جسٹس قاضی فائز اور اہلیہ سرینا کے دلائل
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسٹس قاضی فائز اور اہلیہ سرینا کے دلائل

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظرِ ثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس فائز اور ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے دلائل دیئے۔

دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 27 دن بعد محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے، فیصلے کی تفصیلی وجوہات کب جاری ہوں گی؟

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فیصلہ کتنے دن محفوظ رہا، یہ دنوں کی گنتی نہ کریں، فیصلہ سنانا ججز کی صوابدید ہے، مختصر فیصلے کی کاپی آپ کو مل جائے گی، تفصیلی وجوہات جاننا آپ کا حق ہے۔

عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نظرِثانی کی درخواست پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔

اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ روسٹرم پر آگئیں جنہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کی تکریم کا کیس ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آپ کی درخواست آج مقرر نہیں ہے۔

سرینا عیسیٰ نے سوال کیا کہ رجسٹرار سے پوچھا جائے کہ میری درخواست مقرر کیوں نہیں کی؟

جسٹس فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ رجسٹرار کی مرہونِ منت ہے؟ رجسٹرار کے خلاف بہت سخت الزامات پہلے ہی لگا چکا ہوں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ! آپ اپنے کیس پر دلائل دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ یہ عدلیہ کی عزت کا کیس ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے انہیں ہدایت کی کہ کل نظرِثانی کیس سنیں گے، تب تک باقی درخواستیں بھی مقرر ہو جائیں گی، کل دلائل تیار کر کے آئیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار نہیں ہوں۔


جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا آپ تفصیلی فیصلے کے بعد نظرِثانی پر دلائل دیں گے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ میرا انحصار عدالت پر ہے، اگر کہا گیا تو دلائل شروع کر دوں گا۔

ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے کہا کہ فواد چوہدری نے عدالت کو اسکینڈلائز کیا، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، یوسف رضا گیلانی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو توہینِ عدالت کی سزائیں سنائی گئیں، رجسٹرار نے فواد چوہدری کے خلاف توہینِ عدالت کیس کو سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سمجھ نہیں آئی کہ توہینِ عدالت کی درخواستیں کیوں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں؟

جسٹس عمر عطاء بندیالِ نے کہا کہ آپ ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار ہو جائیں، توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر ہو جائیں گی۔

عدالتِ عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظرِثانی درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید