آپ آف لائن ہیں
منگل24؍رجب المرجب 1442ھ 9؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شاہ زیب جمال

شاہد کریم ساتویں جماعت کے کلاس ٹیچر تھے۔ ایک روز ماسٹر صاحب جب کمرہ جماعت میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا شاگردحامد ایک طرف بیٹھا رو رہا ہے جب کہ باقی لڑکے ایک دوسرے سے ہنسی مذاق اور گفتگو میں مگن ہیں۔ انہوں نے اس سے پوچھا، ’’حامد کیا بات ہے کیوں رو رہے ہو، کسی نے تمہیں مارا ہے؟‘‘۔حامد نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا ’’جاوید نے میری سونے کی انگوٹھی لے لی ہے‘‘ ،’’ اب میں اس سے مانگ رہا ہوں تو نہیں دے رہا۔‘‘ استاد، ’’ جاوید نے تمہاری انگوٹھی کیسے لی؟‘‘ حامد،’’کل چھٹی والے دن جاوید میرے گھر آیا تھا، ہم دونوں باتیں کر رہے، اس دوران اس کی نظر میری انگلی پر پڑی جس میں سونے کی انگوٹھی چمک رہی تھی‘‘۔ اس نےانگوٹھی دیکھ کر کہا ’’تمہاری انگوٹھی تو بہت خوب صورت ہے، ذرا دکھانا‘‘۔’’ میں نے جب انگلی سے اتار کر اسے دیکھنے کے لیے دی تو، وہ لے کر بھاگ گیا،اب میں مانگ رہا ہوں تو دے نہیں رہا‘‘۔

ماسٹر صاحب نے جاوید کوکلاس میں تلاش کیا جو ایک کونے میں چھپا بیٹھا انہی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ماسٹرصاحب اس کے پاس گئے اور اس سے پوچھا، ’’جاویدکیا تم نے حامد کی انگوٹھی لی تھی؟‘‘ جامد نے دیدہ دلیری سے کہا، ’’جناب میں نے کوئی انگوٹھی نہیں لی، یہ جھوٹ بول رہا ہے‘‘۔ یہ سن کر ماسٹر صاحب نے پوچھا ’’ کل تم حامد کے گھر گئے تھے؟‘‘۔ جاوید نے جواب دیا، ’’جناب میں نے تو اس کا گھر ہی نہیں دیکھا، میں کبھی بھی اس کے گھر نہیں گیا‘‘۔یہ سن کر انہوں نے حامد سے پوچھا، ’’ حامد تمہارے پاس وہ انگوٹھی کہاں سے آئی تھی؟‘‘حامد نے روتے ہوئے جواب دیا، ’’جناب میرے بڑے بھائی نے ایک ہفتے پہلے میری سالگرہ پر مجھے تحفے میں دی تھی‘‘۔ 

استاد نے حامد سے کہا، ’’جاؤ اپنے بڑے بھائی کو بلا لاؤ میں ان سے بھی اس کے بارے میں پوچھوں گا۔‘‘ یہ سن کر حامد اپنے بھائی کو بلانے کے لیے گھر چلاگیا۔کچھ دیر بعد استاد نے جاوید سے پوچھا، ’’کیا بات ہے جاوید، حامد اب تک بھائی کو لے کر نہیں آیا؟‘‘ جاوید نے جواب دیا کہ ’’جناب اس کا گھر بہت دور ہے ، واپس آنے میں اسے بہت دیر لگے گی‘‘۔ یہ سن کر استاد نے جاوید سے پوچھا، ’’حامد کا گھر کتنی دور ہے؟‘‘ جاوید نے کہا، ’’ حامد کا گھر یہاں سے بہت دور ہے، ابھی تو وہ اپنے گھر کےآدھے راستے میں ہوگا‘‘۔ یہ سن کر استاد کو غصہ آگیا اور انہوں نے جاویدسے کہا، ’’ تم نے تو کہا تھا کہ تم نے حامد کا گھر نہیں دیکھا، تمہیں کیسے معلوم ہے کہ اس کا گھر بہت دور ہے؟‘‘۔جاوید یہ سن کر بوکھلا گیا اورگھگھیاتے ہوئے بولا، ’’ میں بھول گیا تھا، میں اس کے گھربہت دن پہلے گیا تھا، لیکن کل نہیں گیا تھا‘‘۔ 

استاد نے غصے سے چیختے ہوئے کہا، ’’ ابھی تک جھوٹ بول رہا ہے، چل میرے ساتھ ہیڈماسٹر کے کمرے میں‘‘۔وہ اسے لے کر ہیڈماسٹر کے کمرے میں آئے اور انہیں ساری بات بتائی۔ ہیڈ ماسٹر نے کہا ’’اس کی تلاشی لو، انگوٹھی اسی کے پاس سے نکلے گی‘‘۔ استاد نے جب جاوید کی جیبوں کی تلاش لی تو ایک جیب سے انگوٹھی نکل آئی۔ یہ دیکھ کر انہوں نے جاوید کو ہیڈماسٹر کے سامنے ہی سزا دی، جب کہ ہیڈماسٹر نے اسے یہ کہہ کر اسکول سے نکال دیا کہ ہمارے اسکول میں جھوٹے اور چور لڑکوں کا کام نہیں ہے۔ اس دوران حامد اپنے بھائی کے ساتھ واپس آچکا تھا، ماسٹر صاحب نے اسے ہیڈماسٹر کے کمرے میں ہی بلوا کر اس کی انگوٹھی اس کے حوالے کردی۔