آپ آف لائن ہیں
منگل24؍رجب المرجب 1442ھ 9؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک آدمی سامان لے کر سڑک پر بہت تیز دوڑ رہا تھا۔

ایک پولیس سارجنٹ نے اسے روک کر پوچھا،’’بھائی ! تم کہاں بھاگ رہے ہو‘‘

اس آدمی نے کہا’’میں اپنی بیوی کے لیے چیزیں خرید کر لے جا رہا ہوں۔‘‘

’’مگر اس میں دوڑنے کی کیا بات ہے؟‘‘ سارجنٹ نے تعجب سےپوچھا۔

’’میں بھاگ اس لیے رہا ہوں، اگر میں دیر سے گھر پہنچا تو کہیں فیشن نہ بدل جائے اور دوبارہ بازار آنا پڑے۔‘‘

************************

ایک طالب علم نے اپنے اسکول ٹیچر کو چھٹی کی درخواست دی کہ اس کے دادا کی شادی ہے، لہذا اسے دو روز کی چھٹی دی جائے۔

استاد نے درخواست پڑھ کر طالب علم کر بلا کر کہا،’’ تمہارے دادا اس عمر میں شادی کررہے ہیں؟‘‘

طالب علم نے جواب دیا، ’’جناب ان کا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے میں چھٹی لینے کے لیے زبردستی ان کی شادی کرارہا ہوں۔‘‘

************************

بیٹا باپ سے،’’ ابو مرد کسے کہتے ہیں؟‘‘

باپ، ’’ مرد اس پاورفل شخص کو کہتے ہیں، جس کی حکم رانی اس کے گھر میں ہوتی ہے۔‘‘

بیٹا، ’’ پھر تو بڑا ہوکر میں بھی امی جیسا مرد بنوں گا جن کا ہمارے گھر پر حکم چلتا ہے۔‘‘

************************

ایک بچہ دوسرے بچے سے، ’’پتہ ہے یار، میرے ابواتنے بڑے ہوکر بھی ڈرتے ہیں۔ اکثرڈر کے مارے میرا سہارا لیتے ہیں۔‘‘

دوسرا بچہ ، ’’ وہ کیسے؟‘‘

پہلا بچہ،’’جب بھی سڑک پار کرنے لگتے ہیں تو ڈر کے مارے میرا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔‘‘

************************

گھر پر لیڈی ٹیوٹر بچوں کو پڑھارہی تھی، پڑھاتے ہوئے اس نے بچوں سے سوال کیا،’’بچو بتاؤ، یقین اور وہم میں کیا فرق ہے؟‘‘

ایک بچے نے جواب دیا،’’میڈم آپ اس وقت ہمیں پڑھا رہی ہیں یہ یقین ہے اور ہم پڑھ رہے ہیں یہ آپ کا وہم ہے۔‘‘

************************

ایک صبح ٹیچر کلاس روم میں کیمرہ لےکر آئیں اور بچوں سے کہا کہ ’’ آج میں آپ سب کے ساتھ یادگار تصویر بنوانا چاہتی ہوں تاکہ جب آپ بڑے ہوجائیں توتصویر دیکھ کر اپنے بچوں کو بتایا کریںگے کہیہ کاشف ہےجو اب بڑا انجینئر بن گیا ہے، یہ مریم ہےجو ڈاکٹر بن گئی ہے، یہ آصفہ ہے جس کے امی ابو اس کی شادی کے لیے رشتہ تلاش کررہے ہیں،یہ نعیم ہےجو ابھی تک کنوارہ ہے

یہ عبدالجبار ہے، یہ ترقی کرکے ایک فرم کا چیئرمین بن گیا ہے،وغیرہ وغیرہ ۔‘‘

اتنے میں پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے بچوں میں سے ایک کی آواز آئی، ’’اورمس، یہ ہماری ٹیچر ہیں، جو اب فوت ہوچکی ہیں۔‘‘