آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال: میرے والد کے ترکے کے حوالے سے کچھ چیزیں تمام ورثاء کے علم میں نہیں ، صرف چند لوگ جانتے ہیں ۔مجھ سے میری سوتیلی والدہ اور ان کی بیٹیوں نے قرآن مجید پر زبردستی قسم اٹھوائی کہ اپنے والد کے ترکے کی تفصیل اپنے بھائی کو نہیں بتاؤگی ۔میں نے اس وقت مجبوراً قسم اٹھالی، لیکن میں پشیمان ہوں اور قسم توڑنا چاہتی ہوں ، رہنمائی فرمائیں ۔(ایک دینی بہن ، )

جواب:آپ نے یہ قسم خلافِ شرع کھائی ہے ،آپ یہ قسم توڑ دیں اورقسم توڑنے کا کفارہ اداکریں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’ جس شخص نے کوئی قسم کھائی ،پھر اسے معلوم ہواکہ اس قسم پر قائم رہنے کی بجائے اس کے برعکس کرنا (شریعت کی رو سے) بہتر ہے ،سو وہ بہتر صورت کو اختیار کرے (اپنی قسم کو توڑ دے اور) اس کا کفارہ اداکرے ،(صحیح مسلم: )‘‘۔

مسطح بن اثاثہ حضرت ابوبکر صدیقؓکے زیرِ کفالت اور پروردہ تھے، انہوں نے ایک معاملے میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دل کو آزردہ کیاتو بشری تقاضے کے تحت حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھالی اورکفالت سے ہاتھ کھینچ لیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے مُتنبہ کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ:’’اورتم میں سے جو فضیلت اورمالی وسعت والے ہیں ، یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتے داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے ، ان کوچاہیے کہ (اپنے خطاکار کو) معاف کردیں اور درگزر کریں ،کیاتم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرمادے اور اللہ بہت بخشنے والا بے حد مہربان ہے ،(سورۃالنور:22)‘‘۔اس آیت مبارکہ کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قسم توڑ دی ، اس کاکفارہ اداکیا اورپہلے سے زیادہ فراخ دلی کے ساتھ مسطح بن اثاثہؓ کی کفالت کرنے لگے ۔ قسم توڑنے کے بعد قسم کاکفارہ اداکیاجاتا ہے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ:’’ اللہ تمہاری غیر ارادی قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرماتا،ہاں! اُن قسموں پر تمہاری گرفت فرماتا ہے ،جنہیں تم قصداً پختہ کرچکے ہو ،پس ایسی قسم کا کفارہ دس مساکین کو اپنے اوسط معیار کے مطابق کھانا کھلانا ہے ،جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اُنہیں کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا تو جو (اِن میں سے کچھ ) نہ پائے ،تووہ تین دن کے روزے رکھے ،یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے،جب تم قسم کھاؤ (اور اسے توڑ بیٹھو ) ، (سورۃالمائدہ:89)‘‘۔علامہ فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی حنفی ؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ کفارۂ قسم میں اصل اللہ تعالیٰ کایہ ارشاد ہے : پس اس کا کفارہ اپنے گھر والوں کے اوسط معیار کے مطابق دس مساکین کوکھانا کھلانا یا انہیں لباس فراہم کرنا یا غلام آزادکرنا اورسورۃ المائدہ:89میں ’’أَوْ‘‘ کاکلمہ خیار کے لیے ہے، پس ان تین صورتوں میں کسی ایک پر عمل کرنا واجب ہے اور ان میں کسی ایک کو اختیار کرنے میں بندے کوخیار(اختیار) ہے،(تبیین الحقائق )‘‘۔علامہ زین الدین ابن نُجیم حنفی مصری ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’صاحبِ کنزالدقائق ابوالبرکات علامہ عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی ؒ کا یہ قول: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : (ترجمہ):جو کفارۂ قسم کی ان تین صورتوں میں سے کسی ایک کی بھی قدرت نہ رکھے تو وہ تین دن روزے رکھ کر کفارہ ادا کرے ،(البحرالرائق ،جلد:4،ص:488)‘‘۔

نوٹ: اب چونکہ غلاموں کا رواج نہیں رہا اورعالمی سطح پر غلامی کی رسم کو ختم کردیا گیا ہے اوریہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے ،اس لیے کفارۂ قسم کے لیے عملاً دو آپشن ہیں: اپنے اوسط معیار کے مطابق دس مساکین کو دو وقت کھانا کھلانا یا اُنہیں لباس فراہم کرنا اوران دونوں صورتوں کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں تین دن کے مسلسل روزے رکھنا ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی ؒلکھتے ہیں: ’’اس پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر قسم توڑنے والا دس مساکین کو کھانا کھلانے یا ان کو کپڑے پہنانے یاغلام آزاد کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے گا۔(تبیان القرآن )‘‘۔آپ کے والد نے ترکے میں جو کچھ چھوڑا ہے ، اُس پر تمام ورثاء کا حق ہے ، کسی وارث کے حق کو غصب کرنا ظلم وزیادتی ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر شدید وعید بیان فرمائی ہے،اس وعید کا مصداق بننے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے ، حدیثِ پاک میں ہے :ترجمہ :’’جو شخص کسی کی زمین کا ایک با لشت ٹکڑا بھی ظلما ً(یعنی نا حق) لے گا ،تو اُسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن (سزا کے طو رپر) سا ت زمینوں کا طوق پہنا ئے گا، (صحیح مسلم) ‘‘ ۔آپ کی سوتیلی والدہ اوربہنوں نے جو حق چھپانے کے لیے آپ کو قسم دلائی ہے، اس پر وہ بھی گناہ کی مرتکب ہوئی ہیں ، ان سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے ،اگر انہوںنے خودقسم نہیں کھائی تھی،تو اُن پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔