• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہاکس بے ہٹس سے کروڑوں کمائی کے بعد کے ایم سی کو سالانہ 16 ہزار ملے



سال کے 16 ہزار روپے لگائیے اور لاکھوں کروڑوں روپے کمایئے، یہ انوکھا کاروبار کراچی کی ساحلی پٹی پر کئی سال سے جاری ہے۔ اس اندھی کمائی کا تعلق ساحلی مقامات پر واقع بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 254 ہٹس سے ہے۔ انہیں منظور نظر افراد کو برائے نام کرائے کے عوض کس طرح الاٹ کیا گیا؟؟ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اس کیخلاف کیا اقدامات کئے؟۔

کراچی کے ساحلی مقام ہاکس بے پر بلدیہ عظمی کراچی 254 ہٹس مالِ مفت دلِ بے رحم کی آنکھیں کھولنے والی مثال بن گئے۔ شہری بہ خوبی واقف ہیں کہ ان ہٹس کا یومیہ کرایہ اوسطا 10 سے 12 ہزار روپے لیا جاتا ہے۔ جبکہ ویک اینڈ پر پکنک کیلئے آنے والوں سے ذرا زیادہ، یعنی پچیس ہزار روپے تک وصول کئے جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر آدھا سال بھی یہ ہٹس اوسطا 15 ہزار روپے یومیہ کرائے پر بک کیے جائیں تو ان سے حاصل ہونے والی رقم تقریبا 70 کروڑ روپے سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی ایک ہٹ سے سال کا صرف 16 ہزار روپے کرایہ لیتی آرہی تھی اور یوں ریونیو کی مد میں اسے سالانہ 40 لاکھ روپے ہی ٹکائے جارہے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ 254 میں سے 125 الاٹیز یہ معمولی کرایہ بھی کئی سالوں سے ادا نہیں کررہے تھے۔


یہ انکشاف ہوا تو ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار شالوانی نے ان تمام ہٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں، اور اب انہیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق نیلام کیا جائے گا۔

محکمہ لینڈ نے تمام الاٹیز کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ کے ایم سی حکام نے خسارے کا یہ سودا کرکے کتنا فائدہ اُٹھایا؟

قومی خبریں سے مزید