• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر پختونخوا کی اپوزیشن کا احتجاج

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہورہی ہے، چاروں صوبوں میں بڑے جلسوں کے ذریعے بھر پور سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے بعد اب اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کیلئے کمر بستہ ہیں، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے منتخب ارکان کو 31دسمبر تک پارٹی قائدین کے پاس اپنے استعفے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے بلکہ نواز شریف نے تو پی ڈی ایم جماعتوں کو استعفے اکٹھے کرکے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز دی ہے جنہیں وہ لانگ مارچ کے اختتام پر سپیکر کو پیش کردیں گے۔

اگرچہ تحریک انصاف حکومت اور وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن ارکان استعفیٰ دیں گے تو وہ ضمنی انتخابات کرادیں گے تاہم یہ اتنا آسان ہوگا نہ ہی حکومت کو اپوزیشن کے استعفوں کو اتنا ہلکا سمجھنا چاہیے کیونکہ اپوزیشن کے استعفوں سے یقیناً ملک میں بدترین سیاسی بحران پیدا ہوگا، اگر اپوزیشن کے ار کان اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوان بے وقعت ہوجائیں گے، سینیٹ انتخابات خطرے میں پڑ جائیں گے بلکہ اپوزیشن کے لانگ مارچ اور احتجاج سے صورت حال انتہائی خطرناک حد تک بگڑ جائےگی۔ 

اس وقت اپوزیشن جماعتیں کسی بھی صورت2021کے سینیٹ انتخابات سے قبل حکومتی نظام لپیٹنے کےلئے سب کچھ داؤ پر لگا کر سرگرم عمل ہیں تو حکومت کی بھی کوشش ہے کہ کسی طرح سینیٹ انتخابات کرالئے جائیں کیونکہ سینیٹ انتخابات ہوگئے تو تحریک انصاف کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہوجائے گی جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومت کےلئے اپنی 5سالہ آئینی مدت پوری کرنا بھی آسان ہوجائیگا ،اسی لئے حکومت نے پی ڈی ایم کے احتجاجی شیڈول اور حکمت عملی کو ڈسٹرب کرنے کےلئے مارچ کی بجائے فروری میں شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے اور اس مقصد کےلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگرچہ اس کےلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی تاہم حکومتی اعلان کے بعد اب شاید اپوزیشن کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے لانگ مارچ سے قبل ہی استعفے دینے پڑیں گے۔ 

اگر حکومت مخالف احتجاج کے تناظر میں خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کے فیصلہ کی روشنی میں استعفے جمع کرانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، جمعیت علمائے اسلام کے تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنے استعفے صوبائی تنظیم کی وساطت سے پارٹی کی مرکزی قیادت کو ارسال کردئیے ہیں، اسی طرح خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن کے منتخب ارکان نے بھی اپنے استعفے صوبائی صدر امیر مقام کے پاس جمع کئے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی اپنے استعفے تیار کررکھے ہیں جو وہ پارٹی قیادت کے حکم پر جمع کرائیں گے، پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کیلئے ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی اپوزیشن کارکنوں کو منظم اور متحرک کرنے کےلئے احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کا شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق23دسمبر کو مردان،6جنوری کو بنوں اور16جنوری میں پشاور میں ریلی اور جلسہ ہوگا جس سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔ 

یوں اس وقت ملک کا سیاسی درجہ حرارت پورے عروج پر ہے، حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اوردونوں ہی اپنےرویہ میں لچک پیدا کرنے کیلئے تیار نہیں ، دوسری جانب ملک میں احتجاج کی فضا کو دیکھتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے بھی تین دن تک میدان گرم کئے رکھا، اپوزیشن ارکان نے صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم کیخلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ’’ میوزیکل احتجاجی دھرنا‘‘ دیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پارٹی ترانوں اور پشتو دھنوں پر رقص بھی کیا ، صوبائی حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی بجائے احتجاجی ارکان کیلئے شامیانے اور کرسیوں کا بندوبست کیا بلکہ پہلے دن وزیر اعلیٰ محمود خان نے سرد موسم میں گرم چائے ، کیک اور بسکٹ بھجوا کر اپوزیشن ارکان کی مہمان نوازی کی ، دوسری دن سپیکر مشتاق غنی نے دوپہر کا کھانا بھجوا کر احتجاجی اپوزیشن ارکان کی تواضع کی، احتجاجیوں کاموقف تھا کہ اڑھائی سال سے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ 

حکومتی ارکان میں فنڈز کی بندر بانٹ جاری ہے مگر اپوزیشن ارکان کے حلقوں کے عوام کو محروم رکھا جارہا ہے بلکہ حکومتی ایم این ایز کو بھی صوبائی فنڈز سے نوازا جارہا ہے حالانکہ صوبہ کے وسائل پر عوام کا مساوی حق ہے، جب اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا تو اس وقت حکومتی ارکان نے وزیر اعلیٰ محمود خان کو مشورہ دیا کہ اپوزیشن کیساتھ کوئی رابطہ نہ کیا جائے چنانچہ ابتدا ئی دو دن اپوزیشن کیساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ، تیسرے دن بعض وزرا نے اپوزیشن کیمپ میں جاکر انہیں وزیر اعلیٰ کیساتھ ملاقات کی دعوت دی جس پر اپوزیشن فورا احتجاجی دھرنا ختم کرکے وزیر اعلیٰ کیساتھ ملاقات کیلئے تیار ہوگئےاورپانچ رکنی اپوزیشن وفد نے وزیر اعلیٰ کیساتھ مختصر ملاقات کی جس نے وزیر اعلیٰ کو اپنے حلقوں کے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے وقت دینے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ 

جبکہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپوزیشن کے مسائل حل کرنے اوران کے تمام ترجیحی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنا نے کی یقین دہانی کرائی ، ایسا لگ رہا ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج صرف وزیر اعلیٰ کیساتھ ملاقات کرنے کیلئے ہی تھا کیونکہ اپوزیشن ارکان پہلے ہی رابطے پر ڈھیر ہوکر احتجاج ختم کرکے ملاقات کیلئے تیار ہوگئے ، درحقیقت اپوزیشن کا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کتنا حقیقی تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیونکہ احتجاجیوں نے جس انداز میں پشتو دھنوں پر رقص کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے ارسال کردہ سامان تواضع پر ہاتھ صاف کیا اس نے ان کے احتجاج سے متعلق یقیناً منفی تاثر پیدا کیا۔ 

اگر حزب اختلاف کے ارکان وزیر اعلیٰ کی چائے کو ٹھکرا دیتے تو یہ ایک موثر اور سنجیدہ احتجاج تصور کیا جاتا مگر احتجاج کے پہلے ہی دن وزیر اعلیٰ کی مہمان نوازی کو نہ صرف قبول کرنا بلکہ اس پر وزیر اعلیٰ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا اس احتجاج کو نورا کشتی قرار دینے کیلئے کافی ہے جس سے بلاشبہ اپوزیشن ارکان کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید