اسلام آباد(ایجنسیاں)حکومتی وزراءکا کہنا ہے کہ حکومت نے لاہورجلسے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی مگر اس کے باوجود جلسہ ناکام رہا‘عوام نے پاکستان ڈیزاسٹر موومنٹ کا بیانیہ دفن کردیا ‘ یہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور آگے بھی ناکام ہونگے‘ یہ کہہ رہے تھے ریفرنڈم ہوگا تو ریفرنڈم تو ان کے خلاف ہوگیا‘ لاہور کے عوام نے نہ آر کیا نہ پار کیا۔
بس پی ڈی ایم کی قیادت کو لاچار کیا‘لوٹ مار کی سیاست کے خاتمے کا وقت آ گیا۔غیر فطری اتحاد منی لانڈرنگ کی دولت بچانے کے لیے گھٹیا حرکتوں پر اتر آیا ہے‘اس ٹولے کی قسمت میں رونا لکھا ہوا ہے۔
راجکماری ، شہزادہ،مولانا اور ان کے حواریوں کی منفی سیاست کا جنازہ نکل چکاہے ‘لاہور میں (ن) لیگ کی سیاسی قبر کھدی ہے‘ان کا لاہور میں جلسہ ایک اور فلاپ شو تھا‘پی ڈی ایم مسترد شدہ ٹولہ ہے اور آئندہ بھی ان کا انجام یہی ہو گا۔
مودی اور اجیت دیول کا بیانیہ لیکر آنے والی پی ڈی ایم کو شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار سینیٹر شبلی فراز‘شاہ محمودقریشی‘شیخ رشید‘فردوس عاشق ‘ شہباز گل ‘فیاض چوہان ‘شہریارآفریدی اور اسد عمر نے لاہورجلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔
وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ گیارہ جماعتیں مل کر بھی تحریک انصاف جتنا بڑا جلسہ نہیں کر سکیں‘مریم نواز نے والد کی سیاست کو تباہ کر دیا ہے‘ یہ خود کوبند گلی میں دھکیل رہے ہیں ، ان پر رونا آتا ہے ، یہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور آگے بھی ناکام ہونگے۔
اپنے بیان میں وزیر اطلاعات نے کہاکہ لاہور کی عوام نے ان کو مسترد کر دیا ہے،یہ لوگ مل کر بھی اکٹھے نہیں کر سکے۔ایک پروگرام میں وزیراطلاعات کا کہنا تھاکہ پی ڈی ایم کا جلسہ آج کے موسم کی طرح ٹھنڈا ہے‘ یہ کہہ رہے تھے ریفرنڈم ہوگا تو ریفرنڈم تو ان کے خلاف ہوگیا۔
لاہور کے عوام نے مریم نواز کو مسترد کر دیا ‘پی ڈی ایم دس پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کر پائی ‘ نہیں پتا کہ اب یہ کہاں منہ چھپاتے پھریں گے‘ چائے کی پیالی میں طوفان سے سیاسی عدم استحکام نہیں آتا۔
دریں اثناءوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نےکہا ہے کہ لاہور کے عوام نے نہ آر کیا نہ پار کیا۔بس پی ڈی ایم کی قیادت کو لاچار کیا۔اتوار کو لاہورجلسے پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 11جماعتوں پرمشتمل لٹیروں کے قافلے کو پاکستان کی عوام نے ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے ۔
پی ڈی ایم ٹولے کی سیاست ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ادھر ملتان میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں مختلف تقریبا ت سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی کا کہناتھاکہ سیاسی مداری ایک بار پھر اکٹھے ہو کر عوام کو خالی اور جھوٹے نعروں سے دھوکہ دینے نکل آئے ہیں ‘ لوٹ مار کی سیاست کے خاتمے کا وقت آ گیا۔
علاوہ ازیں معاون خصوصی اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا 11جماعتوں کا جتھہ کورونا وبا میں اضافہ چاہتا ہے‘ غیر فطری اتحاد منی لانڈرنگ کی دولت بچانے کے لیے گھٹیا حرکتوں پر اتر آیا ہے ،اپوزیشن عناصر عقل کے اندھے ہیں‘جاتی امرا کی جعلی راجکماری اور کینزیں رو رو کر ہلکان ہو رہی ہیں ،اس ٹولے کی قسمت میں رونا لکھا ہوا ہے۔
راجکماری ، شہزادہ،مولانا اور ان کے حواریوں کی منفی سیاست کا جنازہ نکل چکاہے ۔ ادھر لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کاکہناتھاکہ لاہور کی عوام نے پی ڈی ایم والوں کا ہی جلوس نکال دیا، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔
مریم نواز کو سولو فلائٹ کا شوق لے ڈوبا‘زندہ دلان لاہور نے اپوزیشن کے بیانیہ کو بڑی دھوم دھام سے دفن کر دیا۔عوام نے شاہی محل میں بیٹھی راجکماری کی آواز پر کان دھرنے کے بجائے جیل میں بیٹھے شہباز شریف کے خفیہ پیغام کی پاسداری کی۔150 ایکڑ میں سے صرف پانچ ایکڑ پر سیاسی تھیٹر لگایا گیا، 10 ہزار کرسیاں رکھ کر یہ وزیر اعظم پاکستان کا مقابلہ کرنے نکلے ہیں ۔
آج لاہور نے انکے سیاسی بیانئے کا جلوس نکال دیا۔دریں اثناءمعاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے پی ڈی ایم رہنماؤں کو بلیک میلرز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کبھی استعفے نہیں دیں گے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ آج ان کے لیے شرمندگی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
لاہور میں (ن) لیگ کی سیاسی قبر کھدی ہے۔ گیارہ جماعتوں نے فلاپ جلسہ کیا ہے۔علاوہ ازیں وزیر کالونیز و جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ لاہور نے سیاسی کرپشن اور بددیانتی کی بارش میں بھیگی پی ڈی ایم قیادت کو ناکام و نامراد کر دیا۔
لاہور جلسے کے حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ لاہوریوں نے ایک بار پھر آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن کو آئینہ دکھا دیا۔ مودی اور اجیت دیول کا بیانیہ لیکر آنے والی پی ڈی ایم کو شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے اور مولانا فضل الرحمن کو خجالت مٹانے کے لیے جا کر دریائے راوی میں ڈبکیاں لگانی چاہئیں۔
دریں اثناءاپنے ویڈیوبیان میں فیاض الحسن چوہان نے اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے کہ اگر اپوزیشن 50 ہزار کرسیاں بھر دے تو میں اسی وقت سیاست کو خیر باد کہہ دوں گا‘پارک میں 50 ہزار کرسیوں کی گنجائش ہےجبکہ 10فٹ پرکرسیاں لگائیں گئیں جو کسی طرح 7 ہزار سے زائد نہیں ہو سکتیں‘11 پارٹیوں کو 7ہزار کرسیاں لگانے پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جیسا کہ لاہور کے عوام نے پی ڈی ایم کے سیاسی جلسے کو مسترد کر دیا ہے جو ان کا تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کا واضح ثبوت ہے‘ان کا لاہور میں جلسہ ایک اور فلاپ شو تھا۔
پی ڈی ایم مسترد شدہ ٹولہ ہے اور آئندہ بھی ان کا انجام یہی ہو گا،پی ڈیم ایم والوں نے خود اپنی سیاسی قبر کھود دی ہے‘ ان کے ارمان دھرے کے دھرے رہ گئے‘ لاہور جلسے میںفضل الرحمان مدرسے کے بچوں کو نہ لاتے تو یہاں کرکٹ کھیلی جا سکتی تھی، رابطوں کا ابھی وقت نہیں آیا‘جب وقت آئے گا رابطے بھی ہو جائیں گے، فضل الرحمان کا ایجنڈا کچھ اور ہے، آخری کارڈ آصف زرداری کھیلے گا۔
ادھراسلام آبادمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے نام پر جمع ہونیوالے شرپسند ماضی میں ایک دوسرے کو چور لٹیرا ہونے پر وطن فروش اور عوام دشمن کہتے رہےتاہم یہی سیاسی ٹھگ آج اپنے اپنے لوٹ کا مال بچانے کیلئے اکٹھے ہوگئے ہیں۔مسترد شدہ سیاستدانوں کا ٹولہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے لاہور کے عوام کی زندگیوں سے کھیلنے پر تلا بیٹھا ہے۔
چند چور لٹیرے سیاستدان پی ڈی ایم کے لبادے میں چھپ کر لانگ مارچ کے نام پر ملک میں فسادات کا منصوبہ بنارہے ہیں۔مودی، کووڈ اور پی ڈی ایم تینوں پاکستان کے دشمن ہیں۔ہم ان تینوں دشمنوں کوشکست دیں گے۔ فضل الرحمٰن کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا ہے۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسدعمر نے کہا کہ اپوزیشن کے کراچی جلسے کی تقریر میں اردو کو قومی زبان ماننے سے انکار، آج ایک تقریر میں پنجابیوں کو انگریز کا ساتھی قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں ان کا کہناتھاکہ تقریروں میںاداروں پر ہرزہ سرائی، بھارت کے بیانیہ کا دہرانا، قائد کے مزار کی بے حرمتی۔ یہ اپنی چوری کی دولت کو بچانے کس راستے پر چل پڑے ہیں؟ ۔علاوہ ازیں ایک پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئےوفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کا جلسہ مکمل طورپر فلاپ شو تھا۔
پی ڈی ایم کے جلسے میں دس سے پندرہ ہزار لوگ تھے، ڈرون کیمرے کی فوٹیج نے ثابت کردیا جلسے میں کتنے لوگ تھے، جلسے میں موجود لوگ بھی پی ڈی ایم قائدین سے منسلک نہیں تھے، جلسے میں شریک لوگوں میں کوئی جوش و خروش نہیں نظر آیا،کورونا کی دوسری لہر میں اپوزیشن کا جلسہ کرنا خود غرضی اور بے حسی پر مبنی حرکت ہے۔
حکومت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلسے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، اس قسم کے جلسوں سے حکومتیں نہیں جایا کرتی ہیں، ڈی جے بٹ کی گرفتاری پر جلسہ ناکام ہوا تو ہم ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار ہیں، حکومت کو پیغام دینا تھا جلسہ غیرقانونی سرگرمی ہے اس کیلئے پی ڈی ایم قائدین اور سہولت کاروں پر مقدمے درج ہوں گے۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو اپوزیشن کیلئے وزیرداخلہ نہیں بنایا گیا، بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کی صحت ٹھیک نہیں تھی، وزیرداخلہ کی بڑی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اس کیلئے فعال ہونا پڑتا ہے، شیخ رشید کا وسیع سیاسی تجربہ ہے۔
وزارت داخلہ میں سیاسی تجربے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اپوزیشن کی اٹھان دیکھیں اٹھی نہیں تھی کہ بیٹھ گئی، اپوزیشن نے گوجرانوالہ میں افواج پاکستان کیخلاف بات کی ،کوئٹہ میں آزاد بلوچستان کی بات کردی اور پنجاب میں آکر پنجابیوں کو گالی دی گئی۔