کچھی کینال منصوبے سے بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی آرہی ہے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھی کینال منصوبے سے بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی آرہی ہے

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ زراعت کی ترقی دراصل ہماری معیشت کی ترقی کی بنیاد ہے۔ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنیادوں پر استوار کرنےکے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ اراضی زیرِکاشت لائی جائے۔اِس مقصد کے حصول کے لئے پانی کا ذخیرہ اور اِس کا بہتر استعمال انتہائی ضروری ہے۔

ماضی میں فیصلہ سازی اور منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے پانی کے وسائل سے استفادہ کرنے کیلئے اقدامات عمل میں نہیں لائے گئے۔ نتیجتاً ہمیں آج پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ہمارے ملک میں لاکھوں ایکڑ ایسی اراضی موجود ہے جو کاشت کاری کے قابل تو ہے لیکن پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اسے زیرکاشت نہیں لایا جا سکا۔

اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو قابلِ کاشت اراضی کی بیش بہا نعمت سے بہرہ مند کیا ہے لیکن صوبے کے شدید موسمی حالات اور دستیاب آبی وسائل کی عدم ترقی کی وجہ سے قدرت کے اِس عظیم عطیے سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایاجاسکا۔

بلوچستان میں قابلِ کاشت لیکن غیر آباد اراضی کو سیراب کرنے کے لئےآبپاشی کے بڑے منصوبوں کا عملی طور پرآغاز کیاگیا تاکہ بلوچستان سےپسماندگی اور غربت دور کی جائے اوربلوچستان کو بھی ملک کے دیگر حصوں کےہم پلہ بنایا جائے۔کچھی کینال پراجیکٹ انہی منصوبوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان کی زرعی اقتصادیات کے حوالے سے پانی کا ہر منصوبہ خواہ وہ ڈیم ہویا نہر، اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن کچھی کینال کو اپنی افادیت کے لحاظ سے منفرد حیثیت حاصل ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ اِس منصوبے کی بدولت بلوچستان میں زراعت فروغ پا رہی ہے۔ باغات لگائے جارہے ہیں،گلہ بانی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے نقل مکانی کا رجحان ختم ہوگیا ہے اور لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی میں بہتری آرہی ہے۔ لیکن کچھی کینال کے تین اہم فوائد ایسے ہیں، جن کی بدولت اِس منصوبے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

کچھی کینال کے کمانڈ ایریا میں اِس نہر کی تعمیر سے قبل لوگوں کو پینےکا پانی بھی دستیاب نہیں تھا اور اِس مقصد کے لئے اُنہیں کئی میل کی مسافت طے کرنا پڑتی تھی، لیکن اب نہ صرف لوگوں کو اپنے اور اپنے مال مویشیوں کے لئے پینے کا پانی دستیاب ہے بلکہ اِس منصوبے کی بدولت اب پیاسی زمین بھی سیراب کی جارہی ہے۔ 

کچھی کینال کی تعمیر سے قبل مطلوبہ انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان دریائے سندھ کے مقام سے اپنے حصےکا پورا پانی نہیں لے سکتا تھا، لیکن اِس منصوبے کی تعمیر سے بلوچستان اپنے حصے کا پورا پانی لے سکے گا۔بلوچستان گزشتہ کئی برس سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ہماری سکیورٹی فورسزکی قربانیوں اور مقامی لوگوں کے تعاون سے اب حالات میں تبدیلی آرہی ہے۔کچھی کینال کی بدولت زراعت کو فروغ ملاہے اور زراعت اور اِس سے وابسطہ دیگر شعبوں میں روز گارکے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے علاقے میں دہشت گرد ی کے عفریت پر قابو پانےمیں بھی مدد ملی ہے۔

کچھی کینال منصوبہ بلوچستا ن میں زراعت، زرعی شعبہ سے متعلق صنعت کے فروغ کے ساتھ ساتھ صوبے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے، پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں واقع تونسہ بیراج سے نکلتی ہے اور اِسکا کمانڈ ایریا صوبہ بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، بولان اورجھل مگسی میں واقع ہے، منصوبے کی تکمیل سے ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، بولان، جھل مگسی اوراس کے گردونواح کے پسماندہ علاقوں میں دُور رس ترقی کی ایک نئی تاریخ رقمہوگی۔

اِس نہر کی تکمیل سے بلوچستان کی وادی کچھی کی 7 لاکھ 13 ہزار ایکڑاراضی سیراب ہوگی، زمین کی زرخیزی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور بہتر فصلیں پیدا ہوں گی۔ علاقے میں پھلوں کی پیداوار بڑھے گی، جنگلات کی نشوونما ہوگی اور گلّہ بانی کو فروغ ملے گا۔مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی ممکن ہوگی۔

منصوبے کو تین مختلف مراحل میں مکمل کیا جارہا ہے۔کچھی کینال کے پہلے مرحلے کا کمانڈ ایریا ایک لاکھ 2ہزارایکڑ پر مشتمل ہے۔ دوسرےمرحلے کا کمانڈ ایریا 2لاکھ67ہزار اراضی جبکہ تیسرے مرحلے کا 3لاکھ44ہزار ایکڑ پر محیط ہے۔

واپڈا نے 80ارب روپے کی لاگت سے کچھی کینال منصوبے کے فیز۔ ون کے تحت 363 کلومیٹر طویل مین کینال اور اِس سے متصل آبپاشی کا نظام مکمل کیا،جس کے ذریعے 72ہزار ایکڑ زمین سیراب کی جاسکتی ہے۔اِس نہر میں پانی کے بہاؤ کی صلاحیت 6ہزار کیوسک ہے۔مین کینال سےکمانڈ ایریا تک پانی پہنچانے کے لئے 81 کلو میٹر طویل چھوٹی نہروں پر مشتمل آبپاشی کا نظام بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

اِس وقت سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں واقع کچھی کینال کے کمانڈایریا میں 52ہزار ایکڑ اراضی پر کاشت کاری شروع کی جاچکی ہے۔جو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کےپسماندہ علاقوں میں لوگوں کی زِندگی میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

بلوچستان کی حکومت باقی 20ہزار ایکڑ اراضی کو بھی بہت جلد ہموار کر دے گی جس کے بعد اِس اراضی پر بھی فصلیں کاشت کی جائیں گی۔ پانی دستیاب ہونے پرلوگ اپنی غیر آباد اراضی کو زیر کاشت لارہے ہیں اور اِن کی زِندگی میں نمایاں بہتری آرہی ہے۔

منصوبہ بلوچستان میں واٹر انفراسٹرکچر اور آبپاش زراعت کی ترقی کے لئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ منصوبے کی اہمیت کے پیشِ نظر واپڈا نےفیز۔ون کے باقی کاموں کی تعمیر کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔

فیز۔ون کے بقیہ کاموں کے تحت 3سال کی مدت میں 40کلو میٹر طویل پختہ مین کینال اور 32کلو میٹر طویل ذیلی نہروں پر مشتمل آبپاشی کا نظام تعمیر کیاجائے گا۔ جس کے بعد ڈیرہ بگٹی ضلع میں مزید 30 ہزار ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو سکے گی۔ واپڈا نے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی فزیبلٹی رپورٹس تیار کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان کی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔اِس منصوبے کی تکمیل سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بنجر زمین زیر کاشت آئے گی،فصلوں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا،صوبے سے پسماندگی دور ہوگی اور لوگ خوشحالی سے ہمکنار ہوں گے۔