• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 2020ءکے آغاز پر آزاد کشمیر کے بالائی اضلاع نے برف کی چادر اوڑھ رکھی تھی اوردسمبر کی طرح جنوری بھی برف باری و یخ بستہ ہواؤں کے حصار میں تھا۔ وزیرِ سیاحت و اطلاعات ،راجہ مشتاق احمد منہاس اورسیکریٹری سیاحت و اطلاعات، مدحت شہزاد کی کوششوں سے ریاست جمّوںو کشمیر کی ثقافت اُجاگر کرنے کے لیے بَھرپور اقدامات ، مختلف سیّاحتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جیسے ’’یومِ پھیرن(فیرن) و کانگری‘‘، وادی سماہنی میں پہاڑی میلہ ، باغ گنگا چوٹی ، لسڈنہ میں یادگار ایونٹس کا انعقاد ، سراں پیر چناسی میں دورانِ برف باری جیپ ریلی کا انعقاد ، منگلا جھیل میں مچھلی کاشکار ، موٹر بائیکس ، موٹر بوٹس کے مقابلےاور اڑنگ کیل (نیلم ویلی) میں سیّاحتی پروگرامز وغیرہ کے انعقاد نے جنّت ارضی کومزید دل کش و خوش گوار بنایا، لیکن بد قسمتی سے عالمی گیر وبا،کورونا وائرس نے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح سیاحتی و ثقافتی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا۔ 

میڈیکل سپرٹنڈنٹ، ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ اسپتال ،ڈاکٹر فاروق احمد نور کے مطابق ’’آزاد کشمیر میں اب تک تادمِ تحریر 86,490افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹس ہوئے ، جن میں سے 7,278افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ واضح رہے کہ متاثرین میں سے 5,629 افراد صحت یاب ہو چُکےہیں، جب کہ 1,472 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں اور177مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔ کوروناوائرس سے متاثر ہونے والی اہم شخصیات میں آزاد کشمیر کے اپوزیشن لیڈر، چوہدری محمد یاسین ، سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق، وزیرِ برقیات ،راجہ نثار احمد ، وزیرِ اطلاعات و سیّاحت راجہ مشتاق منہاس وغیرہ شامل ہیں۔علاوہ ازیں، کووڈ 19 کے پیشِ نظردو مرتبہ مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا۔ 

منہگائی کی بات کی جائے تو سال 2020ءمیں مشکل ترین وقت میں بھی اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں، جب کہ بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی زندگیاں مزید دشوار بنائیں۔ تاہم، وفاقی حکومت کی جانب سے ’’احساس کیش‘‘ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر میں 2لاکھ 31ہزار 757مستحقین میں مجموعی طور پر 2ارب 82کروڑ 68لاکھ 25ہزار روپے تقسیم کیے گئے ۔

سالِ گزشتہ بھی بارڈر پر بھارت کی جانب سے مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ، تادمِ تحریر بھارتی گولہ باری کے نتیجے میں 34افراد شہید،227زخمی ، 28مکانات ،20دُکانیں مکمل تباہ ہو ئیں اور 396گھروںکو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ بھارتی افواج نے 2,737بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں، تو جوابی کارروائی میں افواجِ پاکستان نے دشمن کوجانی و مالی نقصان پہنچانے کے علاوہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر 11بھارتی ڈرونز بھی مار گرائے ۔ حکومتِ آزاد کشمیر نے ایل او سی پر سول آبادی کے لیے ایک لاکھ بنکرز بنانےکا فیصلہ کیا،جس کے لیےگیارہ کروڑ ،ستّر لاکھ روپے فراہم کیےگئے، جب کہ قبل ازیںبھی 3کروڑ روپے دئیے گئےتھے ۔ 

دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصّرین نےایل او سی پر بھارتی افواج کی جارحیت کے نتیجے میں متاثر ہونے والے ،سماہنی سیکٹر کا دَورہ کیا۔ وفاقی حکومت نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جمّوںو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے تناظر میں ’’کشمیر ہائی وے، اسلام آباد‘‘ کا نام تبدیل کرکے ’’سری نگر ہائی وے‘‘ رکھ دیا ، جب کہ وزیرِاعظم آزاد کشمیر، راجہ فاروق حیدر خان نے سری نگر کے تاریخی لال چوک کی طرز پر دارالحکومت، مظفّرآباد میں تعمیر ہونے والے لال چوک کا افتتاح کیا اور کشمیری عوام کی جہدِ مسلسل کے اعتراف میں میرپور تا سماہنی روڈ ،براستہ پیر گلی کو’’شاہ راہِ جمّوں ‘‘اور آزاد پتن تا چکاں دا باغ(تیتر ی نوٹ) رُوٹ، براستہ راولاکوٹ کو ’’شاہ راہِ پونچھ‘‘ کے نام سے منسوب کر دیا ۔ 

وزیرِاعظم پاکستان، عمران خان نے ”یومِ استحصال کشمیر“ کے موقعے پر مظفّرآباد میں کشمیریوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے صدر آزاد کشمیر ، سردار مسعود خان اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کی اور اس موقعے پر مظفّرآباد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کی یاد میں ”جمّوںو کشمیر مونومنٹ“ کا سنگِ بنیاد رکھا۔ سری نگر میں مقیم 88سالہ بزرگ حرّیت رہنما ،سیّد علی گیلانی کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقعے پر مُلک کے سب سے بڑے سوِل اعزاز، ”نشانِ پاکستان “ سے نوازا گیا ۔واضح رہے کہ یہ اعزاز صدرِ پاکستان ، ڈاکٹر عارف علوی نے سیّد علی گیلانی کے نمایندے،سیّد عبد اللہ گیلانی کو ایوانِ صدر میں ایک خصوصی تقریب میں دیا۔

رواں سال (2021ء)میںآزادکشمیر میں ہونے والے عام انتخابات کی بات کی جائے توسیاسی مبصّرین کا خیال ہے کہ گزشتہ سال گلگت بلتستان میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کےاثرات یہاںہونے والے انتخابات پر بھی پڑیں گے، جب کہ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ چوں کہ یہاں انتخابات کا تسلسل 1985ء سےقائم ہے، توانتخابی عمل جاری رہنے اور عوام میں سیاسی شعور ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے لیے اکیلے حکومت بنانا ممکن نہیں ہوگا۔ 

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد کشمیر میں مہاجرینِ جمّوںو کشمیر، مقیم پاکستان کی 12نشستوں اور آزاد کشمیر کی 33نشستوں کے لیے نئی فہرستیں مرتّب کرنے کا عمل اورسیاسی جماعتوں کی جانب سےانتخابی مہم کا آغاز سالِ گزشتہ ہی ہو چُکا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہاں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 21نومبر 1991ءمیں مجاہدِ اوّل، سردار محمّد عبدالقیوم خان (مرحوم )نے بحیثیت وزیر ِ اعظم کروائے تھےاورتب سے اب تک ایک بھی وزیرِ اعظم دوبارہ بلدیاتی انتخابات کروانے میں کام یاب نہ ہو سکا۔ گرچہ انتخابات کروانے کا اعلان تو سب کرتے ہیں،لیکن 2020ءبھی گزر گیا اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا ۔ 

سال 2020ءمیں آزاد کشمیر کو یہ اعزازحاصل ہوا کہ میرپور سے تعلق رکھنے والی شہرہ ٔآفاق شخصیت، کرنل (ر) راجہ عدالت (مرحوم ) کے پوتے ،ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری، راجہ معروف افضل کو چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن تعیّنات کیا گیا ، تودوسری جانب آزاد جمّوںو کشمیر بار کاؤنسل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بنتِ کشمیر، نبیلہ ایّوب ایڈو و کیٹ ، وائس چیئرپرسن جمّوںو کشمیر بار کاؤنسل منتخب ہوئیں۔یہی نہیں، آزاد کشمیر کی خواتین ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیّتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، جیسے مدحت شہزاد، سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر ، تہذیب النسا،کمشنر مظفرآباد ڈویژن اوربینش جرال، اسسٹنٹ کمشنرکے عہدے پر فائز ہیں۔جب کہ صحافتی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحصیل پریس کلب عباس پور میں سائرہ یوسف چغتائی دوسری بارصدر منتخب ہوئیں ۔

2020ء میں 13ویں آئینی ترمیم کے بعد ایڈیشنل چیف سیکرٹری(جنرل) فرحت علی میر کی سربراہی میں محکمہ اِن لینڈ ریونیو کی کارکردگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ کمشنر آزاد جمّوںو کشمیر ، اِن لینڈ ریونیو، سردار ظفر محمود خان کے مطابق’’ کورونا وائرس کے باوجود ٹیکسز کی مَد میں ریونیو حاصل کرنے کا ٹارگٹ 1ملین سے زائدرہا ،حالاں کہ 17ارب روپے کے شارٹ فال کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ لیکن الحمد ُللہ ، معمولاتِ ریاست کی مکمل بحالی نہ ہونے کے باوجود بھی یہ خسارہ پورا کر لیا گیا ۔ 

انکم ٹیکس کی مَد میں ساڑھے 16ارب روپے کی ریکوری ہوئی، یوں انکم ٹیکس کے نفاذ کے بعد سالانہ تقریباً 5سے 7ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر حکومت کو سال ہا سال سے اوور ڈرافٹ کی بنیاد پر ملازمین کو تن خواہ دینے کی مالی دشوار ی سے نجات ملی ۔‘‘اسی طرح ایک سال کی تاخیر کے بعد ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ، سردار نعیم شیراز کواحتساب بیورو کا چیئرمین مقررکر دیا گیا ۔ احتساب بیورو چیئرمین کی تعیّناتی اور احتساب ایکٹ میں ترامیم سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس ادارے میں بہتری آئے گی ۔

31مارچ کو سابق چیف جسٹس، چوہدری محمد ابراہیم ضیا کی ریٹائرمنٹ کے بعد یکم اپریل کو جسٹس راجہ سعید اکرم نے بحیثیت قائم مقام چیف جسٹس آزاد جمّوں و کشمیر ،عدالتِ عظمیٰ حلف اٹھایا ، جب کہ عدالت ِعالیہ کے سابق چیف جسٹس آفتاب علوی کی ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں سروس سے فراغت کے بعد سینئر جج عدالتِ عالیہ، جسٹس اظہر سلیم بابر نے بحیثیت قائم مقام چیف جسٹس ،ہائی کورٹ عہدے کا حلف اٹھا یا۔نیز، 17جولائی کوہائی کورٹ میں 5ججز کی غیر آئینی تقرّری پر سپریم کورٹ نے ایک تفصیلی فیصلے میںیہ تقرّری کالعدم قرار دے دی ۔

یکم نومبر وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے اعلان پر سوِل سوسائٹی، وکلاءبرادری اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے پورے آزاد کشمیر میں احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں کا موقف تھا کہ ’’ہم گلگت بلتستان کو آئینی حقوق اور مراعات ملنے کے حق میں ہیں، تاہم بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو جبری طور پر بھارت میں ضم کرنے کے بعد گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا مودی سرکار کے فیصلے کی تائید سمجھی جائے گی ۔ جس سے سفارتی محاذ پر پاکستان اور کشمیر کاز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔‘‘

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ریجن ،لدّاخ میں چین اور بھارتی افواج کے مابین سرحدی کشیدگی اور لائن آف کنٹرول پر آزاد کشمیر کی سوِل آبادی پر بھارتی گولہ باری کے باعث سال بھرخطّےمیں جنگ کے بادل منڈلاتے رہے ۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مابین چلنے والی بس سروس اور تجارت بھی غیر علانیہ طور پرمعطّل رہی ۔یاد رہے، ستمبر 2020ءکے اوائل میں پاکستان کی بروقت اور کام یاب سفارت کاری نے مسئلہ کشمیر کو سلامتی کاؤنسل کے ایجنڈے سے ہٹانے کا بھارتی منصوبہ بھی ناکام بنایا ۔

اگر آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا جائے تو سالِ گزشتہ بھی کچھ خاص پیش رفت نظر نہیں آئی کہ 2003ء میں منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے لیے، واپڈا، آزاد کشمیر حکومت اور وفاق کے مابین طے پانے والا معاہدہ 2020ء میں سترہ برس گزرنے کے باوجودپایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اس معاہدے کے مطابق متاثرینِ منگلا ڈیم کی لازوال قربانیوں کے اعتراف میں4ارب 89کروڑ روپے کی لاگت سے میرپور اور اسلام گڑھ کے درمیان منگلا ڈیم پر 7کلومیٹر رٹھوعہ/ہریام پل تعمیر کیا جانا تھا، جسے 2007ء میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا، مگر17سال گزرنے کے باوجود بیورو کریسی میں بیٹھی چند کالی بھیڑوں اور ٹھیکے دار مافیا کی ملی بھگت کی وجہ سے یہ وعدہ تا حال تشنۂ تعبیر ہے۔ 

اس سلسلے میں مرکزی چیئرمین منگلا ڈیم توسیع کمیٹی اور مسلم لیگ (نون)کے اقتصادی امور بورڈ کے چیئرمین ،محمد عارف چوہدری کا کہنا ہے کہ ’’ مبیّنہ کرپشن کی وجہ سے اب منصوبے کی لاگت 6ارب روپے سے بڑھ چُکی ہے۔ 3پاکستانی اور2کشمیری بیورو کریٹس کی ملی بھگت سے چین کی کمپنی کے ٹھیکے دار سے رابطہ کیا گیا اور موقف اختیار کیا گیاکہ اب اس پر 5ارب روپے لاگت آئے گی، حالاں کہ اقتصادی رابطہ کاؤنسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی (ایکنک) نیشنل انجینئرنگ سروس پاکستان (نیسپاک)کے ڈیزائن کی پہلے ہی منظوری دے چُکی ہے۔ اب 5ارب پاس کروانے کے لیے ایکنک میں جانے کی ضرورت ہے،جس میں تاخیر ہو رہی ہے ۔ اس کے باوجودوفاقی حکومت اس کی تکمیل کےلیےمزید 60کروڑ روپے فراہم کرچُکی ہے ، لیکن مبینہ طور پر کمیشن مافیا اور حکومت کی چشم پوشی کے باعث یہ قومی منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

”مِنی لندن “ کے نام سے موسوم، آزاد کشمیر کا ضلع ،میرپور سال 2020ءمیںبھی وقفے وقفے سے زلزلوں اور آفٹر شاکس کی زد میں رہا ، حیران کُن طور پر یہ زلزلے صرف ضلع میرپور ہی تک محدود رہے۔اسی وجہ سے اہلیانِ میرپور نے اکثر راتیں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر گزاریں ۔یاد رہے کہ 24ستمبر 2019ءکو5.6کی شدّت سے میرپور، بھمبرمیں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 42انسانی زندگیاں لقمۂ اجل بن گئی تھیں،جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچّوں کی تھی اور 900سے زائد افراد زخمی ہوئےتھے ۔ لیکن سوا سال کے لگ بھگ عرصہ گزرنے اور متاثرینِ زلزلہ کی اربوں روپے کی املاک کی تباہی کی فہرست مکمل ہوجانے کے باوجود وفاقی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معاوضہ جات ادا نہیں کیے گئے ۔ 

سالِ گزشتہ جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیے حکومتِ آزاد کشمیر نے شکار پر 2سال کے لیے پابندی عائد کردی ، جسے عوامی سطح پر خُوب سراہا گیا۔علاوہ ازیں،ماضی قریب میں مالی لحاظ سے ریاست میں سب سے مضبوط اور آزاد کشمیر میں حکومتیں بنانے اور گرانے کی شہرتِ دوام رکھنے والا ادارہ’’ ترقیاتِ میرپور “ 2020ءمیں دیوالیہ ہو کر رہ گیا۔ آج اس ادارے کے پاس ملازمین کو تن خواہیںتک دینے کے پیسے نہیں۔ جناح ماڈل ٹاؤن اسکینڈل میں اربوں روپے کی کرپشن اور کروڑوں روپے مالیت کے پلاٹ سیاست دانوں ، بیورو کریٹس اور لینڈ مافیا میں بندر بانٹ کی وجہ سے تباہ ہونے والے اس ادارے کے بارے میں وزیرِ اعظم آزاد کشمیر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ’’اس کرپٹ ادارے کا ذکر سنتے ہی میرا خون کھول اُٹھتا ہے ۔ اقتدار میں آکر اس میں موجود کالی بھیڑوں کو الٹا لٹکا کر کرپشن کی پائی پائی وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرواؤں گا ۔‘‘ لیکن بد قسمتی سےاقتدار کے آخری سال تک پہنچنے کے با وجود وہ ایسا نہ کر سکے۔ آج بھی عوام کی نگاہیں وزیراعظم پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کب ادارے کے سابق سربراہان اور بعض موجودہ کرپٹ افسران و اہل کاروں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔

آزاد جمّوںو کشمیر کی حکومت نے مالی سال2020-21ءکے لیے ایک کھرب 39ارب 50کروڑ روپے حجم کاتاریخی ٹیکس فری عوام دوست بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں 1کھرب 15ارب غیر ترقیاتی میزانیہ، جب کہ 24ارب 50کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے تجویز کیےگئے ۔وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات کے لیے ساڑھے 24ارب روپے فراہم کیے ۔ تاہم، وزیرِاعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ ’’حکومتِ پاکستان نے وفاقی محصولات میں آزاد کشمیر کے طے شدہ شیئرپر، جو کہ 62.3ہے، 15ارب روپے کی کٹ لگائی، جب کہ اگر باقی صوبوں کو ان کا پورا حصّہ مل رہا ہے، تو آزاد کشمیر کو بھی پورا شیئر ملنا چاہیے۔اسی کٹ کی وجہ سے آئی ٹی کے ملازمین کو نارمل بجٹ سے تن خواہوں کی اَدائی نہیں ہو سکی۔‘‘

2020ءجاتے جاتے کشمیر کی کئی اَن مول شخصیات کو بھی ہم سے جدا کر گیا۔جیسے، چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن،سابق وفاقی سیکریٹری ،معروف افضل، سابق وزیر محمّد مطلوب انقلابی ، سابق ا سپیکر سردار غلام صادق، جواں سال تحصیل دار برنالہ، راجہ ناصر اورنگزیب ، سابق ایس ایس پی ابرار حیدراور سینئر صحافی ، سید عتیق گردیزی وغیرہ کی اچانک رحلت نے پورے مُلک کی فضا سوگوار کردی۔

سنڈے میگزین سے مزید