• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نصرت فتح علی خان سے ملاقات روحانی تجربہ تھی: اے آر رحمٰن

— فائل فوٹوز
— فائل فوٹوز

بالی ووڈ کے معروف موسیقار و گلوکار اے آر رحمٰن نے لیجنڈری پاکستانی قوال استاد نصرت فتح علی خان سے اپنی ملاقات کو زندگی کے غیر معمولی اور روحانی ترین تجربات میں سے ایک قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ نصرت فتح علی خان سے ملاقات میری منزل تھی اور یہ لمحہ کسی غیبی مدد سے کم نہ تھا۔

چند روز قبل برطانوی نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار نے نصرت فتح علی خان کی فنی عظمت اور باوقار شخصیت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ قوالی کے اس عظیم فنکار سے ملاقات کرنا ایسا تھا جیسے یہ میری زندگی میں طویل عرصے سے طے شدہ منزل تھی اور اسے میں نے حاصل کر لیا۔

اے آر رحمٰن نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے استاد نصرت فتح علی خان کے ساتھ ایک گیت ریکارڈ کرنے کا نادر موقع ملا، تاہم افسوس کہ ریکارڈنگ کے صرف ایک ماہ بعد ہی یہ عظیم گلوکار دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ان کے مطابق یہ موقع ایسے وقت میں ملا جب مجھے سب کچھ کسی معجزے کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بھارتی موسیقار نے کہا کہ ایسا ممکن تھا کہ اگر اس وقت وہ ملاقات نہ ہوتی تو شاید یہ موقع ضائع ہو جاتا۔

انہوں نے بتایا کہ جب نصرت فتح علی خان ممبئی آئے تو میں نے مختصر وقت میں ان سے بے شمار چیزیں سیکھیں۔

اے آر رحمٰن نے بتایا کہ رات تقریباً 1 بجے نصرت فتح علی خان میرے کمرے میں تشریف لائے، نشست جمی اور محفل فطری انداز میں آگے بڑھی، ہارمونیم اور طبلہ منگوایا گیا اور نصرت صاحب نے مجھے قوالی کے باریک پہلو سکھائے۔

میزبان کے سوال پر بھارتی موسیقار نے اس نشست کی قوالی یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ معروف قوالی تو کجا من کجا تھی، پروگرام کے دوران انہوں نے یہ قوالی گا کر بھی سنائی، جس نے ناظرین کو مسحور کر دیا۔

اے آر رحمٰن کا کہنا ہے کہ نصرت فتح علی خان ناصرف ایک عظیم فنکار تھے بلکہ بذاتِ خود ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی موجودگی میں سیکھنا کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید