فٹبال کے بعد پاکستان باکسنگ پر عالمی پابندی کے خطرات
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

فٹبال کے بعد پاکستان باکسنگ پر عالمی پابندی کے خطرات

فٹ بال کے بعد اب پاکستان باکسنگ کو بھی عالمی پابندی کا خطرہ لاحق ہے۔ باکسنگ کی عالمی تنظیم آئبا نے پاکستان پر عالمی سطح پر پابندی کا عندیہ دے دیا۔ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (آئبا)کے صدر عمر کرملیو نے پاکستان باکسنگ کے متنازع انتخابات کے بعد اپنا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے 24جنوری 2021ء کے انتخابات کو مسترد کرتے ہیں ، خالد محمود اور جہانگیر ریاض کو ہدایت کرتے ہیں کہ دونوں مل کر ایڈہاک کمیٹی بنائیں جو تین ماہ میں فیڈریشن کے انتخابات آئباکے مقرر کردہ نمائندے کی موجودگی میں کرائے۔

آئبا کا کہنا ہے کہ وہ جہانگیر ریاض کی سربراہی میں ایڈہاک کمیشن کے لئے مشترکہ طور پر دو ممبرکو نامزد کرے۔ آئبا کا کہنا ہے کہ پی بی ایف کے رواں سال کے آغاز میں ہونے والے دونوں انتخابات کو تسلیم نہیں کرتی ،صدر اور ایگزیکٹو کمیٹی سمیت پی بی ایف کی باڈی کو مسترد کرتے ہیں۔ اس لئےپی بی ایف سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اندر نئے انتخابات کرائے۔ بصورت دیگر پی بی ایف کے ذریعہ ایم اے آئین کے سنگین خلاف ورزی کا نوٹس بورڈ کو پیش کیا جائے گا جس کے نتیجےمیں بورڈآئبا، پاکستان باکسنگ فیڈریشن پر آئین کے آرٹیکل 13 کے مطابق ممبر شپ سے معطلی کا اطلاق کرنے کا حقدار ہوگا۔

آئبا کے سربراہ کی جانب سے جاری کیا جانے والا یہ پروانہ یقیناً اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئبا کے پاس پاکستان باکسنگ کے بوگس انتخابات سے متعلق تفصیلی اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں، فیفا پہلے ہی پاکستانی فٹ بال پرپابندی عائد کرچکی ہے اب یہی صورتحال پاکستان باکسنگ کے ساتھ بھی ہونے جارہی ہے ۔

ابھی آئبا نے خط کے ذریعے معاملات کو درست کرنے کا کہا ہے اگر پاکستان باکسنگ کے ذمہ داراس صورتحال کو صحیح طریقے سے نمٹانے میں کامیاب ہوجانے ہیں تو آئبا کسی سخت ایکشن سے باز رہے گی ورنہ قبضہ اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ فٹ بال سے مختلف نہ ہوگا۔ پاکستان باکسنگ سےتعلق رکھنےوالے سینئرز، کوچز، کھلاڑی اور ہمدرد بھی پاکستان باکسنگ کے تنازع کو اچھی نظر سے نہیں د یکھ رہے ہیں۔

ان میں سے بیشتر یہ سمجھتے ہیں کہ برسوں سے پاکستان باکسنگ پرقابض عہدیداروں نے باکسنگ کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ ان کی موجودگی میں پاکستانی باکسنگ مسلسل زوال کا شکار رہی، انہیں چاہئے کہ وہ خود باعزت طریقے سے اس کاکھیل کا پیچھا چھوڑ دیں اور ان لوگوں کو کام کرنے کا موقع دیں جو اس کھیل کیلئے کچھ کرنا چاہئے ہیں۔ علی اکبر شاہ قادری نے آئباکے صدر کے فیصلے کو جہانگیر ریاض سمیت پاکستان بھر کے حقیقی باکسنگ کے لوگوں کی واضع فتح قرار دیا ۔

خالد محمود نے اپنے دوستوں اور من پسند ساتھیوں کے ساتھ ملکر پاکستان کی باکسنگ کو انتہائی نچلے درجے پر پہنچا دیا ہے۔من پسند آئینی ترامیم، ڈکٹیٹر شپ،اپنی مرضی سے قوانین مسلط کرنا اور باکسنگ کے ہر شعبہ کو تنزلی تک پہنچانے میں انہوں نے اپنی تمام حدود پار کردیں جن محکموں اور علاقوں میں باکسنگ کا وجود نہیں انہیں ووٹنگ رائٹ دینا جس کی باکسنگ سے محبت کرنے والے ہر شخص نے مخالفت کی۔ جہانگیر ریاض نے آئبا کے سامنے باکسنگ کے سارے گھناؤنے کھیل کو بے نقاب کیا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید