آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

یہ ہمارا ایمان ہے کہ بیماری اور شفاء دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں ،اگر فکر آخرت کے ساتھ انسان ان کا سامنا کرے تو دونوں ہی اللہ کی نعمتیں ہیں، ایک صاحب ایمان بیماری پر صبر کرتا ہے اور صبر بہت ہی اہم عمل ہے، یہاں تک کہ قرآن مجید نے کہا ہے: ’’اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ: ۱۵۳)

مومن نے بیماری کا علاج کرایا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت پر عمل کیا ،اور کوئی بھی عمل اتباعِ سنت کی نیت سے کیا جائے تو باعث ِاجر ہے، اگر اللہ تعالیٰ شفاء عطا فرما دے تو بندہ اپنے مالک کا شکر ادا کرے اور شکر بھی صبر کے ہم پلہ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ایک شخص روزہ رکھے اور بھوک وپیاس پر صبر کرے، دوسرا شخص کھائے پئے اور اللہ کا شکر ادا کرے، دونوں کا عمل قابل قدر ہے ۔ (سنن الدارمی، کتاب الاطعمۃ، : ۲۰۶۷)

اسلام سے پہلے بعض مذہبی گروہوں نے اپنے خیال کے مطابق اللہ کے قرب کے لئے رہبانیت کا راستہ اختیار کیا، بعض لوگ غسل نہیں کرتے تھے، بعض لوگ خوشبو نہیں لگاتے تھے، بعض کانٹوں پر سو کر ا پنے آپ کو لہو لہان کر لیتے ، بعض بھوکے پیاسے رہتے ، بعض لباس سے آزاد ننگے بدن رہا کرتے ، یہاں تک کہ یورپ میں کلیسا کے مذہبی رہنماؤں نے علاج کو بددینی قرار دیا ، ان کا خیال تھا کہ انسان اللہ کے حکم سے بیمار پڑتا ہے، لہٰذا اگر بیماری کا علاج کرایا جائے تو یہ منشائے ربانی میں خلل پیدا کرنا ہوگا، لیکن اسلام دین فطرت ہے، اس نے رہبانیت کو منع کیا۔ (شرح السنۃ للبغوی،: ۴۸۴، باب فضل القعود فی المسجد لانتظار الصلوٰۃ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیماری بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا فرمائی اور اس کی دوا بھی اللہ ہی نے پیدا کی، اس لئے علاج کرایا کرو۔ (المعجم الکبیر للطبرانی:۲۴؍۲۵۴)

علاج کی ایک صورت یہ ہے کہ بیماری پیدا ہو جائے اور اس کے بعد اس کی دوا لی جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ ابھی بیمار تو نہیں ہوا ہے، لیکن جسم کی اندرونی کیفیت،ماحول وغیرہ کی وجہ سے بیمار پڑنے کا اندیشہ ہے،ان دونوں صورتوں میں بیماری سے شفاءپائے یا بیماری کے امکان خطرہ سے بچنے کے لئے دواؤں کا استعمال جائز ہے، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ بیماری کی نوعیت ، قوت مدافعت کی کمی یا استحکام اور بیماری سے متأثر کرنے والے ماحول میں شدت کی کیفیت کے اعتبار سے حکم میں کسی قدر فرق ہو، ہر شخص معتبر صاحب افتاء کے سامنے اپنی کیفیت رکھ کران سے رائے لے سکتا ہے۔کورونا ویکسین بنیادی طور پر علاج کی دوسری قسم میں شامل ہے کہ ایک شخص ابھی کورونا کے مرض میں مبتلا نہیں ہے، لیکن وبائی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے حفاظتی تدبیر کے طور ویکسین لیتا ہے، کسی خاص دوا کے جائز اور ناجائز ہونے میں بنیادی طور پر دو باتوں کا دخل ہے،ایک یہ کہ دوا کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ دوسرا یہ کہ مریض کو کس حد تک اس دوا کی ضرورت ہے؟

جہاں تک دوا کے اجزاء کی بات ہے تو بنیادی طور پر دوائیں تین چیزوں سے حاصل کی جاتی ہیں، اول: جمادات، یعنی مٹی، لوہا، چونا، سونا، چاندی، پتھر وغیرہ ۔دوسرے: نباتات، یعنی زمین سے نکلنے والے پودوں، پھلوں، پھولوں، پتوں اور درخت کی چھالوں سے۔ تیسرے: حیوانات، یعنی جانور کے اجزاء گوشت، ہڈی اور چمڑے وغیرہ سے۔ ان میں سے پہلی قسم کی تمام چیزیں جائز ہیں، ان میں سے کسی چیز کو شریعت میں حرام قرار نہیں دیا گیا، نباتات میں سوائے نشہ آور جزو کے تمام درخت، پودے اور ان سے نکلنے والی چیزیں حلال ہیں اور قدیم دور سے موجودہ دور تک زیادہ تر دوائیں نباتات ہی سے حاصل کی جاتی ہیں، اگر کسی ویکسین میں ان دونوں چیزوں کا استعمال ہو تو اس کا جائز ہونا ظاہر ہے۔

اصل مسئلہ حیوانات کا ہے، حیوانات میں بعض حلال ہیں اور بعض حرام، اور جو حلال ہیں، ان کے بھی بعض اجزاء حرام ہیں، اسی طرح اگر جانور کو شرعی طریقے پر ذبح نہ کیا گیا ہو، تب بھی وہ حرام اور مُردار کے حکم میں ہیں، اب اگر شرعی طریقے پر ذبح کئے ہوئے حلال جانوروں کے حلال اجزاء جیسے چمڑے، گوشت، ہڈی سے دوائیں بنائی جائیں تو اس کے جائز ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں، لیکن اگر حرام جانور، حلال جانور کے حرام اجزاء، شرعی طریقہ کی رعایت کے بغیر ذبح کئے گئے حلال جانوروں سے دوا حاصل کی جائے تو یہ قابل غور ہے ، جیسے ان کا کھانا حرام ہے، ایسے ہی دوا کے طور پر ان کا کھانا یا انہیں رگ اور گوشت وغیرہ کے ذریعے جسم کے اندر پہنچانا بھی جائز نہیں ہے، لیکن اس سے دو صورتیں مستثنیٰ ہیں:

ایک یہ کہ ان کے اجزاء سے اس طرح دوا بنائی جائے کہ ان کی حقیقت ہی تبدیل ہو جائے تو اب ان پر حرام ہونے کا حکم باقی نہیں رہے گا، کیوں کہ شریعت کے احکام کسی چیز کی موجودہ شکل سے متعلق ہوتے ہیں، جب شکل بدل جائے تو حکم بھی بدل جاتا ہے، اور حقیقت کی تبدیلی کس وقت مانی جائے گی؟ یہ ایک بہت ہی دقیق اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ فقہاء نے اس پر جو بحث کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چیزوں کی نوعیت اور کیفیت تین چیزوں سے ظاہر ہوتی ہے: رنگ ، بو اور مزا، اگر یہ تینوں چیزیں بدل جائیں تو اسے حقیقت کے بدل جانے کی علامت مانا گیا ہے۔ 

دو اہم فقہی تحقیقی اداروں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور ادارۃ المباحث الفقہیہ (جمعیت علمائے ہند) نے اصحاب افتاء اور ماہرین کے مشورے سے اسی طرح کا فیصلہ کیا ہے،لہٰذا اگر ویکسین میں حرام حیوانی اجزاء استعمال کئے گئے ہوں اور ان میں کیمیکل اجزاء کے ذریعے ایسی تبدیلی پیدا ہوگئی ہو تو ان کا استعمال جائز ہوگا،دوسرے: اگر حقیقت وماہیت تبدیل نہ ہوئی ہو، لیکن علاج کے لئے ماہر اطباء کی تحقیق کے مطابق اس کا استعمال ضروری ہو، تب بھی اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ خود قرآن مجید میں جان بچانے کے لئے حرام شئے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ (سورۃالبقرہ: ۱۷۳)

اگر ان تفصیلات کی روشنی میں کورونا ویکسین کے مسئلے پر غور کیا جائے تو ایک تو میرے حقیر علم کے مطابق اس میں حرام اجزاء کا شامل ہونا پایۂ تحقیق کو نہیں پہنچا ہے، سوشل میڈیا پر اس طرح کی باتیں آرہی ہیں ، لیکن کسی فارمیسی کمپنی نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ کسی نے لیبارٹی میں تجزیہ کرایا اور اس کی مصدقہ رپورٹ پیش کی ہے، اس لئے صرف شک کی بناء پر اسے حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ برطانیہ میں بننے والی ویکسین کے بارے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ اسے نباتات سے تیار کیا گیا ہے، اور اگر حرام اجزاء کا استعمال کیا بھی گیا ہو تو کیا وہ اپنی حقیقت کے ساتھ باقی ہیں، یہ بات واضح نہیں ہے، بلکہ ویکسین کی جو شکل اخبارات اور سوشل میڈیا میں آرہی ہے، جو عرق کی شکل میں ہے، بظاہر اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ اس کے اجزاء مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں، اس لئے اگر اس کی وجہ سے انسان کی زندگی یا اس کی کسی صلاحیت پر منفی اثر نہیں پڑتا تو اس کے استعمال میںشرعاََ کوئی حرج نہیں، اور طبی اعتبار سے کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ 

اس کا فیصلہ طبی ماہرین ہی کی رائے پر ہو سکتا ہے، رہ گیا لاکھوں افراد میں دو چار آدمی کا ویکسین کے استعمال کے بعد نقصان سے دو چار ہونا تو یہ کوئی دلیل نہیں، کیوں کہ روز مرّہ جو دوائیں استعمال کی جاتی ہیں، بعض دفعہ ان کا بھی ری ایکشن ہوتا ہے، اور بہت سی اموات ہو جاتی ہیں، بہر حال علاج ایک تدبیر ہے اور تدبیر کوئی بھی ہو اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے نتیجہ خیز ہوتی ہے، اس لئے دعا کا اہتمام بھی ضروری ہے کہ کورونا کی جو لہر بار بار آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔ (آمین)