بھارتی جارحیت اور پاکستان کا احتجاج
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وبا کی شدت سے اِس وقت جہنم کا منظر پیش کرنے والا بھارت داخلی حالات کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ پیر کے روز بھارتی فورسز نے جنگ بندی سے متعلق 2021 میں ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنزکے معاہدے کی پہلی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیالکوٹ کے چاروا سیکٹر میں ورکنگ باؤنڈری عبور اور بلااشتعال فائرنگ کی ۔ پاکستان نے بھارت کی اِس ہٹ دھرمی اور جارحیت پر شدید احتجاج کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اِس حوالے سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو ایک احتجاجی نوٹ لکھا جس میں کہا گیا کہ بھارتی بی ایس ایف کے جوانوں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ امن کو سبوتاژ کرنے کے ارادے سے ورکنگ باؤنڈری کو عبور کیا اور مارٹروں کا استعمال کرتے ہوئے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اُس نے اِس واقعے کے بعد پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ یاد رہے کہ فروری میں پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔جس میں فریقین نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کسی بھی طرح کی غیرمتوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔کورونا کی شدید لپیٹ میں آئے بھارت کو پاکستان نے اِس وبا سے نمٹنے کیلئے امداد کی پیشکش بھی کی تھی جو پاکستان کی طرف سے امن اور دوستی کا واضح پیغام تھا۔ بھارت کو جارحیت کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے سمجھداری سے کام لینا چاہئے اور خطے میں امن کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین