آپ آف لائن ہیں
اتوار27؍شعبان المعظم 1442ھ 11؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج پاکستان کی سیاسی صورتحال اتنی پیچیدہ ہے کہ اچھے بھلے منجھے ہوئے مبصرین بھی اس کا احاطہ نہیں کر سکتے ۔ یہ مختلف قسم کے آپشن (Option)اوریہ دوست کے روپ میں دشمن ، یہ حقائق کا سر کے بل کھڑا ہونا، یہ مگر مچھ کے آنسو، یہ وفاداری کے ڈرامے ، یہ نہلے پہ دہلا، ان سارے دھندوں کو سمجھنا ، گتھیوں کو سلجھانا نہایت ہی مشکل کام ہے۔لیکن سیاست دراصل نہ صرف ان مشکلات کو حل کرنے کا نام ہے بلکہ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مشکلات کو ساتھ رکھ کر عوام کے مسائل کو حل کرنے کا نام بھی سیاست ہے۔لیکن اگر ہر شرط پر اقتدار میں آنا ضروری ہے تو پھر پی ڈی ایم کو دشمنوں کے نئے جال میں پھنسنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔وقت کے ساتھ تضادات بڑھتے جائیں گے اور راہیں محدود ہوتی جائیں گی ۔ اس لیے پی ڈی ایم کو چاہئے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنا اختلاف واضح طور پر سامنے رکھے اور عوام کے مفادکو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرے اور اس اتحاد کو نئے سرے سے آگے بڑھائے۔آج سیاسی پارٹیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا انہیں اس سیپی کے کیڑے کی طرح کام کرنا ہے جس کی گو کہ ٹانگیں نہیں ہوتیں مگر پھر بھی وہ پتھر پر چپک جاتا ہے، یا پھر وہ کیکڑے کی پیٹھ پر چپک کر سمندر کی سیر کرتے ہوئے اپنے لیے بہت سی غذا ہر وقت حاصل کرنا چاہتا ہے؟پیپلز پارٹی کو آج یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں وہ جلد بازی میں ان لوگوں کے ہاتھ تو مضبوط نہیں کر رہی جنہیں بھٹو کے دشمنوں نے پلانٹ کیا تھا؟

پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کی سینٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدے پر کامیابی نے پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھیردیا ہے اور چونکہ بظاہراس ساری صورتحال کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے اس لیے اب پیپلز پارٹی پر یہ لازم ہے کہ وہ اس اتحاد کوقائم رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے تاکہ اس بے یقینی ، مایوسی اور کشیدگی کی فضا کو کم کیا جائے یا کم از کم حالات کے معمول پر آنے کا مصنوعی احساس اجاگر ہو۔گزشتہ ڈھائی سال کی کشمکش کے دوران یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی تصادم کی سیاست سے گریز کر رہی ہے۔آج پی ڈی ایم کے انتشار سے جہاں سیاسی کلچر کو نقصان ہو رہا ہے وہاں عام آدمی بھی سیاست کے بارے میں بیگانگی کا شکار ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے کہ پنجاب پر پہلا حق قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کا ہے ورنہ پرویز الٰہی سے بات چیت کی جائے گی۔اس بیان نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ پیپلز پارٹی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے خاتمے کی بجائے ہائبرڈنظام کا حصہ بننے کی جستجو میں ہے۔اس کے برعکس گزشتہ سال کے آخری مہینوں میںتو یوں محسوس ہورہا تھا کہ بلاول بھٹو ، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن سے بھی زیادہ مزاحمتی موقف رکھتے ہیں اور پیپلز پارٹی لانگ مارچ کو کامیاب بنا کر ہائبرڈ نظام کے خاتمے کو یقینی بنائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایم کے کامیاب جلسوں سے نہ صرف پنجاب میں مزاحمتی تحریکوں کو تقویت ملی بلکہ حکومت کو پہلی دفعہ لاپتہ افراد کے مسلئے پر سنجیدگی سے توجہ دینی پڑی اور انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنے والے افراد کو فوجداری جرم کے تحت سزا دینے کیلئے قانون سازی کی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ فضا کچھ اس قسم کی بن رہی تھی کہ ملک بھر کی مزدور تنظیمیں مزدوروں کے حالات کار کو بہتر بنانے، کنٹریکٹ سسٹم کو ختم کرنے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے پی ڈی ایم کے شانہ بشانہ جدوجہد کیلئے تیار ہو رہی تھیں ۔ بائیں بازوں کی طلبا تنظیموں کی طرف سے طلبا یونین کی بحالی کیلئے رائے عامہ ہموارہورہی تھی اور عورتوں کے حقوق کی جدوجہد میں تیزی آرہی تھی۔اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ بھی طلبا یونینز کو بحال کرنے کے حق میں ہیں۔

پی ڈی ایم کو آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرتے وقت گزشتہ ڈھائی سال کے حالات و واقعات کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا ہوگا۔ یہ تجزیہ روایتی انداز میں نہ کیا جائے اور دوست اور دشمن کی پہچان کیلئے پرانا پیمانہ کافی نہیں ہے۔نفسیاتی جنگ کے ساتھ ساتھ اس امر پر نظر رکھنا ضروری ہوگا کہ کہیں عوام سیاسی عمل سے ہی بیزار نہ ہوجائیں، جو کہ دراصل دشمنوں کا خواب ہے۔پیپلز پارٹی کے اس رویے سے اگرچہ جمہوری نظام کو نقصان پہنچا ہے مگر مسلم لیگ ن اور باقی جماعتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس روبہ زوال سیاسی ماحول میں پیپلز پارٹی پر گولے برسانے کی بجائے اپنی ساری توجہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر رکھتے ہوئے آئین کی پاسداری اور سویلین سپر میسی کے اہداف کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگی رہیں کیونکہ آئین کی پاسداری اور آزاد الیکشن کمیشن کے بغیر نہ تو یہ ہائبرڈ سسٹم ختم ہو سکتا ہے۔ نہ محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے مسائل حل ہو سکتے ہیںاور نہ ہی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔

تازہ ترین