• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کا نوجوان کتب بینی کی اہمیت سے نابلد کیوں؟

محمد فاروق دانش

" شاہین! تم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر نئی کتاب پڑھی۔"

" ارے بھئی! چھوڑو بھی۔۔۔۔کیا کتابوں کی باتیں لے بیٹھے۔ دیکھ نہیں رہے ، میں گیم کے کتنے اہم مرحلے میں ہوں۔"

شاہین نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر سرمد کے سوال کے جواب میں بے زاری سے کہا۔

یہ کسی ایک شاہین کا نہیں ، ملک کے اکثرشاہینوں کایہی حال ہے ۔ ایک وقت تھا کہ کتاب ہی ا اوڑھنا بچھونا ہوا کرتی تھی۔معلومات کا خزانہ ، تفریح کا ٹھکانا اور خاموش دُنیا کا ترانہ، دل کو لبھانے کا فسانہ یہی کتاب ہی تو تھی۔ کتاب سےانسان کاتعلق بے حدپرانا ہے ۔یہ انسان میں فہم وادراک اور خود آگاہی ، اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات کو پرکھنے کاشعور بیدار کرتی ہے۔ جس طرح ہوا اور پانی کے بغیر جینا ممکن نہیں، اسی طرح کتاب کے بغیر انسانی بقا اور ارتقامحال ہے۔

دُنیا جب تحریر کے فن سے روشناس ہوئی تو انسان نے چٹانوں، درخت کی چھالوں، جانوروں کی ہڈیوں،کھالوں، کھجور کے پتوں ، ہاتھی دانت اور بالاخر کاغذ کولکھنے کے لیے استعمال کیا، تاکہ وہ اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچا سکے۔ کتابوں کی داستان بھی عجب ہے۔ کبھی انھیں آگ لگائی گئی تو کبھی دریا برد کیاگیا ، کبھی چرا لیا تو کبھی دفنا دیا گیا۔ کبھی یہ شاہی دربار کی زینت بنیں تو کبھی فٹ پاتھ پر کوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں۔ لیکن کتاب اور علم دوستی معاشی خوش حالی اور معاشرتی اَمن کی ضامن ہوتی ہے۔ تاریخ ہے کہ جس قوم نے علم و تحقیق کا دامن چھوڑ دیا، وہ پستی میں گر گئی۔

اب اِسے بدقسمتی نہیں تو اور کیا کہیے کہ ترقی کی آخری منزلوں کو چھو لینے کی خواہش مند یہ قوم کتب بینی کی اہمیت سے نابلد اور اس کی افادیت سے قطعی طور پر نا واقف ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کتب بینی کا رواج اسکول کے ابتدائی درجوں سے متعارف کرادیا جاتا ہےاور یہ سلسلہ حصولِ تعلیم کے تمام مدارج طے کرنے تک جاری رہتا ہےلیکن ہمارا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم تمام تر سہولیات کے باوجود کتابوں سے ناتا جوڑنے کے بجائےتوڑتے جا رہے ہیں۔

آج کے نوجوان اگر کتاب دوست ہوں تو مکالمہ، تہذیب اور تعلیم یافتہ کلچر عام ہو جائے۔ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی روایت پیدا ہوگی، اس کے برعکس مطالعے سےدوری معاشرے میں ہیجان، جذباتیت،بداخلاقی، موج مستی، اور جہالت کو فروغ ملے گا۔کتاب ذہن اسی طرح سیراب کرتی ہے جیسے بنجر زمین پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ یہ جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے روشناس کراتی ہے، تنہائی کابہترین ساتھی ، مصیبت میں بہترین دوست ،ماضی سے واقفیت حاصل کرانے کا بہترین سبب ،حال کو بہتر بنانے کا راستہ اور مستقبل کو تاب ناک بنانے کا واحد ذریعہ ہے ۔

گیلپ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ملک میں 39 فیصد پڑھے لکھے نوجوان کتابیں پڑھنے کے دعوےدار ہیں جب کہ 61 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ کتابیں نہیں پڑھتے ۔ معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں کمی کی ایک وجہ انٹرنیٹ بھی ہے۔ایک نجی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کتب بینی کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔

لوگ اب دُکانوں اور کتب خانوں میں جا کر کتابیں، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے تمام نئی اور پرانی کتابیں حاصل ہو جاتی ہیں۔یوں کتابیں خریدنے کے رجحان میں کمی آتی جا رہی ہے لیکن یہ سہولت ہونے کے باوجو طالب علم انٹرنیٹ، چیٹنگ اور سماجی روابط کی ویب سائٹس میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ دور جدید میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برکت سے علم کا حصول اور اطلاعات رسانی کے باب میں انقلاب برپا ہو چکا ہے، مگر کتاب کی اپنی دائمی اہمیت اور افادیت قائم دائم ہے۔ لاکھوں کتابیں زیور اشاعت سے مزین ہو رہی ہیں اور بے شمار لائبریریاں معرض وجود میں آ رہی ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں نوجوانوں میں کتب بینی کا رواج مفقود ہوتا جا رہاہے۔ اسے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

آج نوجوان یہ عہد کریں کہ ہم اپنے احباب کی فہرست میں کتاب جیسے بہترین دوست کا اضافہ کرکے کتب خانوں کو آباد کریں گے۔ کتب بینی کی عادت اپنائیں گے ۔ کتاب دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر ماہ اپنے جیب خرچ میں سے ایک دو برگر ، پیزا کھانا ترک کر کے دو تین کتابیں بازار سے ضرور خرید کر لائیں گے ۔ ان کی اس سعی سے ہزاروں ایسے ادیبوں کی حوصلہ افزائی ہوگی جو اپنے خونِ جگر سے تحریر اس لیے رقم کرتے ہیں کہ ان کی بات ،ان کے دل کی پکار سننے والے موجود ہیں۔ اگر کتاب بند رہی تو علم کے دریچے کیسے روشن ہوں گے ، کس طرح دیے سے دیا جلے گا۔

تعلیم یافتہ نوجوان، قلم اُٹھائیں اور لکھیں درج ذیل عنوان پر:

زندگی، تجربات کا دوسرا نام ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، جن سے کچھ سیکھ لیتے ہیں، کچھ ٹھوکر کھا کر آگے چل پڑتے ہیں، پچھتاتے اُس وقت ہیں، جب کسی مسئلے سے دوچار ہوجاتے ہیں، مگر حل سمجھ نہیں آتا۔ دکھ سکھ، ہنسی خوشی، یہ سب زندگی کے رنگ ہیں، جن سے کھیلا جائے تو بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ، آج کا نوجوان زندگی سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تجربے کے بعد دوسرا تجربہ کرتا ہے، جب پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن زندگی کے تجربات بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ ہم نے آپ کے لیے ایک سلسلہ بعنوان،’’ہنر مند نوجوان‘‘ شروع کیا ہے، اگر آپ تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوان ہیں تو اپنے بارے میں لکھ کر ہمیں ارسال کریں، ساتھ ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر اور کام کے حوالے سے تصویر بھیجنا نہ بھولیں۔ اس کے علاوہ ایک اور سلسلہ ’’میری زندگی کا تجربہ‘‘کے نام سے بھی شروع کیا ہے، جس میںآپ اپنےتلخ وشیریں تجربات ہمیں بتا سکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کے تجربات یا تجربے سے دیگر نوجوان کچھ سیکھ لیں۔

ہمارا پتا ہے:

’’صفحہ نوجوان‘‘ روزنامہ جنگ، میگزین سیکشن،

اخبار منزل،آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔

تازہ ترین