آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصنّف: ظفر سِپل

صفحات: 240، قیمت: 1200 روپے

ناشر: بُک ہوم، لاہور۔

ہمارے ہاں مغربی تہذیب مختلف حوالوں سے موضوعِ بحث تو رہتی ہے، مگر ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے، جو اس پر علمی انداز میں بات کر سکتے ہوں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم دنیا، خاص طور پر مسلم معاشرے پر مغربی تہذیب کے اثرات( منفی یا مثبت) کی بنیاد ہی پر اپنے ذوق اور اعتقادات کا تجزیہ کرتے ہیں، مگر اِس بات کی کم ہی کھوج لگاتے ہیں کہ مغربی دنیا آج جس مقام پر کھڑی ہے، اس کی پُشت پر کون سے نظریات کار فرما ہیں؟ اور یہ کہ اُنھیں پیش کرنے والے فلسفی کون تھے؟ 

مغربی فلسفے کے مختلف پہلوؤں پر انگریزی زبان میں بہت سی کتب ہیں، جن میں ول ڈیورینٹ کی’’ دی اسٹوری آف فلاسفی‘‘ اور برٹرینڈ رسل کی’’ مغربی فلسفے کی تاریخ‘‘ نمایاں ہیں، اِن دونوں کا اردو زبان میں بھی ترجمہ دست یاب ہے، لیکن اردو خواں طبقے کی عمومی ذہنی سطح کے لحاظ سے یہ کتب اُن کی ضرورت پوری نہیں کرتیں۔ ایسے میں ظفر سِپل نے’’ فلسفۂ مغرب‘‘ کے نام سے اپنی بیس سالہ محنت کا نچوڑ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ 

اس کتاب میں دور متکلمین، عہدِ نشاۃ الثانیہ، عقلیت پسند فلاسفر، برطانوی تجربیت پسند فلاسفر، جدید مغربی فلاسفر اور تین ہم عصر جدید فلسفیانہ تحریکیں کے عنوان سے دو درجن کے قریب فلسفیوں کے افکار و نظریات بیان کیے گئے ہیں۔ ان فلسفیوں کی نجی زندگی، اُن کے زمانے کے سماجی، مذہبی اور سیاسی رجحانات، نظریات کے معاشرے پر اثرات جیسے اہم پہلو بھی مصنّف کے پیشِ نظر رہے ہیں، جس سے مغربی نظریات کی تفہیم میں بہت مدد ملتی ہے۔ مصنّف اِس سے پہلے بھی فلسفے پر کئی کتب لکھ کر علمی حلقوں میں نام بنا چُکے ہیں۔ اُن کی موضوع پر مضبوط گرفت ہے اور مطالعے کی وسعت صفحے، صفحے سے عیاں ہے۔ بھاری بھر کم اصطلاحات اور مشکل الفاظ سے گریز کرتے ہوئے عام فہم، دل چسپ اندازِ بیاں اختیار کیا گیا ہے۔ البتہ اِس طرح کی علمی کتاب میں پروف کی غلطیاں بہت کھٹکتی ہیں۔