آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عائشہ واجد

نور العین دس سال کی ذہین بچی تھی۔ اس کے والد ملازمت پیشہ آدمی تھے جنہیں ہر ماہ اتنی تنخواہ ملتی تھی جس سے ان کے خاندان کا عزت کے ساتھ گزارہ ہوجاتا تھا۔ نو ر اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اس کا گھرخاصا بڑا تھا لیکن اس کی دیواریں اور چھت کئی سالوں سے رنگ روغن کی محتاج ہونے کی وجہ سے بھدی لگتی تھیں جس کانور کو زیادہ احساس تھا۔ ’’ ماما جانی! ہم اپنے گھر میں رنگ روغن کیوں نہیں کراتے ؟‘‘ ایک روزنور العین نے نہایت اداسی سے اپنی ماما سے پوچھا جو کچن میں کھڑی کھانا پکا رہی تھیں ...

دو دن سے نور کا یہ سوال ماما بار بار سن رہی تھیں ...اس روز ان سے برداشت نہ ہوا تو انہوں نے اپنی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نور جانی! دیکھو اللہ نے ہمیں کتنا بڑا گھر دیا ہے ، کسی روز وہ رنگ بھی کرا دے گا‘‘، یہ کہہ کر وہ کچن کے کاموں میں مصروف ہو گئیں ..

نور اپنے گھر کو دیکھنے لگی ساری دیواریں اسے کالی اور بھدی لگتی تھیںوہ تو اپنے گھر کوانتہائی خوب صورت دیکھنے کی متمنی تھی۔گھر کی حالت اور ماں کا رویہ دیکھ کر وہ اتنی اداس ہوگئی کہ اس نےدو دن تک کسی سے بات نہیں کی ۔

شام کو نور کے ماما اور بابا اسے گھمانے لے گئے تاکہ اس کی اداسی ختم ہوجائے..

راستے میں نور کو بہت پیارے رنگوں والے گھر نظر آنے لگے تو اس کے دل میں مزید خواہش ابھری کہ کاش ہمارا گھر بھی ایسا ہو . اس نے پھر اپنی ماما سے کہا "دیکھئے ماما ! کتنے پیارے لگ رہے ہیں یہ گھر ! کاش ! ہمارا گھر بھی ایسا ہو۔‘‘

ماما کو نور کی بہت فکر تھی اور وہ یہی سوچ رہی تھیں کہ نور کے اس احساس کو کیسے ختم کیا جائے . اس لئے نور کے ماما بابااسے دوسرے روز بھی باہرلے گئے تاکہ اسے باہر کی خوش گوار فضا میں سیر کراکے اس کا موڈٹھیک کریں۔ نور کو اسٹیشنری بہت پسند تھی . جیسے ہی وہ اسٹیشنرز شاپ پر پہنچے نور کے سارے دکھ ختم ہوگئے۔

"ماما جان ! ہم یہاں کیا لینے آئے ہیں؟ " نور نے چہک کر ماما سے پوچھا .

’’اپنی پیاری بیٹی نورالعین کے لئے بہت سارے کلرز اور ڈرائینگز لینے‘‘ ماما نے پیار سے جواب دیا۔

گھر پہنچتے ہی نورالعین اپنی ماما سے پوچھنے لگی .." ماما ہم کون سی ڈرائنگ بنائیں آج ؟ "

ماما مسکرائیں اور بولیں، " آپ دنیا کی سب سے پیاری ڈرائنگ بنائیے!"

نورالعین بےچینی سے پوچھنے لگی .. "سب سے پیاری ڈرائنگ...؟ ایسا کیا بناؤں ماما میں ؟؟ "

ماما نے کہا "آپ.. بنائیں... سب سے....خوبصورت....گھر"

"سب سے خوبصورت گھر؟" نور نے آنکھیں سکیڑ کر ماما سے کہا.

"ہاں! میری جان! سب سے خوبصورت گھر ،آپ کو معلوم ہے نور سب سے خوبصورت گھر کون سا ہے....؟" ماما نے پیار سے نور سے پوچھا..

نور چڑ کر بولی"ہمارے گھر کے علاوہ کوئی سا بھی گھر ہو سکتا ہے"

ماما اس کے غصے پر ہنس دیں اور کہنے لگیں "نورالعین! ماما کی جان! سب سے خوبصورت گھر جنت ہے. آپ جانتی ہیں وہاں سب کچھ ہوگا . باغ، نہریں ، شاہی تخت جیسے بادشاہوں کے ہوتے ہیں اور خوبصورت گھر کپڑے ، لذبذکھانے اور بہت کچھ..."

"ماما جان کیا جنت میں ہم رانیوں کی طرح رہیں گے ؟؟" نور نے بڑے شوق سے ماما سے پوچھا.

"بالکل! میری نور تو ماشااللہ بہت اچھا اندازہ لگا لیتی ہے." ماما نے خوشی سے نور کو گلے لگا کر کہا .

"ماما! ہم جنت میں کیسے جائیں گے؟" نور نے انتہائی بھولے پن سے اپنی ماما سے سوال کیا۔

"نورالعین جنت میں جانے کے لئے ہمیں تھوڑی سی محنت کرنی ہوگی"ماما نے پیار سے اسے کہا...

"آپ بتائیں ماما! میں اپنی طرف سے پوری محنت کروں گی" نور پورے جوش میں بولی....

"ہمیں اللہ کی عبادت کرنی ہے ، اس کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد ٹھیک کرنا ہے بجائے اس دنیا کے گھر سنوارنے کی اپنی آخرت کا گھر سنوارنے کی فکر کرنی ہے . اگر ہم اپنی خواہش کو پورا کرنےکی کوشش کرتے رہیں گے تو نور! ہم جنت کھودیں گے . ہمیں اپنی خواہشات کے پیچھے نہیں دوڑنا ، بلکہ ہمیں سوچنا ہے کہ اللہ ہم سے کیسے خوش ہوں گے-...."

"ماما جان! بس آپ کو اب کچھ بولنے کی ضرورت نہیں! میں سمجھ گئی مجھے جنت ہی چاہیے! اور آج میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آئندہ جو بھی کروں گی وہ اللہ کو خوش کرنے کے لئے کروں گی " نورالعین نے پورے عزم سے ماما کا ہاتھ پکڑ کر وعدہ کیا....

ماما نے پیار سے نور کا ماتھا چوما اور کہا "چلو اب مل کر خوبصورت گھر بنائیں".......