آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زمین کے محدود وسائل پر ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کےمنفی اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات سے کس طرح محفوظ رہا جائے؟ ہمیں ان دونوں میں ایک توازن قائم کرنا ہے اور ہرکسی کو اس کی اہمیت کا احساس ہے۔ 

دنیا 2050ء تک زمین کے دستیاب وسائل کے مقابلے میں چار گنا زیادہ وسائل استعمال کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیارہ زمین کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اضافی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 2030ء تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 50فیصد تک کمی لائی جائے۔ بلاشبہ، یہی تبدیلی کا وقت ہے۔ گرین مینوفیکچرنگ ایک اُبھرتا ہوا صنعتی پیداواری رجحان ہے، جس کے ذریعے وسائل کے مؤثر استعمال اور ماحول دوستی کا طویل مدتی ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

گرین مینوفیکچرنگ کیا ہے؟

کلائمیٹ چینج اور دیگر ماحولیاتی تحفظات پر صنعتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کاروباری اورپیداواری طور طریقوں اور اسٹیک ہولڈرز کی سوچ بدلنے کا نام گرین مینوفیکچرنگ ہے۔ گرین (سبز) کوئی کھوکھلا لفظ نہیں ہے۔ صنعتوں کے اندر، سپلائی چین کے ہر مرحلے اور صارفین میں پائیدار (سسٹین ایبل) رجحانات کو فروغ دینے کے کئی ٹھوس طریقے ہیں۔ 

پائیدار اور ماحول دوست مٹیریل پیدا کرنے، کاربن سے پاک توانائی تیار کرنے، کم سے زیادہ کے حصول کے لیے ’ڈیجیٹل اِنوویشن‘ کو اپنانے اور اشیا کو کچرے میں پھینکنے سے پہلے ہر ممکن حد تک زیادہ دیر تک استعمال میں رکھنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے چوتھا صنعتی انقلاب (انڈسٹری 4.0)اور انڈسٹریل انٹرنیٹ آف تھِنگس(IIOT)نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

نتائج کیا ہیں؟

فطری وسائل اور توانائی کا کم استعمال، دنیا بھر میں کاربن کے اخراج میں کمی، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کے تمام مراحل میں ٹیکنالوجی میں جدت لاکر کارکردگی میں اضافہ کرنا، لچک اور پائیداری کا حصول، عالمی سرکلر معیشت کے لیے مضبوط بنیادوں کی تعمیر وغیرہ، یہ چند اہداف ہیں جو گرین مینوفیکچرنگ کو اپنا کر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

توانائی کو کاربن سے پاک بنانا

گرین مینوفیکچرنگ کا سب سے بڑا فائدہ توانائی کی بچت کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ماحولیاتی اور کاروباری فوائد مساوی ہیں۔ انرجی ٹرانزیشن کمیشن نے اپنی رپورٹ ’مِشن پاسیبل‘ میں کہا ہے کہ رواں صدی کے وسط تک کاربن کے اخراج کو ’نیٹ زیرو‘ کی سطح پر لانا ایک حقیقت پسندانہ ہدف ہے۔

نئے مٹیریل کی تیاری

زیادہ کاربن پر مشتمل مٹیریل کی جگہ کم کاربن کے حامل مٹیریل استعمال کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ مثلاً، تعمیراتی صنعت میں آلودگی کے اثرات کم کرنے کے لیے پورٹ لینڈ سیمنٹ کے بجائے لکڑی یا پوزولان بیسڈ کنکریٹ (آتش فشانی راکھ سے تیار کردہ کنکریٹ) کا استعمال مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صنعتی اشیاء کی تیاری کےعمل کو بہتر بنایا جائے۔

الیکٹرانک مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیاں گرین الیکٹرانکس مٹیریل جیسے جدید حیاتی (بائیو) مٹیریل استعمال کرنے کے علاوہ گرین پیکیجنگ بھی متعارف کروا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گندم کے بھوسے کی پیکیجنگ توانائی کی مد میں 40فیصد اور پانی کی مدمیں 90فیصد بچت کا باعث بن سکتی ہے۔ مزید برآں، کمپنیاں ایکو۔ لیبلنگ کرسکتی ہیں تاکہ صارفین کو معلوم رہے کہ وہ پیداواری عمل میں ماحول دوستی کا کس قدر خیال رکھتی ہیں۔

ڈیجیٹل جدت

انڈسٹریل انٹرنیٹ آف تھِنگس ٹیکنالوجی اور ایک دوسرے سے جُڑے اسمارٹ ڈیوائسز کی بدولت پیداواری اہداف کے ساتھ ساتھ، مینوفیکچررز وسائل کا مؤثر استعمال کرنے والے منصوبوں کو بھی ترجیحی فہرست میں رکھ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے جُڑے اثاثے، توانائی کے ریئل ٹائم اور تاریخی استعمال کے رجحان سے باخبر رکھ سکتے ہیں اور اس کے ذریعے صنعتی ادارے توانائی کے اخراجات پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ جہاں مجموعی لاگت میں توانائی کا قابلِ ذکر حصہ ہو، وہاں یہ بات اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔

سرکلر معیشت

ہمیں معلوم ہے کہ روایتی مینوفیکچرنگ کا سفر سیدھا سیدھا ہوتا ہے جیسے اشیاء بنتی ہیں، استعمال ہوتی ہیں اور پھر پھینک دی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فیکٹری میں تیار کردہ مصنوعات مارکیٹ تک بھی نہیں پہنچ پاتیں۔ گرین مینوفیکچرنگ اس ’اسٹیٹس کو‘ کو بدلنے کا نام ہے۔ اس کے برعکس، گرین مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی ’سرکلر‘ ہے۔ 

یہ ’’ری ڈیوس، ری یوز، ری سائیکل‘‘ کی ’تھری آر‘ اپروچ سے بڑھ کر دراصل ’فائیو آر‘ اپروچ کا نام ہے، جس میں ’’ری پیئر، ری یوز، ری فربش، ری مینوفیکچر اور ری سائیکل‘‘ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے مصنوعات اور وسائل کا طویل عرصے تک استعمال ممکن ہوتا ہے اور ’زیرو۔ویسٹ‘ ہدف کا حصول ممکن ہے۔

مستقبل کیلئے مل کر کام کرنا

بامعنی تبدیلیوں کے لیے ہم سب اکٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں شاید شنگھائی دنیا کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ وہ کاروباری افراد کے علاوہ حکومتی اور تعلیمی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو گرین مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے اکٹھا کررہا ہے۔ شنگھائی نے گرین مینوفیکچرنگ کو شہری حکومت کی ترجیحات میں شامل کیا ہوا ہے۔

مستقبل کو اپنانا

گرین مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر ایک اچھا کاروبار ہے۔ یہ وسائل کے ضائع ہونے یا آلودگی کے بغیر پیداوار میں اضافے کے لیے انقلابی جدت فراہم کرتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ معاشی ترقی کو ماحولیاتی تنزلی سے الگ کیا جائے۔
تاہم اس کی اصل طاقت اس وقت ہی دنیا پر آشکار ہوسکے گی، جب دنیا بھر کی صنعتیں اس ٹیکنالوجی کو اختیار کریں، جس کے بعد ہی دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹ پائے گی۔ یہ گرین مشن پوسیبل ہے!