• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال کی طرح 2020ء میں بھی بہت سے چہرے، باتیں خبروں میں اِن رہیں، تو بہت کچھ منظر سے غائب بھی ہوا۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ گزشتہ برس کس کے ساتھ کیا ہوا؟

دیگر امراض آؤٹ،کورونا اِن

گزشتہ برس سب سے زیادہ خبروں میں رہنے والا کوئی انسان یا جانور نہیں، بلکہ ایک وائرس تھا، جسے کووِڈ 19 یا عرفِ عام میں ’’کورونا وائرس‘‘ کے نام سے شناخت ملی۔ اِس وائرس نے2019ء کے آخر میں عالمی منظر نامے میں جگہ بنائی اور پھر 2020ء میں یہ پوری دنیا پر مکمل طور پر چھایا رہا۔یہ وائرس جہاں بھی پہنچا، اس سے بچاؤ کے لیے تالا بندی ضرور کرنی پڑی۔ شروع میں یورپی ممالک، خاص طور پر اٹلی، فرانس زیادہ متاثر ہوئے اور پھر اس کا رُخ یورپ سے امریکا اور جنوبی امریکا کی طرف ہوگیا۔ 

اس وائرس نے امریکا میں تقریباً تین لاکھ لوگوں کی جان لی، جو دنیا میں اِس وبا کے ہاتھوں سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔ اگر پاکستان کی بات کریں، تو یہاں حکومت کی ناقص کارکردگی اور عوام کی لاپروائی کے باوجود خدشات سے کم نقصان ہوا۔حالاں کہ پڑوسی ممالک، بھارت، ایران اور چین کورونا سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ گو کہ سال کے آخری دنوں میں امریکا اور برطانیہ نہ صرف کورونا ویکسین بنانے میں کام یاب رہے، تاہم اس سب کے باوجود کورونا وائرس اِن ہی رہا اور اِس کے مستقبل قریب میں آؤٹ ہونے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آرہا۔

ٹرمپ آئوٹ، جوبائیڈن اِن

گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں شکست کے باعث اپنا سامان باندھنا ہی پڑا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدار میں جو کارکردگی دِکھائی، اس کی بنیاد پر یہی خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ انتخابات میں شکست کھا جائیں گے اور ایسا ہی ہوا، مگر حسبِ توقّع اُنھوں نے مخالفین پر دھاندلی کے الزامات عاید کیے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار، جوبائیڈن نے ٹرمپ سے عُمر میں چار سال بڑے ہونے کے باوجود بھرپور مہم چلائی۔یوں ٹرمپ آہستہ آہستہ منظر سے غائب ہوتے گئے اور امریکا کے نومنتخب صدر، جوبائیڈن کی خبروں میں جگہ بنتی گئی۔

پومپیو آئوٹ، کملا ہیرس اِن

پومپیو امریکی نائب صدر کی دوڑ میں شریک تھے، لیکن ٹرمپ کی شکست کے باعث اُنھیں بھی مقابلے سے آئوٹ ہونا پڑا اور کملا ہیرس، جوبائیڈن کی فتح کی بدولت وائٹ ہاؤس میں اِن ہوگئیں۔بھارتی نژاد کملا ہیرس اچھی شہرت کی حامل ہیں۔ اُنہوں نے امریکی قانون کے شعبے میں خاصی کام یابیاں حاصل کی ہیں۔

نواز شریف آئوٹ، مریم نواز اِن

2020ء میں پاکستان کے قومی منظر نامے سے آئوٹ ہونے والوں میں نواز شریف بھی شامل رہے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ وہ خبروں سے بالکل ہی غائب ہوگئے اور مریم نواز نے اُن کی جگہ سنبھال لی۔ پھر کچھ عرصے کے لیے وہ بھی پُراسرار طور پر خاموش ہوگئیں۔تاہم، سال کے آخری مہینوں میں وہ اپنے والد کے بیانیے’’ووٹ کو عزّت دو‘‘ کو لے کر اُٹھیں، تو سیاست میں ہل چل مچ گئی۔ اُنہوں نے اپنی بھرپور سیاسی اینٹری کی بدولت نہ صرف خود کو خبروں میں اِن رکھا، بلکہ نواز شریف کو بھی اپوزیشن کے جلسوں سے خطاب کی صُورت مُلکی سیاست میں اِن کردیا۔ البتہ مجموعی طور پر مریم نواز ہی سیاسی طور پر زیادہ اِن رہیں۔

آصف زرداری آئوٹ، بلاول اِن

مسلم لیگ نون کی طرح پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین، آصف زرداری بھی خبروں سے نسبتاً آئوٹ رہے اور اُن کی جگہ بلاول بھٹو زرداری نے اِن ہونا سیکھ لیا۔ آصف زرداری اِتنے ضعیف تو نہیں ہوئے کہ سیاسی سرگرمیوں کو خیرباد کہہ دیں، مگر طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے اور مسلسل دبائو کے باعث اُن کی صحت خاصی متاثر ہوئی، اِسی لیے اُنہوں نے خبروں میں زبردستی اِن رہنے کی کوشش نہیں کی۔اُن کے مقابلے میں بلاول نوجوان ہیں اور پُرعزم بھی۔ اُنہوں نے جلسوں میں شان دار کارکردگی دِکھائی اور اپنے دوٹوک مؤقف سے اپنے مداحوں کے دِل جیت لیے۔

فردوس عاشق آئوٹ، شبلی فراز اِن

تحریکِ انصاف ویسے تو اپنے نو رتنوں کے ساتھ حزبِ مخالف پر سیاسی حملے کرنے میں خود کفیل ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ترجمانوں کی اُلٹ پلٹ جاری رہتی ہے۔فردوس عاشق اعوان’’ اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے‘‘ کے مِصداق ایسے ہی ترجمانوں میں شامل ہیں، جو باربار آئوٹ ہونے کے باوجود پھر اِن ہونے کا فن جانتے ہیں۔اُنھیں اچانک وزیرِ اعظم کے مشیرِ اطلاعات کے عُہدے سے آئوٹ ہونا پڑا اور اُن کی جگہ ایک نئی ٹیم اِن ہوگئی، جو شبلی فراز اور ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ پر مشتمل تھی، مگر اثاثوں سے متعلق خبریں سامنے آنے پر عاصم باجوہ اس ذمّے داری سے مستعفی ہوکر صرف سی پیک تک محدود ہوگئے، البتہ شبلی فراز اِن ہی رہے۔پھر ایک روز اچانک فردوس عاشق اعوان کے پنجاب میں مشیرِ اطلاعات کی حیثیت سے اِن ہونے کی خبر آئی۔

جج ارشد ملک آئوٹ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اِن

جج ارشد ملک اُس وقت خبروں میں اِن ہوئے تھے، جب اُنہوں نے اعتراف کیا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمے میں اُنھیں بلیک میل کیا گیا تھا۔مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں اُن کے اعترافی بیان پر مشتمل ویڈیو جاری کی، تو مُلکی سیاست میں بھونچال آگیا۔ ارشد ملک منصف کے عُہدے سے برخاست کردیئے گئے، مگر اُن کے کیے گئے فیصلے برقرار رہے اور پھر سال کے آخر میں ارشد ملک نے کورونا کے باعث دنیا ہی چھوڑ دی۔دوسری جانب، جسٹس فائز عیسیٰ بڑی شان سے خبروں میں اِن رہے اور اُنہوں نے اپنی عزّت و وقار برقرار رکھا۔ اُن کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس عدالتِ عظمیٰ کے ججز نے مسترد کردیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی آئوٹ، بابر ستار اِن

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی وجۂ شہرت اُن کی وہ تقریر بنی، جس میں اُنہوں نے بعض اداروں پر عدلیہ پر اثرانداز ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد وہ وقتاً فوقتاً خبروں میں رہے، مگر 2020ء میں مجموعی طور پر منظر سے آئوٹ ہوگئے کہ اُنھیں عُہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ بابر ستّار، جو نسبتاً ایک جوان اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک وکیل ہیں، اِس لیے بھی خبروں میں اِن رہے کہ اُنہوں نے جسٹس فائز عیسیٰ کے مقدمے میں اُن کی وکالت کی۔ پھر سال کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرّر ہوئے۔

داعش آئوٹ، طالبان اِن

گزشتہ برس داعش یا دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم خبروں سے نسبتاً آئوٹ رہی۔ اس تنظیم کو اُس وقت شہرت حاصل ہوئی تھی، جب اس نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا تھا۔2020ء میں افغان طالبان عالمی منظر نامے میں اِن رہے۔ 

قطر کے دارالحکومت، دوحا میں طالبان اور امریکا کے درمیان پاکستان کی مدد سے امن معاہدے پر دست خط ہوئے۔پھر طالبان نے افغان حکومت سے بھی مذاکرات کا آغاز کیا۔ اِس دَوران اُنھوں نے اپنے قیدی بھی رہا کروائے۔

ایران آئوٹ، اسرائیل اِن

ایران کو 2020ء میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا کی طرف سے جوہری معاہدے سے علیٰحدگی کے باعث یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنی پڑی، جسے دنیا نے اچھی نظروں سے نہیں دیکھا۔ پھر ایران میں کورونا کی تباہ کاریوں کے باعث بھی بہت نقصان ہوا اور ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے علاوہ، ایران کے دو بڑے رہنماؤں جنرل قاسم سلیمانی اور جوہری سائنس دان، محسن فخری زادے کے قتل سے بھی ایران کی سبکی ہوئی۔اس کے مقابلے میں اسرائیل نے ٹرمپ کی مدد سے عرب ممالک میں اپنے اِن ہونے کا اعلان کیا۔کئی عرب ممالک نے اُسے تسلیم کرتے ہوئے تجارتی اور سفارتی تعلقات قائم کیے۔

راہول گاندھی آئوٹ،مودی اِن

2020ء میں نریندر مودی اِس لیے اِن رہے کہ اُنہوں نے کشمیر کے بھارت سے یک طرفہ الحاق کے بعد وہاں کارروائیاں جاری رکھیں اور دیگر علاقوں سے آکر وہاں بسنے والوں کو خصوصی اجازت نامے جاری کیے۔پھر یہ کہ شہریت بل کے خلاف ہونے والے مُلک گیر مظاہروں اور کسانوں کے احتجاج کے دَوران کئی ماہ تک مودی سرکار کے اقدامات شہہ سرخیوں میں رہے۔اس کے مقابلے میں کانگریس کے رہنما، راہول گاندھی بالکل آئوٹ تھے اور اُن کی کوئی قابلِ ذکر سرگرمی سامنے نہ آسکی۔

افغان مہاجرین آئوٹ،روہنگیا مہاجرین اِن

افغان مہاجرین جو گزشتہ چالیس سال سے پاکستان اور ایران میں پناہ گزین ہونے کے باعث وقتاً فوقتاً خبروں میں رہتے تھے، 2020ء میں کم و بیش آئوٹ رہے۔ ایک طرف تو اُنہیں اقوامِ متحدہ کی طرف سے ملنے والی امداد کے ساتھ افغانستان واپس بھیجا جا رہا ہے اور دوسری طرف، پاکستان بھی اب اُنھیں مکمل عزّت واحترام کے ساتھ اُن کے وطن بھیجنا چاہتا ہے۔

دوسری طرف میانمار میں ظلم و ستم کے شکار روہنگیا مسلمان مہاجرین 2020ء میں بھی خبروں میں اِن رہے۔

سہیلی آئوٹ، کاون اِن

’’سہیلی‘‘ اسلام آباد کی اُس ہتھنی کا نام تھا، جو بے چاری چند سال قبل اپنی زنجیروں سے زخمی ہونے کے باعث جسم میں زہر پھیلنے سے ہلاک ہوگئی تھی۔ سہیلی کے دنیا سے آئوٹ ہونے کے سبب اُس کا ساتھی اور دوست ہاتھی، کاون اکیلا رہ گیا تھا۔ اس اکیلے پن میں وہ دیواروں سے سَر ٹکراتا اور مختلف طریقوں سے غصّے کا اظہار کرتا۔پھر یوں ہوا کہ امریکی گلوکارہ، شیر کی ایک قانونی جنگ کے بعد کاون کو کمبوڈیا منتقل کردیا گیا، جہاں اُسے دیگر ہاتھیوں کے ساتھ آزاد رکھا گیا ہے۔ اِس طرح کاون مسلسل خبروں میں اِن رہا۔

بختاور آئوٹ، آصفہ اِن

بختاور بھٹّو زرداری اپنی منگنی کی وجہ سے کئی روز خبروں میں اِن رہیں، مگر سیاسی میدان میں کہیں نظر نہ آئیں، البتہ یہ خلا اُن کی چھوٹی بہن، آصفہ نے پی ڈی ایم کے ملتان جلسے میں شرکت سے پُر کیا، یوں اُن کی عملی سیاست کا بھی باقاعدہ آغاز ہوا۔گو کہ بختاور نے کوئی اعلان تو نہیں کیا، مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیا گھر سدھارنے کے بعد وہ سیاست سے دُور ہی رہیں گی ۔

خودانحصاری آئوٹ،قرضے اِن

وزیرِ اعظم، عمران خان نے حکومت سنبھالنے سے پہلے قرضے کی لعنت کم یا ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے، مگر 2020ء میں مُلکی معیشت میں قرضے اِن ہی ہوتے رہے۔ مشیرِ خزانہ اعلان کرتے رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ چھے ارب ڈالرز کے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔یاد رہے، جولائی 2019ء میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تین سال میں چھے ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا تھا۔

ارشد خان آئوٹ، نعیم بخاری اِن

ستمبر 2020ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کے چیئرمین، ارشد خان اور پی ٹی وی بورڈ کے چھے ڈائریکٹرز کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئوٹ کردیا، جس کے بعد وزارتِ اطلاعات نے ارشد خان کی برطرفی کا اعلان کیا۔ کچھ عرصے بعد وہاں نعیم بخاری کی دبنگ اینٹری ہوئی اور وہ پی ٹی وی کے نئے چیئرمین کی حیثیت سے اِن ہوگئے۔

میر شکیل الرحمٰن اِن اور آئوٹ

گزشتہ برس حکومت نے جہاں اپنے مخالفین کو نشانے پر رکھا، وہیں صحافت کے گرد بھی گھیرا تنگ کرکے اظہارِ رائے کی آزادی کو کُچلا۔ اِس سلسلے میں قومی احتساب بیورو نے ایسے مقدمے بھی بنائے، جن کی کوئی بنیاد ہی نہ تھی۔ روزنامہ جنگ اور جیو کے سربراہ، میر شکیل الرحمٰن کو بھی ایک ایسے مقدمے میں پھانسا گیا، جو پینتیس سال پرانا تھا اور جس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ میر شکیل الرحمٰن آٹھ مہینے جیل میں اِن رہے اور بالآخر انصاف کی جیت ہوئی۔ عدالت نے اُنہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔یہ قید بھی اُن کے اس عزم کو متزلزل نہ کرسکی کہ’’ ہر حالت میں صحافت کی آزادی کا عَلم بلند رکھنا ہے، چاہے اس کے لیے ذاتی قربانیاں ہی کیوں نہ دینی پڑیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید