ٹی بی قطعاََ لاعلاج نہیں، بشرطیکہ علاج ادھورا نہ چھوڑا جائے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹی بی قطعاََ لاعلاج نہیں، بشرطیکہ علاج ادھورا نہ چھوڑا جائے

تپِ دق(ٹی بی)ایک قابلِ علاج متعدّی بیماری ہے اور اس وقت دُنیا بَھر میں متعدّی عوارض سے ہونے والی اموات میں تپِ دق سے ہونے والی اموات سرِفہرست ہیں، جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد کے اعتبار سے بھی اس کا 10واں نمبر ہے۔ ٹی بی کا عارضہ ایک مخصوص جرثومے’’مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسس‘‘ کے سبب لاحق ہوتا ہے۔ اس جرثومے کوجرمن فزیشن اور مائکروبائیولوجسٹ Robert Koch نے24مارچ 1882ء کو دریافت کیا تھا، لہٰذا عالمی ادارۂ صحت کے زیرِ اہتمام ہر سال اِسی تاریخ کو تپِ دق کا عالمی یوم منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس مُوذی مرض سے متعلق ہر سطح تک عوام النّاس میں شعور و آگاہی عام کرنا ہے۔ 

امسال اس دِن کے لیے جس تھیم کا اجراء کیا گیا ہے، وہ ’’The Clock is Ticking‘‘ہے۔اصل میں یہ تھیم منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے2030ء تک ٹی بی کے باعث ہونے والی اموات کی شرح میں90فی صد تک کمی لانے کا ایک ہدف مقرر کیا تھا،مگرکووِڈ-19نے انسدادِٹی بی پروگرام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،تو اس تھیم کے ذریعے عالمی ادارۂ صحت کے رکن مُمالک کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

تپِ دق کا عارضہ جسم کے کسی بھی حصّے کو متاثر کرسکتاہے۔ مثلاً نظامِ ہاضمہ، اعصابی نظام، دماغ، آنتوں، ہڈیوں، جوڑوں، گُردوں، جِلد، آنکھوں کے پردے،کمر اور غدود وغیرہ کو، لیکن80فی صد مریضوں میں یہ پھیپھڑے متاثر کرتا ہے۔ پھیپھڑوں کی ٹی بی اس لیے بھی خطرناک ہے کہ اس کے جراثیم ہوا کے ذریعے ایک فرد سے دوسرےتک جا پہنچتے ہیں۔ٹی بی کا ایک مریض اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے تقریباً 10مزید افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔ تپِ دق لاحق ہونے کی بنیادی وجہ قوّتِ مدافعت کی کم زوری ہے،جو کسی بھی سبب ہوسکتی ہے۔ مثلاً کسی مرض میں مبتلا ہونا جیسے ایڈز، ذیابطیس، سرطان یا پھر غذائی قلّت اورغربت وغیرہ۔ایک تحقیق کے مطابق آنتوں کی تپِ دق ،ٹی بی سے متاثرہ جانور کا دودھ استعمال کرنے سے بھی ہو سکتی ہے۔

علاوہ ازیں، تمباکو نوشی جہاں پھیپھڑوں کے سرطان اور امراضِ قلب کا موجب بنتی ہے، وہیں ٹی بی لاحق ہونے کے امکانات بھی بڑھا دیتی ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوںکی نسبت تمباکو نوش افراد میں ٹی بی سے متاثر ہونے کے امکانات دو گنا بڑھ جاتے ہیں، کیوں کہ تمباکو نوشی کے باعث پھیپھڑوں کی جھلّیاں متاثر ہو نے کے نتیجے میں ٹی بی کے جراثیم آسانی سےحملہ آور ہو جاتےہیں۔ 

ایک اندازے کے مطابق دُنیا کا ہر پانچواں فرد تمباکو نوشی کی علّت میں مبتلا ہے اور اس کے اثرات سے ٹی بی کے مریضوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔پھیپھڑوں کی ٹی بی کی عام علامات میں دو ہفتے یا اس سے زائد مدت کا ایسا بخار اور کھانسی، جو عام علاج سے ٹھیک نہ ہو رہے ہوں،وزن کم ہونا، زائد پسینہ آنا، خصوصاًرات میں،کھانسی کے ذریعے بلغم میں یا پھر الگ سے خون خارج ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

اگر معمول کےعلاج کے باوجود بھی علامات برقرار رہیں، تو فوری طور پر ماہرِ امراض سینہ کے مشورے سے ایکس رے کروالیاجائے۔ٹی بی کی تشخیص کے لیے سب سے مستند بلغم کا ٹیسٹ اور سینے کا ایکس رے ہے۔پاکستان کے تقریباً ہر سرکاری و غیر سرکاری اسپتال میں یہ ٹیسٹ مفت کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ معالج مریض کی خصوصی علامات کے پیشِ نظر مزید ٹیسٹ بھی تجویز کرسکتا ہے، کیوں کہ کسی مخصوص عضو کی ٹی بی میں اس عضو کی بھی اپنی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ٹی بی کا مرض اُس صُورت میں قابلِ علاج ہے، جب دوا صحیح مقدار میں باقاعدگی سے مقررہ مدّت تک استعمال کی جائے۔ عام طور پر تقریباً 6 ماہ تک مسلسل ادویہ استعمال کی جاتی ہیں۔تاہم، بعض کیسز میں علاج کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔ 

علاج سے قبل مریض کا وزن کیا جاتا ہے، تاکہ وزن کی مناسبت سے دوا کی مقدار تجویز کی جاسکے۔ عام ادویہ کی طرح ٹی بی کی دوا کے بھی سائیڈ افیکٹس ہیں، لیکن یہ زیادہ تر معمولی نوعیت کے ظاہر ہوتے ہیں،لہٰذا دوا کا استعمال ترک کیا جائے، نہ اس کی مقدار میں کسی صُورت کمی کی جائے۔ اگر دوا تجویز کردہ مقدار میں پوری مدّت تک استعمال نہ کی جائے، تو ٹی بی کے جرثومے میں Resistance پیدا ہو جاتی ہے،جس کے نتیجے میں عام ٹی بی ملٹی ڈرگ ریزیسٹینٹ ٹی بی(Multi Drug-Resistant TB) میں تبدیل ہوسکتی ہے اور اگر ایم ڈی آر کے علاج میں کوتاہی برتی جائے، تو یہ ایکس ڈی آر ٹی بی (Extensively Drug-Resistant TB) کا سبب بن جاتی ہے۔ 

ٹی بی کی ان دونوں ہی اقسام کا علاج انتہائی مشکل، طویل اور منہگا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پوری دُنیا میں سالانہ تقریباً ساڑھے 4لاکھ ایسے نئے مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے،لہٰذاسب سے ضروری درست طریقۂ علاج اپنانا ہے، تاکہ Resistant TBسے بچا جا سکے۔ دورانِ علاج اور صحت یابی کے بعد بھی کھانے پینے کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی پرہیز نہیں، بلکہ متوازن غذا کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مدافعتی نظام کو تقویت ملتی ہے ۔

ٹی بی سے بچائو میں سب سے اہم بروقت تشخیص، فوری اور مکمل علاج ہے۔ اگر کوئی فرد اس مرض کا شکار ہوجائے، تو اہلِ خانہ بھی احتیاطاً ایکس رے اور بلغم کے ٹیسٹ کروائیں۔ مریض کھانستے اور چھینکتے ہوئے مُنہ پر کپڑا رکھے یا پھر ماسک کا استعمال کرے، جب کہ سرِعام تھوکنے سے قطعاً اجتناب برتا جائے۔ بلغم ڈھکن والے ڈبّے میں تھوکیں اور جب یہ بَھر جائے، تو اسے جلادیں یا پھر زمین میں دفن کردیں۔ نیز، مریض زیادہ سے زیادہ ہوادار جگہ پر رہے، کمرے کی کھڑکیاں، دروازے کھلے رکھے جائیں،اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایگزاسٹ فین چلا کر رکھیں ۔ 

علاوہ ازیں،کھانا گھر والوں کے ساتھ نہ کھائیں۔ یہ احتیاط اُس مریض کے لیے بہت ہی ضروری ہے، جو پھیپھڑوں کی ٹی بی میں مبتلا ہو۔ ہمارے یہاں یہ تصوّر عام ہے کہ ٹی بی کا مرض موروثی ہے،تو یاد رکھیے، ٹی بی جینیاتی طور پر منتقل ہونے والا مرض ہرگز نہیں۔ ٹی بی سے بچاؤ کے لیے قوّتِ مدافعت مضبوط ہونا بہت ضروری ہے، جس لیے ورزش کو معمول کا حصّہ بنالیں، صحت بخش غذائیں استعمال کریں اور تمباکو نوشی سے بالخصوص اجتناب برتیں۔نیز، پیدایش کے وقت بچّے کوبی سی جی کا ٹیکا ضرور لگوایا جائے۔ یہ ٹیکا بچّے کودس سے بارہ سال تک مرض سےتحفّظ فراہم کرتا ہے۔ (مضمون نگار، پشاور میڈیکل کالج میں بطور پروفیسر آف پلمونولوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) ،خیبر پختون خوا کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید