سینیٹ، دوران اجلاس گیلانی نے احمد فراز کی غزل پڑھ دی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ، دوران اجلاس گیلانی نے احمد فراز کی غزل پڑھ دی

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کے دوران  احمد فراز کی غزل پڑھ دی۔

یوسف نا تھے مگر سرِ بازار آگئے، خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آگئے  

ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی، طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آگئے  

پھر اس طرح ہُوا مجھے مقتل میں چھوڑ کر، سب چارہ ساز جانبِ دربار آگئے  

اَب دل میں حوصلہ نا سکت بازوؤں میں ہے، اب کے مقابلے پہ میرے یار آگئے  

آواز دے کے زندگی ہر بار چُھپ گئی، ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے

سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز، وہ بھی تو زیرِ سایۂ دیوار آگئے

اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر بننا بہت مشکل ہے، میں ایم این اے کا الیکشن لڑتا رہا اس لیے معلوم نہیں سینیٹر کا انتخاب کتنا مشکل ہے،میں نے پی ڈی ایم کے تعاون سے سینیٹ الیکشن لڑا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ایک مقصد تھا کہ آئینی، انسانی حقوق دلائے جائیں، انشاء اللّٰہ اس کے لیے ہم آواز اُٹھاتے رہیں گے، تمام اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

قومی خبریں سے مزید