• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایشیا کو مجموعی طور پر اس وقت کووِڈ-19وَبا کی خطرناک تیسری لہر کا سامنا ہے۔ ایسے میں فوربز کی ’’30اَنڈر 30‘‘ لسٹ برائے ایشیا2021ء میں شامل نوجوان انٹرپرینیورز، سائنسدان، کارکنان اور ینگ لیڈرز، کووِڈ-19کے حالات و واقعات کو ’’نیو نارمل‘‘ سمجھتے ہوئے اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے زبردست محنت کرتے نظر آتے ہیں۔

2020ء میں کورونا وبائی مرض کی صورت میں ا س نسل نے اپنے دور کا مشکل ترین سال دیکھا ہے، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود ان 300 ملینئلز اور جنریشن-زیڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے تھکادینے والے لاک ڈاؤن، محدود سفری آزادی اور ہر طرف بے یقینی کی کیفیت کے باوجود، خود کو ناصرف مستحکم رکھا ہے بلکہ اپنے آگے بڑھنے کے سفر کو بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ ان میں سے اکثر نوجوانوں نے اپنے کاروبارکو فروغ دینا جاری رکھا اور وبائی مرض کے باعث آنے والی تبدیلیوں کو اپنالیا، جب کہ کچھ نے ہمت، حوصلہ اور ذہانت استعمال کرتے ہوئے عالمی وبا کے درمیان نئے کاروبا شروع کیے اور اپنے لیے وہاں مواقع تلاش کیے، جہاں دوسروں کو رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔

مجموعی طور پر اس سال فہرست میں شامل ہونے کے لیے موصول ہونے والی 300انٹریز کا تعلق ایشیا کے 22ممالک اور علاقوں سے ہے، جو اس خطے کے متنوع ’’انٹرپرینیورل ایکو سسٹم‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہرچندکہ، کورونا وَبائی مرض کے باعث سالِ گزشتہ کے دوران نئے کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری میں کمی آئی، 30اَنڈر 30لسٹ برائے ایشیا میں شامل کچھ نوجوان، جن کا تعلق زیادہ تر چین اور بھارت سے ہے، اپنے منصوبوں کے لیے قابلِ ذکر فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 

فہرست میں شامل ہونے کے لیے موصول ہونے والی 300 انٹریز میں سے 17 اسٹارٹ -اَپس نے، فی اسٹارٹ -اَپ 15ملین ڈالر سے زائد فنڈنگ حاصل کی۔ ان میں سے ایک اسٹارٹ-اَپ، جس کا نام Razorpayہے، نے بھارت کا اولین فِن ٹیک یونی کارن (یونی کارن ایسے اسٹارٹ-اَپ کو کہتے ہیں جو ایک ارب ڈالر کی ویلیوایشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے)بننے کا اعزاز حاصل کرلیا، اس کی ویلیوایشن 3ارب ڈالر کی گئی۔Razorpayکے شریک بانی ہرشیل ماتھر کہتے ہیں، ’’یونی کارن کا اعزاز حاصل کرنا ایک زبردست بات ہے لیکن ہم ایک طویل سفر کے لیے نکلے ہیں‘‘۔

رپورٹ کے مطابق، کورونا وَبائی مرض کے باوجود، سالِ گزشتہ کے دوران ، بھارت کے ٹیک اسٹارٹ-اَپس میں 10ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری آئی اور فوربز کی جانب سے زیرِ غور لائی جانے والی 300 انٹریز میں سے، سب سے زیادہ یعنی 76 کا تعلق بھارت سے تھا۔ ایشیا کے دیگر ممالک میں، شاید کسی اور ملک میں اس تعداد میں یونی کارن نہ اُبھرے ہوں لیکن ایسے باصلاحیت اورممکنہ طور پر ’بلین ڈالر‘ ویلیوایشن حاصل کرنے والے اسٹارٹ- اَپس کی کمی نہیں ہے، جو فوربز کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

ایک نام غالباً آپ نے سُن رکھا ہوگا، ’’اِسٹیلا بینیٹ‘‘ عرف ’بینی‘۔ بینی کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے اور وہ گلوکارہ اور نغمہ نگار ہیں۔ یہ سوشل میڈیا پر انتہائی شہرت رکھتی ہیں اور ان کا ٹریکSupalonely 2.3ارب بار اسٹریم کیا گیا ہے اور211ملین وِیوز حاصل کرچکا ہے۔ بینی کی مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’جنریشن زیڈ‘‘ سوشل میڈیا پر کس قدر اثر رکھتی ہے۔ 

میوزک بنانے اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرنے کے علاوہ، بینی ایک اور مقصد کے لیے بھی کام کررہی ہیں۔ بینی نے ’’اولیو‘‘ کے نام سے ایک ریکارڈ لیبل لانچ کی ہے، جسے خواتین مکمل طور پر چلاتی ہیں اور اس کا مقصد نئی اُبھرنے والی اور باصلاحیت آرٹسٹوں کو سپورٹ کرنا ہے۔ بینی نے ای میل انٹرویو کے ذریعے فوربز کو بتایا، ’’میں ہر وقت ممکنہ آرٹسٹوں کے ساتھ کام کرنے کی جستجو میں رہتی ہوں۔ میں اس منصوبے کے لیے صرف خواتین کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں‘‘۔

فہرست میں شامل ایک اور نوجوان لڑکی، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایلینی گلوفٹسس ہیں۔ یہ آسٹریلوی کھیلوں کی امپائرنگ کے میدان میں ایک نئے جھونکے کی طرح وارد ہوئیں اور 2017ء میں انھیں آسٹریلین فٹ بال لیگ میچ کی امپائرنگ کا موقع میسر آیا۔ آسٹریلوی شعبہ اسپورٹس میں بیش بہا خدمات کے عوض انھیں ملک کا سب سے بڑا اعزاز ’’میڈل آف دی آرڈر آف ایشیا‘‘ دیا گیا۔ اس سال کی اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ کیٹیگری میں، غیرمعمولی کارکردگی کے باعث اس آسٹریلوی فیمیل امپائر کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے۔

سوشل انٹرپرینیورز نے بھی سالِ گزشتہ کے دوران زبردست کام کیا، وہ برسوں پرانے مسائل اور کورونا وبائی مرض کے باعث پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے پُر اُمید نظر آئے۔ صفائی ستھرائی اور نکاسی آب سے لے کر پسماندہ برادریوں کی امداد کرنے تک، بحرالکاہل ایشیا میں سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والے نوجوان اُمید کا ایک نیا دِیا جلاتے ہیں۔

ہیلتھ کیئر کی بات کریں تو افغانستان سے تعلق رکھنے والی پانچ ٹین ایج لڑکیاں، منفرد سلوشنز کے ذریعے اپنے ملک میں کورونا وَبا سے نمٹ رہی ہیں۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والی گرلز روبوٹک ٹیم نے ایک کم لاگت ، کم وزنی وینٹی لیٹر ایجاد کیا ہے، جو کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی مدد کررہا ہے۔ 

حتمی ٹیسٹنگ کے بعد اس وینٹی لیٹر کی طبی سطح پر استعمال کی اجازت دی جائے گی اور توقع ہے کہ اس کے بعد افغانستان میں وینٹی لیٹرز کی کمی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ان لڑکیوں میں سمیعہ فاروقی (18سال)، الہام منصوری (17سال)، ڈیانا وہاب زادہ (15سال) اور فلورنس پویا (15سال) شامل ہیں۔ ان لڑکیوں کا شمار اس سال کی 30اَنڈر 30لسٹ میں شامل کم عمر ترین لڑکیوں میں ہوتا ہے۔

بدلتے حالات میں جس قدر لچک کا مظاہرہ وِشویش سوریا ناراین اور ڈیلان ٹن نے کیا وہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کووِڈ-19نے سیاحتی صنعت کو تباہ کرکے رکھ دیا تھا اور ان کی ٹریول پے منٹ اسٹارٹ-اَپ کمپنی نادہندہ ہونے کے دہانے پر آگئی تھی تو حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے، ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ان انٹرپرینیورز نے اپنی اسٹارٹ-اَپ کے کاروبار کو ہی تبدیل کردیا اور ’’ابھی خریدیں بعد میں ادائیگی کریں‘‘ ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے کلائنٹس کو ڈائسن اور لیگو جیسی کمپنیوں سے قسطوں پر بلاسود خریداری کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا آغاز کیا۔ اپریل 2020ء سے اس کمپنی نے 300برانڈز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں اور 4ملین ڈالر کی مصنوعات فروخت کی ہیں۔ اس اسٹارٹ-اَپ نے ایک ملین ڈالر کی فنڈنگ بھی حاصل کی ہے۔

اُبھرتی ہوئی فیمیل انٹرپرینیورز

ہرچندکہ ایشیا میں اور عالمی سطح پر، مردوں کے اسٹارٹ-اَپس کے مقابلے میں خواتین کے اسٹارٹ-اَپس کے لیے فنڈنگ کی مالیت کم رہی ہے، مگر اس کے باوجود ایسی کئی نوجوان خواتین سامنے آئی ہیں، جنھوں نے اپنے اسٹارٹ -اَپس کو کامیاب بنانے میں زبردست محنت کی۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیاں نٹالی کھوئی اور شیڈی کورڈ 2012ء میں ملیں اور فیشن کے لیے ان کا مشترکہ پیار ان کی دوستی کی وجہ بنا۔ اس کے اگلے سال انھوں نے ایک چھوٹا ای کامرس کاروبار شروع کیا اور 2015ء تک اسے بڑے پیمانے پر ای کامرس کاروبار میں بدل دیا۔ 

دونوں نے اس اسٹارٹ-اَپ میں 300ملین ڈالر سرمایہ کاری کی اور اس وقت دنیا بھر میں ساڑھے سات لاکھ کلائنٹس کو فیشن ایسیسریز فراہم کرتی ہیں، ان کے لیے 50ملازمین کام کرتے ہیں۔ ان کے فیشن پراڈکٹس کے استعمال کرنے والوں میں جینیفر لوپیز اور آریانا گرینڈی جیسی ہالی ووڈ سیلیبرٹیز کے علاوہ کئی سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی شامل ہیں۔

چین سے تعلق رکھنے والی شی شی ہونگ خود بھی ایک سبزی خور ہیں اور گزشتہ سال انھوں نے پلانٹ بیسڈ غذائیں فروخت کرنے والی کمپنی Hey Maetکی بنیاد رکھی۔ ان کی مصنوعات میں پلانٹ بیسڈ بیف برگر، چکن نگٹس اور سوپ ڈمپلنگ شامل ہے۔ اس اسٹارٹ-اَپ نے چین کے کئی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور فنڈنگ حاصل کی ہے۔ اس فنڈنگ کو اب وہ اپنی پراڈکٹس کے فلیور کو بہتر بنانے اور نئی پراڈکٹس کی تیاری پر خرچ کررہی ہیں۔

کامرس سے مزید