آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عام انتخابات کے نتائج تو بلوچستان میں کسی انقلاب کی نوید نہیں لائے تھے مگر میاں نواز شریف کے ایک دانشمندانہ فیصلے سے صوبے کے افق پر چھائے ہوئے محرومی، ناامیدی، بدامنی اور بے یقینی کے سیاہ بادل بڑی حد تک چھٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے نوابوں، سرداروں اور میر و معتبرین پر مشتمل مسلم لیگ (ن) کو جو ہوا کے موافق رخ کی بدولت صوبائی اسمبلی کی سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی کا حق حکومت سازی روک کر وزارت اعلیٰ کا تاج ایک معتدل مزاج قوم پرست رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے سر پر رکھ دیا۔ اپنی پارٹی کا وزیر اعلیٰ نہ بنا کر نواز شریف نے دوراندیشی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دراصل مسلم لیگ (ن) صوبے میں پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کا حصہ اور اس کی ناکامیوں میں برابر کی شریک رہی ہے۔ اگر وہ حکومت بناتی تو اسے سابق حکومت ہی کا ایک تسلسل سمجھا جاتا اور اس حساس صوبے میں کوئی سیاسی تبدیلی نظر نہ آتی۔ جانے والی حکومت میں 2008ء کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی تمام پارٹیاں 65 رکنی اسمبلی میں اپنے 58 وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج کے ساتھ شامل تھیں اکثر وزیروں کو کھپانے کے لئے ایک ایک محکمے کے دو دو تین تین ٹکڑے کئے گئے۔ پھر بھی بات نہ بنی تو بعض کو وزیر بے محکمہ بنا دیا گیا جن کے پاس کرنے کے لئے تو کوئی کام نہ تھا مگر مالی

مراعات، پروٹوکول کی لمبی لمبی گاڑیاں اور حفاظتی عملے کا لاؤ لشکر بہت تھا۔ ”سلطانی جمہور“ کے اس دور میں بلوچستان کا کوئی مسئلہ حل ہونا تھا، نہ ہوا۔ البتہ ٹارگٹ کلنگ، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے ورکروں کی پراسرار گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اس پس منظر اور بلوچستان کے ان گنت گھمبیر مسائل کی موجودگی میں مصلحت پسند صوبائی مسلم لیگ (ن) قوم پرستوں کی حمایت کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہ لا سکتی اور ناکامی کی ساری ذمہ داری نواز شریف اور وفاقی حکومت پر آ جاتی۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب جسے یہاں ساری ناانصافیوں کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کے فرد جرم میں ایک اور الزام کا اضافہ ہو جاتا۔ اس کے برخلاف قوم پرستوں جو اسمبلی کی تقریباً نصف نشستوں کے ساتھ ایک بڑی قوت ہیں، کی سرکردگی میں بننے والی حکومت زیادہ متحرک ہو گی اور اس کی کامیابی کے امکانات بھی زیادہ ہیں جس کا کریڈٹ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے حصے میں بھی آئے گا اس غیرمعمولی فیصلے سے نواز شریف نے وفاق اور پنجاب پر لگے ہوئے کئی داغ دھو ڈالے ہیں۔ ان کی قیادت میں وفاق نے پہلی مرتبہ صوبے کا حق حکمرانی اپنے منظور نظر سیاستدانوں کی جھولی میں ڈالنے کی بجائے مختلف سیاسی مکاتب فکر کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا ہے۔ اس ایک فیصلے نے بلوچوں اور پشتونوں کی لیڈر شپ کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ “پنجاب نے سب کو اکھٹا کر دیا ہے“ یہ قومی یک جہتی اور ایک بڑے صوبے کے ناراض لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کی جانب مثبت قدم ہے۔ بی این پی مینگل بھی بلوچ علاقوں کی ایک مقبول جماعت ہے۔ انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے اس کے تحفظات دور کر کے اس کا اعتماد حاصل کیا جائے تو یہ صوبے کے پرامن اور خوشحال مستقبل کے لئے بلاشبہ نیک شگون ہو گا۔ نواز شریف نے وزارت اعلیٰ بلوچ اور گورنر کا منصب پشتون قوم پرستوں کو دے کر صوبے کے اندر منصفانہ نمائندگی کے حوالے سے بلوچ پشتون چپقلش کو بھی کم سے کم وقتی طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ ان کی ایک اور کامیابی ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک ضلع کیچے کے ایک متوسط گھرانے کے سلجھے ہوئے اور ٹھنڈے دل و دماغ کے انسان ہیں وہ دو مرتبہ پہلے بھی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں ۔ ایک بار وزیر صحت اور دوسری بار وزیر تعلیم رہے۔ 2006 ء میں سینیٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے اس لحاظ سے وہ صوبائی اور قومی سیاست کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ بطور وزیر اعلیٰ لاپتہ افراد کی بازیابی، مسخ شدہ لاشوں اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔
اس کے علاوہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسندوں کو ہتھیار چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ کرنا ہے کیونکہ امن و امان کے سارے مسائل اسی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں وفاق، عسکری قیادت اور سکیورٹی و انٹیلی جنس ایجنسیوں کے عملی تعاون کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر مالک طاقت کے استعمال کے سخت خلاف ہیں اور اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔ نواز شریف بھی اس مسئلے کا دوسرے قومی معاملات کی طرح نئی سوچ اور نئے زاویے سے جائزہ لیں تو اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ نئی صوبائی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں سے بلوچ روایات کے مطابق براہ راست رابطے کرے گی۔ محض بات چیت کی دعوت دینا کافی نہیں۔ وفاق کو اس معاملے میں اس کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے سابق وفاقی اور صوبائی حکمران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ناراض بلوچوں کو بلاتے رہے ہیں کہ آؤ ہم سے بات کرو۔ یہ بلوچوں کی روایت نہیں ہے جس نے انہیں راضی کرنا ہے، خود چل کر ان کے پاس جائے۔
علیحدگی پسندوں کے لیڈر بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں ، صرف ایک مزاحمتی لیڈر بلوچستان کے اندر موجود ہے اور وہ ڈاکٹر عبدالمالک کے علاقے کا عام نوجوان ہے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بلوچستان کے سینئر وزیر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سینئر نائب صدر اور نواب خیر بخش مری کے متوقع جانشین نوابزادہ جنگیز خان مری کے ایک بھائی میر حیر بیار مری مسلح تنظیم بی ایل اے کو چلا رہے ہیں دوسرے بھائی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بلوچستان کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے کونسل کے حالیہ اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ”بلوچستان کا موقف“ اتنے پرزور انداز میں پیش کیا کہ امریکا اور برطانیہ کے نمائندے بھی ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ تیسرے بھائی بالاچ مری ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔ بلوچ قوم پرستوں اور علیحدگی پسندوں کے مقاصد ایک ہی ہیں فرق یہ ہے کہ قوم پرست پاکستان کے اندر یہ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ علیحدگی پسند پاکستان سے باہر۔ براہ راست رابطوں سے ان کے نقطہ ہائے نظر میں مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے۔ نواز شریف کو اس عمل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور ضرورت پڑنے پر خود بھی مزاحمتی لیڈروں سے رابطے پیدا کرنے چاہئیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں