کورونا: صورتحال مزید سنگین
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وائرس کی مہلک عالمی وبا جس نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہےاور اب تک 29لاکھ سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکی ہے، بچائو کی تدابیر اور حکومتی پابندیوں کو خاطر میں نہ لانے کے باعث پاکستان میں سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت سندھ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں صوبوں سے لوگوں کی سندھ میں آمد روکی جائے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ میں وبا کا زور ٹوٹ گیا تھا لیکن پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ کراچی آ رہے ہیں جس سے کورونا کیسز کی تعداد دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک میں کورونا ویکسین کی شدید قلت ہے جس کا پیر کو سینیٹ میں بھی نوٹس لیا گیا اور حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن کی ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت درآمد کی جانے والی ویکسین لوگوں میں مفت تقسیم کرے یاقیمت خرید پر فراہم کرے کیونکہ غریب لوگ علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ قائد ایوان شہزاد وسیم نے قرارداد کو حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا جبکہ اپوزیشن کے ایک گروپ کے لیڈر اعظم تارڑ نے ایوان کی توجہ دلائی کہ ملک میں ویکسین صرف ایک فیصد آبادی کے لئے دستیاب ہے اگرچہ اب تک ترقی یافتہ ممالک میں تیار ہونے والی اپنے اپنے برانڈ کی ویکسین بھی کورونا کے خلاف سو فیصد موثر ثابت نہیں ہوئی تاہم اس کے 90فیصد کامیاب ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔ پھر بھی تقریباً 15کروڑ لوگ دنیا میں کورونا کا شکار ہوچکےہیں۔ پاکستان میں ویکسی نیشن کا عمل تاخیر سے شروع ہوا۔ اب تک لوگوں کو دس لاکھ ڈوزز لگائی جا چکی ہیں اور چین اور دوسرے ملکوں سے مزید ویکسین منگوائی جا رہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 15ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ ٹیسٹ لئے جا رہے ہیں جن میں مثبت کیسز کی زیادہ سے زیادہ شرح اب تک 9.9فیصد شمار کی گئی ہے جو کافی تشویشناک ہے۔ کورونا کی تیسری اور زیادہ خطرناک لہر کے بعد اس وبا کا شکارہونے والوں کی تعداد سات لاکھ کے قریب بتائی جا رہی ہے جن میں سے 61ہزار 450افراد کی حالت زیادہ خراب ہے اور پیر کو 103افراد کے انتقال کی اطلاع ہے۔ ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں کا دبائو بڑھ گیا ہےاور وینٹی لیٹرز کی تعداد کم پڑنے لگی ہے۔ دستیاب ویکسین زیادہ مہنگی ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔ سرکاری طور پر ہلاک یا متاثر ہونے والوں کے جواعداد و شمار بتائے جا رہے ہیں ان میں وہ لوگ شامل نہیں جوگھروں میں قرنطینہ کر لیتے ہیں اور اپنے طورپرعلاج کرا کے تندرست ہوتے یا مر جاتے ہیں۔ اس عالمی وبا نے ساری دنیا کے لوگوں کو پریشان اور معیشتوں کو تباہی سے دوچار کر رکھا ہے۔ پاکستان میں حکومت اور طبی ادارے بار بار عوام کو ماسک پہننے، ہاتھ سینی ٹائز کرنے اورسماجی فاصلے قائم رکھنے پر زور دے رہے ہیں جس پر لوگ کم ہی توجہ دے رہے ہیں۔ حکومت نے عوام کے مفاد میں تعلیمی ادارے بند کرنے کے علاوہ جلسے جلوسوں، ٹرانسپورٹ، کاروباری اوقات اور شادی بیاہ کی تقریبات پر جو پابندیاں لگائی ہیں ان کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے جس پر لوگ پکڑے جا رہے ہیں۔ جرمانے ہو رہے ہیں ہوٹل دکانیں اور میرج ہال بند کئے جا رہےہیں لیکن کورونا پھر بھی پھیل رہا ہے جس کی واحد وجہ لوگوں کی لاپروائی ہے۔ عوام کو چاہئے کہ وبا سے بچائو کیلئے تمام تر حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔ یہ ان کے اپنے مفاد میں بھی ہے اور ملک کے مفاد میں بھی۔

تازہ ترین