• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا نے سب سے زیادہ فارما سیکٹر کی سرمایہ کاری اور روزگار کو متاثر کیا

ج۔م

پاکستان میں اس وقت کرونا کی تیسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اس سے قبل دو لہروں نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا اور بے روز گاری کی شرح میں اضافہ ہوا اسی سے نئی سرمایہ کا عمل رک رک کر چل رہا ہے ،اور جس سیکٹر نے اس میں کردار ادا کرنا ہے وہی سب سے زیادہ فارما سیکٹر ہی متاثر ہوا ہے اس ساری صورتحال پر بات چیت کے لئے ہم نے فارما سیوٹیکل شعبے سے وابستہ معروف بز نس مین ڈاکٹرقرۃالعین سے گفتگو کی ۔

ڈاکٹر قرۃالعین کہتی ہیں کہ اس وقت کرونا سے ہماری فارما سیوٹیکل انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فریٹ جہازوں کی آمد و رفت بند ہے را میٹریل نہیں آرہا اور ہماری پیداواری استعداد کم ہو گئی ہے اس کے ساتھ ہی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافے سے مالی بوجھ بھی پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا زیادہ تر را میٹریل چین اور یورپ سے آتا ہے جہاں ایک سال سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بندش ہے لاجسٹک ہماری ضرورت ہے۔ حالات کی وجہ سے ہمارے آرڈرز بہت کم ہو گئے ہیں۔ ہمارا ریونیو کم ہوا ہے جس کی وجہ سے سٹاف میں بھی کمی آئی ہے لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ مشکلات کو کمپنیاں برادشت کریں اوربے روز گاری نہ ہونے دیں۔انھوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری شروع ہے ہمارا حکومت سے پر زور مطالبہ ہے کہ فارماسیوٹیکل پر سیلز ٹیکس ختم کرے اور ڈیوٹیز کو بھی کم کیا جائے اور جو ڈیوٹیاں اس وقت ڈبل ہیں انھیں ہاف پر لایا جائے تاکہ انڈسٹری فعال ہو سکے وگرنہ کرونا کی تیسری لہر سے ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔

حکومت کو سیلز ٹیکس ریفنڈ، زیرو ریٹیڈ سیکٹرز میں اضافہ، شرح سود کو کم کرنے کی بھی تجاویز دی ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ حکومت ہماری ان تجاویز پر بھی عمل کرے گی۔ تاکہ بے روزگاری اور مہنگائی میں کمی آئے اور تاجروں کو بھی ریلیف مل سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے کافی چیزیں رُکی ہوئی ہیں ۔کوویڈ کی وجہ سے اتھارٹی صرف اہم ایشوز کو دیکھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری ساری کلئیرنس کارروائی رکی ہوئی ہےکوئی قانونی کام نہیں ہو پار ہا ہےہماری صنعت کو سخت مشکل کا سامنا ہے سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے لیکن ڈریپ منظور ی نہیں دے رہی جس سے ہم پریشان ہیں۔

ڈاکٹر قرۃالعین کا کہنا تھا کہ ڈریپ سے شکوہ ہے کہ یہ تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں اور ان کی طرف سے وہ توجہ نہیں ملتی جو ہمارا حق اور ان کا دینا فرض ہے۔ اس محکمے کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ ڈریپ ہماری انڈسٹری کے حوالے سے ایک اہم ادارہ ہے۔حکومت کو چاہئے کہ اس کی تشکیل ، ٹریننگ کے ذریعےکارکردگی میں اضافہ کیا جائے تاکہ اتنا بڑا لائف سیونگ سیکٹر مشکلات کا سامنا نہ کرے۔

ڈاکٹر قرۃ العین نے مزید کہا کہ تجویز ہے کہ پیکنگ پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے فارما دیگر مصنوعات پربھی ناجائز ٹیکسوں کی بھر مار ہے وہ بھی کم کئے جائیں انھوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک مقامی گروپ نے تمام بوتل بنانے والی کمپنیوں سے دوائیوں کی بوتل اور پلاسٹک سامان خرید لیا ہے اب انکی اجارہ داری ہے اور وہ کارٹل بنا کر من مانی کرتے ہوئےیہ اشیا کئی گنا مہنگی بیچ رہے ہیں حیرانگی کی بات ہے متعلقہ ادارے خاموش ہیں کوئی ان کے خلاف آواز اٹھانے والا نہیں اور ان کے ناجائز منافع پر بولنے والا نہیں یہ چھوٹی کمپنیوں اور عام صارفین سے ظلم کر رہے ہیں۔

ان کی وجہ متعدد کمپنیوں کا کاروبار مشکلات کا شکار ہے کیونکہ یہ تمام چیزیں آخر میں مہنگائی کا سبب بنتی ہیں جو کہ اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فارما سیوٹیکل سیکٹر کو مراعات ملنی چا ہئیں۔ بہرحال حقیقت ہے کہ کوویڈ میں سب سے زیادہ یہ سیکٹر متاثر ہوا اسی نے مریضوں کی خدمت کرنی ہے۔ وفاق اور پنجاب حکومت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور قانون سازی کا عمل سادہ اور شفاف بنائیں۔ڈاکٹر قرۃ العین نے زور دیا کہ آنے والے بجٹ میں فارما سیکٹر کو خصوصی توجہ دی جائے۔ ہمارےخام مال پر ڈیوٹیز کم کی جائیں، سپورٹنگ کیمیکلز پر بھی ڈیوٹی صفر کی جائے جن کے بغیر دوائی بنانا نا ممکن نہیں۔

کامرس سے مزید