تماشہ کرنے والوں کو کیا خبر ہے!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جوبائیڈن بڑا ہی سادہ یا چالاک ہے، امریکی صدر نے اپنی حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر جو تقریر کی، اس میں کہیں بھی نہیں دہرایا کہ اس کی حکومت سے پہلے کیا کیا غلطیاں، فریب اور بدعنوانیاں ہوتی رہیں۔ لگتا ہے کہ اس نے کبھی ہمارے وزیراعظم کا خطاب نہیں سنا ورنہ اتنی سنجیدگی سے موسمیاتی تبدیلیوں، کورونا کی تباہیوں اور ملک میں کیا دنیا بھر میں نسلی منافرت کی تحریک پر قابو پانے کی باتیں نہ کرتا۔ چلیں چھوڑیں امریکہ کو، کہ وہ جیسے تیسے شکست خوردہ فوج کو نکالنے لگے ہیں۔ ہمیں خوف کے مارے سوات میں کھمبوں کے ساتھ لٹکے لاشے اور کابل میں برقع اوڑھے عورت کی پھانسی، خواب میں نہیں، آنے والے دنوں کے عذاب کی صورت معلوم ہورہی ہے۔ میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ امریکی فوجوں کے خطے میں بیس سال رہنے کے باوجود مسجدوں سے لیکر جنازوں اور پڑھی لکھی عورتوں کو گولیاں مارنے کے منظر آندھی کی طرح ذہن پر جالے تان رہے ہیں۔ ایسے ہی تو یورپین یونین نے مذہبی ذہینت کے جنون پر پاکستان کو نہیں وارننگ دی ہے۔

انڈیا نے مذہب کے نام پر گزشتہ پانچ برس میں تہذیبی اور انسانی ہمواریت اور رواداری کو ختم کیا ہے۔اس غرور اور آمریت نما جمہوریت کے ستون کورونا کی وبا کی دہشت نے ہلا دیئے ہیں۔ غرور کا یہ عالم ہے کہ پاکستان اور ایدھی فائونڈیشن نے مدد کے لئے پیش کش کی۔ ایدھی ایمبولینس کی 50گاڑیاں مع عملے کے واہگہ بارڈر پر کھڑی ہیں اور مودی صاحب ’’بس ایک خامشی ترے سب کے جواب میں‘‘۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہماری سرحدوں کے امین نے زور دیکر حکومت کو کہا ہےمژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا ابھی کل ہی تو ازبکستان اور کرغزستان میں لڑائی ختم ہوئی ہے۔ ذرا سوچیں خیبر کی سرحد کھول کر سامان ازبکستان جارہا ہے۔ ہمارے قومی سروے کے مطابق دونوں ہمسایہملکوں میں اربوں روپے کی بلاریکارڈ برآمد اور درآمد ہوئی ہے۔ ویسے ہم بڑے غیرت مند بنتے ہیں۔ اپنے ملک میں بدگوئی کرلیں مگر دنیا جانتی ہے کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔ اُدھر برطانیہ میں اخباروں اور گلیوں میں اودھم مچا ہوا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے فلیٹ کو آراستہ کرنے اور خاص کر پردے خریدنے کی تو رسید نہیں دی ہے۔ یہاں کا مذہب اسلام نہیں ہے مگر سوچ کو کیا نام دیں گے کہ ہمارے ملک کے حج پر جانے والے 30فیصد لوگوں کے سامان سے ڈرگز نکلتی ہیں۔

ہمارے ملک میں الیکشن کمیشن نے منفی نا برابری کے بارے میں رپورٹ دی ہےجو 10.4فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اتنے فیصد لوگوں نے اپنے شناختی کارڈ نہیں بنوائے ہیں۔ شاید احساس والوں کو یہ بھی احساس ہو جائے آج کل ایک بات اور تشویش جو ہماری ساری مائوں کو ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے ہر چند بچوں کے ساتھ بیٹھ کر نیٹ پر پڑھانے کی اور پھر امتحان دلوانے کی بھی کوشش کی۔ مگر دلی اطمینان نہیں ہے ۔ میں نے کہا شکر ہے آپ کے بچوں نے کچھ سیکھ پڑھ لیا۔ ان کروڑوں بچوں کا کیا بنے گا جہاں نہ اسکول ہیں، نہ نیٹ کی سہولت ہے، اور ماں باپ ان پڑھ ہیں یہ سن کر ان کی بھی تشویش بڑھ گئی۔

وزیراعظم کو اطلاع ملی کہ پاکستان کا سعودی سفارت خانہ صحیح کام نہیں کررہا ہے۔ وہاں کا سب عملہ واپس بلا لیا گیا ہے۔ آپ بتایئے کتنی جگہوں سے اسٹاف کو واپسبلائیں گے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے یورپ کے ملکوں کا تجربہ بہت منفی ہے۔ ویسے جو لوگ سفارت پر چاہے چپراسی ہو کہ سفیر، کوشش یہی ہوتی ہے کہ واپس نہ جانا پڑے۔ یہ ہے وطن کی محبت۔ ویسے ایسا ہی سیاست دان بھی کرتے ہیں۔ جو ملک میں ہیں ان سب نے باہر کتنا سرمایہ لگایا۔ تفصیل کے لئے ہم کیوں پکڑے جائیں۔ یہ کام وقت پڑنے پر نیب کرے گا۔ کیوبا میں 73برس بعد کاسترو فیملی کا اقتدار ختم ہوچکا ہے۔ ابھی کیوبا مستحکم ملک ہے۔ آگے دیکھتے ہیں کہ اس کا حال کیا ویت نام جیسا ہوگا کہ وہ بھی ہو چی من کا مزار دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ اس وقت دنیا میں 57ممالک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ممالک ترقی پذیر ہیں۔ 50فیصد کو خودمختاری حاصل نہیں۔ یہ بندشیں خواتین پر بہت اثرپذیر ہوتی ہیں۔ اس لئے آدھے افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ابھی تک خواتین کیلئے موروثی پابندیاں ختم نہیں کی جارہی ہیں۔ اس طرف توجہ بھی نہیں ہے۔

امریکہ نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں ڈیوٹی فری زون بنایا جائے۔ یہ غریب ممالک اپنی صنعتوں کو خود کفیل کیسے کریں گے اگر امریکہ ہمارے ملک میں دوبارہ باڑہ بنا دے۔اس وقت کسی ملک کی اشیا بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان کے ہر بازار میں موجود ہیں۔ جاپان کی طرح ہمارے ملک میں بھی وہ دن نہ آجائے کہ سارے بوڑھے اپنی خوراک حاصل کرنے کے لئے جیل جانا چاہتے ہیں۔ یہیں یاد آیا جب شہباز شریف سعودیہ میں تھے تو اس وقت کی حکومت نے ان کے گھر کو بزرگوں کا گھر بنا کر پتہ نہیں کہاں کہاں سے لا کربوڑھے لٹا دیے تھے۔ جب اچانک ان کی واپسی کا اعلان ہوا تو راتوں رات سارا سامان اور لوگ ڈنڈا ڈولی کرکے نکال دیے گئے ۔ کام ختم، پیسہ ہضم، اب بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نیا نام دے کر کام چلایا جارہا ہے۔ جیسے بے شمار ادھوری سڑکوں، منصوبوں پر دھڑا دھڑ نئی تختیاں لگائی جارہی ہیں۔ سب دیکھ رہے ہیں۔ سب لکھ رہے ہیں۔

بقول افتخار عارف

میرے معبود آخر کب تماشہ ختم ہوگا

تازہ ترین