• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزے رکھنے میں چند باتوں پر توجہ دیں؟

رمضان کے بابرکت مہینے میں مسلمان روزہ جیسی فرض عبادت کا اہتمام کرتے ہیں۔ روزہ چونکہ صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک رکھا جاتا ہے، اس وجہ سے لوگوں کے معمولات زندگی میں تبدیلی آجاتی ہے جس میں سونا جاگنا اور کھانے پینے کے اوقاتِ کار قابل ذکر ہیں۔ سارا دن جسم میں توانائی برقرار رکھنے کے لیے سحری کی جاتی ہے۔ روزہ کی حالت میں جسم سحری کے دوران کھائی جانے والی خوراک سے کیلوریز استعمال کرتا ہے اور جب یہ ختم ہوجاتی ہیں تو جسم میں جمع شدہ کاربوہائیڈریٹس اور فیٹس استعمال ہوتے ہیں۔ 

جسم چونکہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے گردے پیشاب کے ذریعے پانی کا اخراج کم کردیتے ہیں مگر گرمیوں میں پسینے کے ذریعے بھی پانی کا اخراج ہوتا رہتا ہے۔ رواں سال بھی رمضان گرمیوں میں آئے ہیں تو ایسے میں موسم کی سختی اور روزے کا طویل دورانیہ پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے سبب کچھ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جیسے کہ تھکاوٹ، سردرد اور کام پر توجہ مرکوز نہ ہونا۔

روزہ اور صحت

صحت کے حوالے سے روزہ رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان خوراک کی زیادتی سے بچ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے ہونے والے امراض سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ حکیم محمد سعید (مرحوم) نے لکھا ہے کہ روزہ جسم میں پہلے سے موجود امراض کاعلاج ہے اور روزہ دار بیماریوں سے نجات پاتا ہے۔ روزے کا ایک اورطبی فائدہ یہ ہے کہ قوت مدافعت میں بڑھوتری ہوتی ہے۔یہ بات ایک تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ رمضان کے پورے روزے رکھنے سے جسم کا مدافعتی نظام بحال اور مضبوط رہتا ہے۔ 

روزے کے دوران خون میں برے کولیسٹرول کی مقدار اور چربی (ٹرائگلیسرائیڈ) پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بھی مطالعے کیے گئے، جن کے مطابق رمضان کے پورے روزے رکھنے سے خون میں ان منفی عناصر کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور صحت بہتر ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مسلسل روزے رکھنے سے ذہنی حالت (ذہنی تناؤ،ڈپریشن اور نفسیاتی امراض) بہتر ہوتی ہے اور مختلف اقسام کے کینسر سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو معالج کے مشورے سے دواؤں اور انسولین کی ڈوز میں کی جانے والی تبدیلی کا دھیان رکھنا چاہیے اور ماہرین غذائیت کے مشورے سے ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہئیں جن سے وہ بغیر کسی پریشانی کے روزے رکھ سکیں۔

زیادہ پانی پینا

چونکہ رمضان موسم گرما میں آئے ہیں ایسے میں جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے روزہ کھولنے کے بعد وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں پانی پینا چاہیے۔ طبی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ افطار اور سحری کے درمیان آٹھ گلاس پانی پینے کی کوشش کریں۔ 

پانی میں الیکٹرولائیٹس (چینی، نمک، شہد، لیموں کا رس)شامل کرلینے سے جسم میں وٹامنز برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ پھلوں کا تازہ رس بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیفین والے مشروبات (چائے اور کافی) پینے سے بھی گریز کریں کیونکہ اس سے پیشاب کے ذریعے بدن سے پانی کا زیادہ اخراج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سافٹ ڈرنکس کے استعمال کو بھی ترک کردینا چاہیے کیونکہ یہ ہاضمے کے عمل کو سست کرتے ہیں۔

کھانے میں احتیاط

طبی ماہرین سحرو افطار میں مرغن، چٹ پٹے اور تیز مسالاجات والی خوراک کے بجائے سادہ خوراک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سحر و افطار میں بسیار خوری سے بچتے ہوئے اپنی خوراک میں اعتدال برتنے سے صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ افطار کے وقت ہلکی پھلکی خوراک (کھجور اور پانی) لینا صحت کے لیے بہتر قرار دیا جاتا ہے۔ بعد میں وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھانے سے معدے پر بوجھ نہیں پڑتا۔ 

رات کو تلی ہوئی اشیا اور فاسٹ فوڈ سستی، پیاس اور پیٹ میں گیس کا باعث بن سکتے ہیں، ساتھ ہی وزن بھی بڑھتا ہے۔ بہت زیادہ نمک کا استعمال بھی پیاس کی شدت کو بڑھاتا ہے۔ لہٰذا کوشش کریں کہ آپ سحروافطار میں غذائیت سے بھرپور خوراک کھائیں۔

ورزش

ویسے تو لوگوں کی اکثریت ورزش کرنے پر توجہ نہیں دیتی اور جو لوگ ورزش کرتے ہیں ان کا رمضان میں شیڈول آگے پیچھے ہوجاتا ہے۔ تاہم، طبی ماہرین کی رائے کے مطابق رمضان میں بہت سخت ورزش (تیز دوڑنا یا ویٹ اٹھانا) کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ رمضان میں بھی فعال طرزِ زندگی اپنانے کے لیے ہلکی ورزش کرتے رہنا چاہیے جیسے کہ چہل قدمی، پورے جسم کی اسٹریچنگ وغیرہ تاکہ جسم میں خون کی روانی اور باقی جسمانی افعال درست کام کرتے رہیں۔

تمباکو نوشی ترک کرنا

کئی لوگ تمباکو نوشی کرنے اور صحت کے لیے انتہائی مضر کچھ دوسری نشہ آور اشیاکھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ تاہم، رمضان المبارک کا مہینہ روزے کے ذریعے ایسے تمام لوگوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی اس بُری عادت کو ترک کردیں۔جس طرح روزے کی حالت میں وہ مضرِ صحت اشیا کا استعمال نہیں کرتے اور خود پر قابو رکھتے ہیں تو اسی طرح انھیں روزے کے بعد بھی ان کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

صحت سے مزید