کراچی ، لاہور(نیوز ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پی ڈی ایم کے لاہور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنمائوں نے کہا کہ نئے پاکستان سے پرانا پاکستان ہی اچھا تھا دوسرا بنگلہ دیش نہیں بنانا چاہتے تو اس بلا کو لگام دینا ہوگا۔
صوبے خودمختار ہوتے تو بنگلہ دیش نہ بنتا، حکومتی ادارے ناکام ہو چکے، سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے لاہور جلسے کو ناکام بنانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی، لاہورکے شہریوں نے ثابت کیا کہ وہ زندہ دلان لاہور ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل،پختوانخواہ عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ، اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدر خان ہوتی اور قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاؤ نے لاہور جلسے سے اپنے اپنے خطاب میں کیا۔
ساجد میر نے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ پوری اپوزیشن کا بیانیہ ہے، اختر مینگل نے کہا کہ یہ جلسے نہیں غیر جمہوری قوتوں کا جنازہ ہے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کی از سر نو تشکیل چاہتے ہیں، اے این پی کے حیدر ہوتی نے کہا کہ جعلی مقدموں پر عوامی نمائندوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔
مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ نئے پاکستان سے پرانا پاکستان اچھاتھا جس میں مہنگائی آج کے دور سے بہت کم تھی، انصاف مل جاتا تھا، جس میں عوام دو وقت کی روٹی کا انتظام کر لیتے تھے ،نواز شریف کا بیانیہ پوری اپوزیشن کا بیانیہ ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ حکمران ہمارے جلسوں کو جلسیوں کا نام دیتے ہیں، یہ جلسے نہیں غیر جمہوری قوتوں کی نماز جنازہ ہے، گوادر میں باڑ لگا کر ایسٹ جرمنی کی طرح تقسیم کیا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا اور دبئی میں جزیرے خریدنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، اگر صوبے خود مختار ہوتے تو بنگلا دیش نہ بنتا، آئین کی بالا دستی ہوتی تو آئین پامال نہ ہوتا، جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ʼابھی جلسہ شروع نہیں ہوا ہے اور ٹی وی پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا بیان چل رہا ہے کہ جلسہ ناکام ہو گیا ہے۔
پتا نہیں کس قسم کا شخص یہاں بٹھایا ہوا ہے جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے۔پختوانخواہ عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم نے پی ڈی ایم مستی موچ کے لئے نہیں بنائی بلکہ ہم ملک کی ازسر نو تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو طعنہ دینے نہیں آئے ، ہم نے اپنی بساط کے مطابق سامراج کا مقابلہ کیا ، ہر گلی میں، ہر ندی، ہر پہاڑ میں مقابلہ کیا لیکن ہمیں گلہ ہے ہندوستان کے ہندو ئوں، سکھوں اور تھوڑا سا ساتھ لاہوریوں نے بھی دیا اور سب نے مل کر افغان وطن پر قبضہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا ۔
ہم صرف یہ چاہتے تھے ووٹ کو عزت دو ، ہم یہ چاہتے تھے کہ آئین کو عزت دو ، لاہو روالو میں معافی چاہتا ہوں، آپ نے نیا آئین بننے نہیں دیا او رہماری مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ، بنگلہ کی اکثریت کو کم کرنے کے لئے ون یونٹ کا ڈرامہ رچایا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ پشتون ، بلوچ اور سندھی آپ کے پاس آئے ہیں ہمیں آپ سے ایک وعدہ لینا ہے ، اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان قوموں کی قطارمیں با عزت وقار حاصل کرے تو ہم سے محرومیوں کے ازالے کا وعدہ کرنا ہوگا ۔
قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاؤ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومتی ادارے ناکام ہو چکے ہیں اور اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے،حکومت اور عوام میں بداعتماد ی ہے ،یہ تب ختم ہوگی جب عمران خا ن استعفیٰ دیں گے ، ہم نیا عمرانی معاہدہ کریں گے ،اگلی حکومت پی ڈی ایم کی بنے گی اور یہ ملک ترقی کرے گا۔
اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سو سال قبل انگریزوں کی غلامی سے انکار کرنے والے باچاخان نے عدم تشدد ، تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق کی بات کی، لیکن اس کو کبھی غدار اور کبھی ہندوستان اور روس کا ایجنٹ ٹھہرایا گیا۔
جس نے تمام عمر عدم تشدد کا پرچار کیا اس کے خلاف تشدد کا استعمال کیا گیا، لیکن باقی پاکستان اس وقت ان کی بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہوا۔پشتون وفاداری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور آج لاہوریوں نے ثابت کردیا کہ وہ اپنے عوامی نمائندوں کے وفادار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کوایک اقامے کی بنیاد پر ارشد ملک جیسے جج کے ذریعے نااہل کیا گیا، ان کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کیا گیا تاکہ وہ ان کی کمزوری بنے لیکن وہ ان کی طاقت بن گئی۔
جعلی مقدموں کو بنیاد بنا کر عوامی نمائندوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملک کو ایسے لوگوں کے حوالے کیا گیا جو یونین کونسل چلانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔