آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انسانوں کے مہذب معاشرے حدودو قیود کی بناپر قائم ہوتے ہیں، دنیا میں جتنے بھی قوانین ہیں ان سب کا مقصد انسانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو محفوظ بنانا ہے۔ حتیٰ کہ جانوروں کے تحفظ کے لئے بھی قوانین موجود ہیں جو انتہائی ضروری ہیں۔ ان تمام قوانین پر عملدرآمد ہی ان کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں شاید ہی ایسا کوئی شعبۂ زندگی ہو جو اس سے متعلقہ قوانین سے مبرا ہو۔ جیسا کہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی بڑی اہمیت ہے اور یقیناً اس کے فوائد بھی ہیں۔ خصوصاً یو ٹیوب وغیرہ تو بعض لوگوں کیلئے آمدن کا ذریعہ ہے لیکن بد قسمتی سے اس کا استعمال اس طریقہ سے بہت کم کیا جاتا ہے جو ہونا چاہئے۔

سوشل میڈیا کو ہمارے ہاں زیادہ تر مثبت کے بجائے منفی طریقہ سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں، تصاویر کو فوٹو شاپ کے ذریعے تبدیل کر کے وائرل کرنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کیا جاتا ہے،انتہائی بے ہودہ باتیں اپ لوڈ کی جاتی ہیں ، خود ساختہ ادویات نسخے اور علاج بتائے جاتےہیں، من گھڑت اور جھوٹے عملیات و تعویزات تجویز کئے جاتے ہیں، جھوٹی پیش گوئیاں کر کے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، نوجوانوں یعنی نئی نسل کو اخلاقی طور پر تباہ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں اور گمراہ کن خبریں پھیلا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔

بلاشبہ سوشل میڈیا کئی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے لیکن اصل مدعا اس کا استعمال ہے۔ میری اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر کلی طور پر پابندی لگائی جائے ،اس حوالے سے قوانین بنائے جائیں اور کارروائی کی جائے۔ میرا مقصد ان لوگوں کے لئے سخت قوانین کا نفاذ اور ان پر عملدرآمد ہے جو سوشل میڈیا کا غلط اور منفی استعمال کرتے ہیں۔ اگر ملکی سلامتی کا معاملہ ہو یا معاشرے کو اخلاقی بگاڑ کی طرف لے جانے کا معاملہ ہو تو اس کی اجازت نہ ٹی وی چینلز کو ہے نہ ہی اخبارات و رسائل کو۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو بھی اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ملک و قوم کے دشمن اندرون وبیرون ملک سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا معاملہ ملکی معاملہ نہیں ہے ؟ یقیناً ہے اور اگر یہ ملکی معاملہ ہے ،اس کے ہمارے ملکی و معاشرتی حالات پر مثبت یا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں تو پھر اس کے لئے قواعد و ضوابط بھی ضروری ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والے کو شتر بے مہار ہی کہا جا سکتا ہے اگرچہ حکومت نے ایسے لوگوں کو لگام ڈالنے کیلئے سوشل میڈیا ایکٹ2020نافذ کیا ہے۔ اسی حوالے سے ایف آئی اے میں خصوصی شعبہ بھی قائم کیا گیا ہےجو شہریوں کی طرف سے دی گئی درخواستوں پر کارروائی کرتا ہے۔ لیکن اس کے ابھی تک خاطر خواہ نتائج اس لئے برآمد نہیں ہو سکے کہ ایسے گمراہوں کے لئے مزید جامع قوانین کی ضرورت ہے۔ ہونا تو یہ چاہئےکہ حکومتی ادارے سوشل میڈیا پر برابر نظر رکھیں اور غیر اخلاقی، غیر قانونی ،غیر اسلامی، فرقہ وارانہ ،نسلی ،علاقائی ،ملکی دفاع وسلامتی اور عسکری شخصیات و اداروں کے خلاف مواد جہاں بھی سوشل میڈیا پر نظر آئے ،ایسا مواد اپ لوڈ کرنے اور چلانے و نشر کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کریں۔عدلیہ اور ملکی دفاعی اداروں کے خلاف ایسی مذموم حرکت کرنے والوں کا بھی سختی سے سدباب کرنا چاہئے۔ گزشتہ دنوں عسکری ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ میں بھی کہا ہے کہ اس حوالے سے حکومت قوانین میں مزید تبدیلیاں لا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ پاک فوج کے بارے میں کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے سے گریز کیا جائے ،ان کے اس بیان سے اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ معاملہ کتنا اہم ہے۔

حکومت نے بچوں پر تشدد کے خلاف ایک احسن قدم اٹھایا ہے جس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے اس بارے میں حکومتی پیش کردہ بل کو متفقہ طور پر منظور کرنا بھی قابل تحسین ہے۔ امیدِ واثق ہے کہ سینٹ آف پاکستان سے بھی اس کی متفقہ منظوری مل جائے گی۔ اس قانون کو جتنا جلدی منظور کر کے نافذ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ بچوں پر بعض گھروں ،اسکولوں، مدرسوں،چھوٹے موٹے ہوٹلوں اور ورکشاپس وغیرہ میں نہ صرف ذہنی اور جسمانی تشدد کے واقعات روزانہ سامنے آتے ہیں بلکہ بعض اوقات معصوم بچوں کو جنسی تشددکا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے ایسی غلیظ ذہنیت اور ظالموں کو اب کھلی چھٹی نہیں ہونی چاہئے بلکہ سخت سزائیں ملنی چاہئیں۔

تازہ ترین