شہر الصیام
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر سیّد عطاء اللہ بخاری

رمضان المبارک، رحمان کی طرف سے آنے والا معزز مہمان، نور کا آسمان، بے پایاں رحمت کا سائبان اور انسان کی بخشش کا ایسا حیرت انگیز اور قدرتی سامان ہے کہ اگر انسان پر حقیقت کھل جائے اور اس کی باطنی آنکھ وہ عجائبات اور مناظر دیکھنے لگ جائے جو فرشتوں کی آمد و رفت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ دم بخود رہ جائے اور اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے۔اس کی برکتوں کے تو کیا کہنے۔ جیسے ہی ماہ رمضان کی آمد ہوتی ہے۔چہار سو نورکاسماں ہوتا ہے، فضا پُرسکون، اور موسم میں سرور نظر آتا ہے۔

آسمانوں سے رحمتوں کی چھما چھم بارش، مقرب ملائکہ کا نزول، گناہ گاروں کے لئے جہنم سے نجات کے پروانے، نیکو کاروں کے لئے درجات میں بلندی کی خوش خبری، سحری وافطار کی بابرکت گھڑیاں، دعاؤں کی قبولیت کے اشارے، تراویح کی راحتیں، نمازِ تہجد کی لذتیں، تلاوتِ قرآن سے فضاوں کا معطر ہونا، نعت مصطفی ﷺ کی ہر طرف گونج، روزے داروں کے پُرنور چہرے، مساجد کا مسلمانوں سے بھر جانا ،کثرت سے صدقات و خیرا ت کی تقسیم، عبادت میں خشوع و خضوع بڑھتا چلا جارہا ہے۔

یہ کیفیتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں، یقینا کریم مہینہ جلوہ افروز ہوچکا ہے۔ کریم پروردگار جل جلالہ کے در سے، رسول کریم ﷺ کے صدقے میں، رمضان کریم تشریف لایا ہے۔ وہ مہینہ جس کا ہر ہر لمحہ برکتوں والا، جسے اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لیے بہتر ہے ،اگر تمہیں سمجھ ہو‘‘۔(سورۃ البقرہ آیت نمبر 184) احادیث مبارکہ میں اس ماہ مقدس کی فضیلت کے بار ے میں بتایا ہے:

(1)جب ماہِ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو پابہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔(2)’’جو شخص بہ حالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘ مزید فرمایا: یہ ایک مہینہ ہے، جس کا ابتدائی حصہ رحمت، اور درمیانی حصہ مغفرت اور تیسرے حصہ میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ہے۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ ﷺ فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ غور کرنے کی بات ہے جب کوئی بہت ہی عزیز مہمان ہمارے گھر آرہا ہو تو دل کی کیفیت عجیب ہوتی ہے، انتہائی خوشی اور بے قراری سے مہمان کی آمد کا انتظار رہتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ آنے والا کوئی نہایت خاص مہمان ہے۔

اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے اس ماہ کی آمد کو اپنی زندگی کے لیے خوش نصیبی تصور کر ے۔ اور شکر ادا کرے کہ رب تعالیٰ نے اسے ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلے،ایک بار پھر اپنے رب کو راضی کرلے،جو لوگ اس ماہ کی برکات،ثمرات سے اپنی جھولی کو نہ بھر سکے،اور اس کی فضیلت و اہمیت کو نہ سمجھ سکے، اور اپنی عبادات سے اپنے رب کو راضی نہ کرسکے، وہ بہت بڑی نعمت سے محروم ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا، لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہوگی؟ اس ماہ کی بدولت ہم سب پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، تاکہ اس ماہ میں نازل ہونے والی رحمتوں اور برکتوں سے خوب لطف اندوز ہوسکیں۔

طہارت کا خاص اہتمام:۔ ہمارے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق تو صفائی ویسے بھی ایمان کا حصہ ہے، لہٰذا رمضان المبارک میں کیوں کہ عبادات کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے، لہٰذا اپنے جسم اور لباس کو پاک و صاف رکھنے کی کوشش کرے، گندگی اور ناپاک چھینٹوں سے خود کو بچائیں ، با وضو رہنے کی کوشش کریں، حالت جنابت میں فی الفور غسل کریں، تاکہ روزے کے ثمرات مکمل طور پر حاصل ہوسکیں۔ اس کے علاوہ گھر کو بھی پاک و صاف رکھنا ضروری ہے۔ خوشبو عطر وغیرہ کا استعمال کریں۔

نماز با جماعت ادا کرنا :۔ جیسا کہ رمضان میں ہر نیکی کا اجر ستّر گنا زیادہ کردیا جاتا ہے، عام طور پر با جماعت نماز ادا کرنے پر پچیس،پچاس اور کچھ روایات کے مطابق ستّر گنا زیادہ اجر دیا جاتا ہے، تو پھر رمضان میں تو اس کا ثواب اور بھی زیادہ ہوگا، لہٰذا ملک میں لاک ڈاون کی صورت میں گھر میں نماز باجماعت کا اہتمام کرے، ورنہ ہمیں چاہیے کہ رمضان میں خاص طور پرمسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام کریں۔

قرآن کریم اور وظائف، کا پڑھنا: عام دنوں میں قرآن کریم کے ایک حرف پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، جب کہ رمضان المبارک میں ایک نیکی کا بدلہ ستّر گنا دیا جاتا ہے، لہٰذا فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے قرآن کریم کم از کم دو یا تین مرتبہ ختم کریں، ایک مرتبہ تفسیر کے ساتھ پڑھیں تواور بھی بہتر ہے، دیگر وظائف، دعاؤں میں دل لگائیں۔ اس کے علاوہ رمضان اور روزوں کے متعلق مسائل کا مطالعہ کریں، سیر ت طیبہ اور اسلامی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کریں۔

ایک روایت کے مطابق روزہ اور قرآن قیامت کے روز بندۂ مومن کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا: دن کے وقت میں نے اسے کھانے اور شہوت سے روکے رکھا، پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے رات کو اسے جگائے رکھا، پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما، پس دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔

سحری و افطاری کا اہتمام کرنا:۔ سحری کرنا مستحب ہے لہٰذا سستی کی وجہ سے اسے نہ چھوڑیں، سحری و افطاری دعا کی قبولیت کے اوقات میں شامل ہیں، لہٰذا سحری و افطاری سے کچھ وقت پہلے اپنے لیے، والدین اور اہل و عیال، تمام امت مسلمہ کے لئے خاص دعا کریں، اپنے روزے اور عبادات کی قبولیت کے لئے دعا کریں۔

نیکی کے کاموں میں رغبت اختیار کرنا : کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہ چھوڑیں، اپنے ہر کام کو سنت ِ رسول ﷺ کے مطابق کرنے کی کوشش کریں، نیکی کی دعوت کو عام کریں، اور بڑھ چڑھ کر نیکی کے کاموں میں حصہ لیں، خود بھی برائیوں سے بچیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کی کوشش کریں۔

نمازِ تراویح کی پابندی:۔ تراویح اس ماہ کی خاص عبادت ہے، لہٰذا کوشش کریں نماز تراویح کو مسجد میں با جماعت ادا کریں، اور لاک ڈاون کی صورت میں گھر میں تراویح کا اہتمام کریں اور پورا قرآن سننے کی سعادت حاصل کریں۔

فضول کاموں سے بچنا:رمضان المبارک کی ہر ہر ساعت کو قیمتی سمجھے، اس کی ہر ساعت میں ہزاروں لوگ بخش دیے جاتے ہیں،اور لاکھوں لوگوں کو جہنم سے نجات مل جاتی ہے،فحاش الفاظ سننے اور سنانے سے بچیں،گانے، فلمیں دیکھنے سے بچیں، غیبت، چغلی، تہمت لگانے سے پرہیز کریں اور بری عادت سے سچے دل سے توبہ کریں، اور جو لوگ ایسے کریں تو انہیں اچھے انداز میں سمجھائیں اور اس ماہ کی اہمیت سے آگاہ کریں۔

تاکہ وہ بھی اس رحمت والے مہینے میں اپنے رب کو راضی کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص (بحالت روزہ) جھوٹ بولنا اور اس پر (برے) عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔

اعتکاف:۔اگر ممکن ہو تو اعتکاف کے لیے وقت نکالیں، اعتکاف کے دوران دنیاوی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں، اعتکاف کی صورت میں دوست واحباب سے ملاقات سے گریز کریں، موبائل فون کا ہر گز استعمال نہ کریں، زیادہ وقت عبادات میں گزاریں۔

طاق راتوں میں عبادت کرنا:شب قدر کی ایک رات کی عبادت ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ طلوع فجر تک اس میں انوار و ملائکہ کا نزول ہوتا رہتا ہے،اگر اعتکاف نہ بھی کریں، تب بھی طاق راتوں میں عبادات کا خاص اہتمام کریں، زیادہ تر وقت مسجد میں گزاریں، اس رات گناہ گاروں کی بخشش کردی جاتی ہے، عمل و ریاضت کے شیدائیوں کے لئے شب قدر خاص اہمیت و کشش رکھتی ہے کیونکہ اس میں انتہائی مختصر وقت میں حیرت انگیز حد تک زیادہ سے زیادہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔

ماہِ صیام…رحمت و مغفرت کا پیغام

حضرت عبادہ بن صامتؓ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺنے رمضان المبارک کی آمد پرارشاد فرمایا:’’رمضان کا مہینہ آرہا ہے،جو بڑی برکت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہاری طرف متوجّہ ہوتا اور اپنی رحمتِ نازل فرماتا ہے۔ خطائوں کو معاف کرتا اور دُعائوں کو قبول فرماتا ہے، تمہارے تنافس کو دیکھتا ہے اور ملائکہ کے سامنے فخر فرماتا ہے۔ پس اللہ کو اپنی نیکیاں دکھائو، بدنصیب ہے وہ شخص جو اس مہینے میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔‘‘ (طبرانی)