عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں رد و بدل پر بات چیت کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے آئی ایم ایف حکام نے خبر ایجنسی سے گفتگو کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت کر رہے ہیں کہ ٹیرف میں رد و بدل کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے، مذاکرات میں جائزہ لیں گے کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم حکومتی وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔
آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مجوزہ ٹیرف ترامیم کے مہنگائی اور معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں چھوٹے گھریلو بجلی صارفین پر 132 ارب روپے کے فکسڈ چارجز عائد کرنے اور سبسڈیز صنعتوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیپرا نے وزارتِ توانائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بجلی کے صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی تھی۔
فیصلے کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین پر ماہانہ 100 یونٹ تک استعمال پر 200 روپے فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے جبکہ 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والوں کو 300 روپے ادا کرنا ہوں گے، اسی طرح نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بھی مختلف کیٹیگریز مقرر کی گئی ہیں۔