، جن میں سے بعض بیرون ملک بھی برآمد کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بہت اہم مغز یا میوہ چلغوزہ ہے، جسے علم نباتات کی اصطلاح میں Pinus gerardiana کہا جاتا ہے۔ اس کے قدرتی جنگلات پاکستان، افغانستان کی سرحد کے قریب واقع وزیرستان کے خشک منطقے میں اور صوبہ سرحد اور بلوچستان کے بعض حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہر درخت سے اوسطاً 20 تا 40کلو گرام چلغوزہ حاصل ہوتا ہے۔پہلےملک میں چلغوزے کی کل سالانہ پیداوار 21ہزار ٹن بتائی جاتی تھی ، جس میں سے95فی صد صوبہ بلوچستان سے حاصل ہوتی تھی۔

لیکن اب یہ پیداوار کم ہوچکی ہے۔ مالی سال 1999ء، 2000ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں چلغوزے کی برآمد سے ملک کو 17 اعشاریہ 268 ملین امریکی ڈالرز کے مساوی زرمبادلہ حاصل ہوا تھا، جو اس برس پھلوں کی برآمدات سے حاصل ہونے والے کل زرمبادلہ کا 21 اعشاریہ 6 فی صد تھا۔ اس خشک میوے کے بازار میں آنے کا دنیا بھر کے لوگ انتظار کرتے ہیں۔ اسے ذائقے اور طاقت حاصل کرنے کے لیے کھانے کے علاوہ طبی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 

پاکستان سے یہ خشک میوہ زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اس کا تیل بڑے پیمانے پر مساج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے سینکے ہوئے (Roasted) چلغوزے کی بیرون ملک بہت مانگ ہے۔ 1990ء میں 125ٹن سینکے ہوئے چلغوزے برآمد کیے گئے تھے۔

درخت سےحصول کے مراحل

چلغوزے کا درخت درمیانے قد کا ہوتا ہے اور عام طور سے خشک منطقوں میں 1800 تا 3000 میٹر کی بلندی پر اگتا ہے۔ اس درخت کی لکڑی تعمیراتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ بیس برس کی عمر میں اس میں پھل (Cones) لگنا شروع ہوتا ہے، جسے اکتوبر میں جب وہ ہرے ہوتے ہیں، درخت سے اتار کر تقریباً پندرہ روز کے لیے مٹی میں دبا دیا جاتا ہے۔ 

پھر پھل کا منہ کھل جاتا ہے اور اسے سخت سطح سے ٹکرا ٹکرا کر اس میں سے چلغوزے نکالے جاتے ہیں۔ پاکستان میں Pine Nut کی ایشیائی نوع یعنی چلغوزہ (Pinus Gerardiana) کے جنگلات دو صوبوں اور وزیرستان کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں، لیکن بلوچستان کو اس ضمن میں دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے، کیوںکہ ژوب کے نزدیک کوہِ سلیمان کے اوپر پائے جانے والے یہ جنگلات دنیا بھر میں چلغوزے کے خالص جنگلات میں سب سے بڑے بتائے جاتے ہیں۔ دراصل کوہ ِسلیمان کا پہاڑی سلسلہ کوہِ ہندوکش کی بلوچستان میں توسیعی شکل ہے۔ 

ڈھلواں پہاڑی حالت، سخت اور خشک موسم گرما اور سخت موسم سرما یہاں منفرد ماحولیاتی نظام تشکیل دیتا ہے ۔یہاں مار خور اور سیاہ ریچھ کی خطرات میں گھری نسلیں بھی پائی جاتی ہیں، لیکن ان جنگلات کی بقاء کو شدید خطرات لاحق ہیں، حالاں کہ یہاں سے حاصل ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں بہترین معیارکا تصور کیا جاتا ہے۔

جنگلات کو لاحق خطرات اور غریبوں کی مشکلات

یہ جنگلات ژوب اور ارد گرد کے علاقوں کے لوگوں سمیت پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے بہت سے افراد کے لیے آمدن کا ذریعہ ہونے کے باوجود خطرات کا کیوں شکار ہیں؟ یہ سوال دراصل کئی سوالات کا مجموعہ ہے، لہٰذا اس ایک سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں کئی سوالات کے جواب تلاش کرنے ہوںگے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے علاوہ ان جنگلات کو انسانوں کی منفی سرگرمیوں اور دولت کی ہوس کی وجہ سے بنیادی خطرات لاحق ہیں۔ 

تادمِ تحریر، کراچی کے جوڑیا بازار میں پاکستان میں اگنے والے بغیر چھلے چلغوزے کے فی کلو گرام نرخ چارہزار روپےاور چھلے ہوئے کےپانچ ہزار روپے ہیں۔ 2007ء میں کراچی میں پاکستان میں پیدا ہونے والے بغیر چھلے ہوئے چلغوزے کے فی کلو گرام نرخ 800 سے 1000 روپے کے درمیان تھے، لیکن اس برس ژوب سے خرید کر آگے فروخت کرنے والوں کو چالیس کلو گرام بغیرچھلے ہوئے چلغوزے کے عوض بڑے تاجر24ہزار روپے، یعنی 600 روپے فی کلو کے حساب سے ادائیگی کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ ژوب میں پیدا ہونے والا زیادہ تر چلغوزہ لاہور کے بازار میں پہنچتا ہے، جہاں سے اسے ملک بھر میں بھیجا جاتا ہے۔ 

مذکورہ ادائیگی کی شرح درمیان کے آدمی کے لیے ہے ۔آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جنگلات میں جا کر پھل توڑ کر گھر لانے اور پھر ان میں سے چلغوزے نکالنے والوں کے حصے میں کتنی کم رقم آتی ہوگی۔ ان جنگلات کی تباہی میں درمیان کے آدمیوں کے ناجائز منافع کا بڑا ہاتھ ہے۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ان جنگلات کی تباہی کے ساتھ ان سے مقامی لوگوں کو ہونے والی کم آمدن نے ان لوگوں کے دل توڑ دیے ہیں ۔

اس بددلی اور علاقے میں پھیلی ہوئی غربت نے بعض افراد کو چلغوزے کے درخت کاٹ کاٹ کر فروخت کرنے پر مجبور کر دیا اور دوسری جانب ہوسِ زر کے شکار بعض افراد نے ان جنگلات کی لکڑی پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ مگر پھر بھی آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے غریبوں کے ہاتھ کیا آتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ انہیں ایک درخت کے عوض سفاک تاجر چار تا پانچ ہزار روپے دیتے ہیں۔

ان جنگلات کو مقامی افراد ایک اور مجبوری کی وجہ سے بھی کاٹتے ہیں، وہ مجبوری سخت موسم سرما میں جلانے کےلیے لکڑی کے اخراجات ہیں،کیوںکہ اس علاقے میں قدرتی گیس فراہم نہیں کی گئی ہے۔بتایا جاتاہے کہ طویل عرصے سے ان جنگلات کی دیکھ بھال مقامی لوگ کرتے آئے ہیں، جو خود کو اس قدرتی وسیلے کا وارث کہتے ہیںاورہرمتعلقہ گاؤں اس بارے میں ایک ڈھیلے ڈھالے اصول کے تحت اپنی ذمے داریاں ادا کرتا ہے، مگر ان کی غربت کا حال یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے علاقے کے جن ’’بڑوں‘‘ سے رقوم ادھار لیتے ہیں، وہ عدم ادائیگی کی صورت میں خود ہی اندازہ لگا کر اتنی مالیت کے چلغوزے کے درخت کاٹ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، حالاں کہ ان درد کے ماروں کو یہ معلوم ہے کہ اگر صرف ایک سال موسمی حالات موافق رہیں، تو ایک درخت سے اتنی مالیت کے چلغوزے حاصل ہو جاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے کاٹ دیے جانے والے درخت کی لکڑی سے ہونے والی آمدن کے مساوی ہوتے ہیں۔

ڈھلوان کے نچلے حصے میں واقع چلغوزے کے جنگلات اپنے درمیان پستے، زیتون، کیکر اور ببول وغیرہ کے درختوں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، پھر یہ کہ کوہِ سلیمان کا یہ حصہ جنگلی پھلوں کی مختلف اقسام، مغزیات، جڑی بوٹیوں اور کھمبیوں کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ترائی میں مسطح وادی ہے،جہاں بہترین چرا گاہیں اور زرعی اراضیاں ہیں، لیکن ان جنگلات کے قدیم وارثین پر دوسرا ظلم یہ ہے کہ وہاں آب پاشی کے لیے پانی کی دست یابی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ 

اس علاقے میں بھی قبائلی سرداران موجود ہیں، جن میں سے بہت سوں نے یہاں آنے والے زیادہ تر پانی کے رخ اپنی یا اپنے قبیلے کی اراضیوں کی طرف موڑ دیے ہیں۔ پہلے یہاں پیاز سمیت مختلف اقسام کی سبزیاں، سیب، چکوترا ، انار وغیرہ اگایا جاتا تھا، جس کے ان لوگوں کو اچھے دام مل جاتے تھے اور ان کی زندگی کاتمام تر انحصار صرف چلغوزے کے درختوں پر نہیں ہوتا تھا، جو پہاڑ کی بلندیوں پر پائے جاتے ہیں۔

سلسلۂ کوہِ سلیمان کے علاقوں تختِ سلیمان اور شِن گھر (جو صوبہ سرحد اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہیں) میں26ہزار ایکڑز پر چلغوزے کے جنگلات پھیلے ہوئے ہیں، جن سے سالانہ 100 ٹن چلغوزہ حاصل ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں تقریباً پانچ ہزار افراد رہتے ہیں اور ان کی آمدنی کا زیادہ تر دارو مدار ان ہی جنگلات پر ہے، لیکن درمیان کے آدمی سخت مشقت کے بعد چلغوزے حاصل کرنے والے مقامی لوگوں کو فی کلو گرام بہت کم ادائیگی کرتے ہیں۔

ماضی کی تصویر

اب سے تقریباً تین برس قبل کے اعداد و شمار کے مطابق سلسلۂ کوہِ سلیمان کے چلغوزے کے جنگلات تقریباً 26ہزار ہیکڑز رقبے پر محیط تھے، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے تناظر میں ماہرینِ ماحولیات اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اس رقبے میں کمی آتی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ جنگلات ضلع ژوب کی تحصیل شیرانی میں واقع ہیں اور ان جنگلات تک پہنچنا آسان کام نہیں ہے۔ دوسری جانب خوش آئند خبریں ہیں۔ 

فطرت کے تحفظ کے لیے قائم عالمی فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی پاکستان میں موجود شاخ ان جنگلات کے تحفظ کے لیے آ گے آئی ہے اور ایک منصوبے کے تحت مقامی لوگوں کو ان جنگلات کی اہمیت بتا کر انہیں ان کے تحفظ کے لیے تیار کر رہی ہے۔ تقریبا دس برس قبل ایگری بزنس سپورٹ فنڈ (اے ایس ایف) نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ساتھ 32 لاکھ روپے کی مالی گرانٹ دینے کا معاہدہ کیاتھا، جو مجموعی طورپر68لاکھ روپے مالیت کے ایک منصوبے پر خرچ کی جانی تھی۔ اس رقم سے مقامی لوگوں کو روزگار کے متبادل ذرائع فراہم کرکے انہیں ان قیمتی جنگلات کے تحفظ کے لیے تیارکیا جاناتھا۔

چلغوزے کے جنگلات اور ملک کی اقتصادیات میں تعلق

ماہرین ماحولیات ان جنگلات کو محض مالی فوائد کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگلات پورے ملک بالخصوص بلوچستان کے موسم پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں اور اس طرح ان کا تعلق محض چند ہزار لوگوں کے ذریعۂ معاش سے نہیں، بلکہ پورے ملک کی اقتصادیات سے ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ ان جنگلات کے تحفظ کے لیے سرکاری سطح پر ایک وسیع اور مربوط منصوبے پر فوراً کام شروع ہونا چاہیے۔ پہلے مرحلے میں لوگوں کو ان جنگلات کی اہمیت اور مقامی لوگوں سے ان کے فطری اور معاشی تعلق کو واضح کیا جائے۔ 

دوسرے مرحلے میں ان کے لیے آمدن کے متبادل ذرایع پیدا کیے جائیں۔ تیسرے مرحلے میں وہاں فوری طور پر قدرتی گیس فراہم کی جائے۔ چوتھے مرحلے میں مقامی لوگوں کو چلغوزے کے پھل (کونز) درخت سے اتارنے کے طریقے بتائے جائیں، پھر ان سے میکانیکی طریقوں سے چلغوزے حاصل کرنے اور انہیں پیک کرنے کی تربیت دی جائے۔ پانچویں مرحلے میں ان علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان جنگلات کو غیر قانونی طور پرکاٹنے والوں کو مقامی لوگوں کی مدد سے روکا جائے۔ بلاشبہ یہ ایک طویل عمل ہے، لیکن ایسا کرنا ناممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہم بہت بڑی ماحولیاتی اور اقتصادی تباہی سے بچ جائیں گے۔

ہوش ربا نرخ کی وجوہ

ایک وقت تھا جب پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چلغوزے اتنی بڑی مقدار میں دست یاب ہوتے تھے کہ عام ریڑھیوں پر اس کے ڈھیر لگے نظر آتے تھے، لیکن اب تو یہ دکانوں میں بھی کھلے رکھے نظر نہیں آتےاورمنہگے اتنے ہیںکہ کوئی غریب انہیں خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اس کی دیگر وجوہات کے ساتھ چلغوزے کی تجارت سے وابستہ افراد دو باتوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ 

ان میں سے ایک یہ بتائی جاتی کہ چلغوزے زیادہ تر برآمدہو رہے ہیں۔دوسری وجہ پیداوار کا خشک سالی سے متاثر ہونا بتائی جاتی ہے ۔ تاجروں کے مطابق یہ زیادہ تر چین جاتے ہیں۔تاہم انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ چین کیوں زیادہ جا رہے ہیں، آیا چینی انہیں کھاتے ہیں یا ان سےکوئی دوا وغیرہ بناتے ہیں؟

کوئٹہ کے خشک میوہ جات کے بازار کے تاجروں کے بہ قول 1996میں ایک کلو چلغوزہ 120 روپے میں دست یاب ہوتا تھا۔1998تک چلغوزے سڑکوں پر ریڑھیوںپر فروخت ہوتے تھے۔تاہم2001کے بعد اس کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا اور اس کے فی کلو نرخ چھہ ہزار روپے تک پہنچ گئے تھے۔اب کورونا کی وجہ سے چارہزار روپے تک ہیں۔

پہلے چلغوزے کے بڑے تاجر کہتے تھے کہ افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑی علاقے میں امریکیوں یا دیگر ممالک نے جو بم باری کی اس کی وجہ سے چلغوزے کے درخت جل گئے۔تاجروں کے مطابق 2001کی دہائی کے وسط کے بعدبہ ظاہر اس کی پیداوار 30 فی صد رہ گئی۔ اب اس30فی صد کا ایک بڑا حصہ چین جا رہا ہے۔ جس طرح پشتون گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں، اسی طرح چینیوں کے کھانے پینے میں جو سب سے پسندیدہ اور مرغوب اشیا ہوتی ہیں ان میں چلغوزہ شامل ہے۔

چین جانے کے ساتھ یہ عرب ممالک بھی جا رہا ہے جس سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عرب ممالک میں چھلکے کے ساتھ نہیں بلکہ صرف اس کا مغز جاتا ہے۔ جب اس کا چھلکا اتار دیا جاتا ہے تو اس کی قیمت اور بڑھ جاتی ہے۔ عرب کھڈی کباب کے ساتھ جو چاول پکاتے ہیں وہ اس میں چلغوزہ ملا کر کھاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ1990کی دہائی کے وسط تک 200 روپے فی کلو بکنے والے چلغوزے کی قیمت اب آسمان کو چھونے لگی ہے۔

گلگت، بلتستان کے جنگلات کی صورت حال

گلگت بلتستان میں چلغوزے کے درخت ہمیشہ سے مقامی باشندوں کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے اس مہنگے خشک میوے کی پیدوار کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے رہایشی افراد کے بہ قول علاقے کے پہاڑوں میں کچھ سال پہلے تک چلغوزے کے درخت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ پہلے علاقے کے بہت سے افراد منافع بخش کاروبار،یعنی چلغوزے کی تجارت سے منسلک تھے، لیکن درختوں کی کٹائی کے باعث وہ روزگار اب ان کے ہاتھوں سے چھن گیا ہے۔اس کام سے علاقے کے سیکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔ تاہم کچھ عرصے سے ان درختوں کو بے دریغ کاٹا جا رہا ہے جس سے لوگوں کے ہاتھوں سے ایک نقد روزگار چھن رہا ہے۔یادرہے کہ گلگت بلتستان کا ضلع دیامر چلغوزے کے درختوں کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق چلغوزے کے درخت کاٹنے پر حکومت کی طرف سے کوئی خاص پابندی نہیں ہے، کیوںکہ ضلع دیامر میں اس قسم کےبیش تر جنگلات لوگوں کی ملکیت ہیں۔ان کے بقول اگرچہ حکومت کی طرف سے کچھ پابندیاں ضرور ہیں، لیکن لوگوں کی جانب سے انھیں ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ سے علاقے میں چلغوزے سمیت تمام جنگلات تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔چلغوزے کے درخت کی لکڑی کو آج کل فرنیچر بنانے میں بڑے پیمانے پر استعمال کیاجاتا ہے اور اس سے آرایشی اشیا بھی بنائی جاتی ہیں۔

پاکستان میں جنگلات کا رقبہ سے تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے جس سے نہ صرف مجموعی طور پر ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ اس سے معیشت پر بھی دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔غیر جانب دار عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں صرف دو اعشارہ دو فی صد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جو تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق پاکستان ایک دہائی سے کئی مرتبہ ملکی تاریخ کے تباہ کن ترین سیلابوں کی زد میں رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ان کے مطابق جنگلات کے خاتمے سے پانی کے ذخائر بھی تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں اور گلیشیئرز بھی پگھلتے جارہے ہیں جس کے مستقبل میں تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا تو دو تین عشروں میں ملک کے تمام دریا خشک ہو جائیں گے اور پھر ہم پانی کی ایک ایک بوند کو محتاج ہو جائیں گے۔ماہرین کے بہ قول کچھ سالوں سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی قدرتی آفات سے اتنے زیادہ جانی و مالی نقصانات ہوچکے ہیں کہ اب یہ ملک کا سب بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔پاکستان میں جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے موثر قوانین کا ہمیشہ فقدان رہاہے۔ حکومتی ایوانوں میں بھی کوئی خاص سنجیدگی نظر نہیں آتی جس سے یہ معاملہ ہر سال مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔