انتخابی اصلاحات بھی مستحکم معیشت جتنی ہی اہم ہیں،شفقت محمود
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخابی اصلاحات بھی مستحکم معیشت جتنی ہی اہم ہیں،شفقت محمود


کراچی (ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمودنے کہا ہے کہ ملک کی بقا کیلئے انتخابی اصلاحات بھی مستحکم معیشت جتنی ہی اہم ہیں،ہم پر اعتراض تھا کہ اپوزیشن سے بات نہیں کرتے،اب ہم اپوزیشن کو کہہ رہے ہیں آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں ،کوئی امتحانات منسوخ نہیں ہورہے ، بیرونی یونیورسٹیوں میں جانے والے طلباء کو امتحان دینے کی اجازت دی گئی ہے، جن طلباء کے امتحانات ملتوی ہوئے وہ اکتوبر نومبر میں ہوں گے، 15جون کے بعد میٹرک اور انٹر کے امتحانات بھی ہوں گے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر بھی شریک تھے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ن لیگ پہلے بھی اور آج بھی انتخابی اصلاحات کے لئے تیار ہے، الیکشن کمیشن میں بیٹھ کر انتخابی اصلاحات پر اتفاق کیا جائے پھر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ لے آیا جائے،کنگ پارٹی اور اس کی حکومت بنانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا تو اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، حکومت ایس او پیز پر عملدرآمد اور ویکسی نیشن پر توجہ دے۔پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدرنے کہا کہ بھارت کے الیکشن میں وہاں کی اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی نہیں ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمودنےکہا کہ پاکستان کو معیشت کے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، 1970ء سے آج تک کوئی ایسا انتخاب نہیں ہوا جو متنازع نہ ہو، جمہوری طور پر آگے بڑھنے کے لئے ایسا نظام ضروری ہے جس پر سب کا اتفاق ہو،ملک کی بقا کیلئے انتخابی اصلاحات بھی مستحکم معیشت جتنی ہی اہم ہیں،اپوزیشن کو 2018ء کے الیکشن میں کسی حلقے کے نتائج پر اعتراض ہے تو نشاندہی کریں۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ انڈیا میں انتہائی فاشسٹ نظام ہے اس کے باوجود انتخابی نظام پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا، بھارت میں کب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں چل رہی ہیں الیکشن کوئی چیلنج نہیں کرتا، 2017ء میں ہم نے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر انتخابی اصلاحات کی تھیں اس میں کچھ سقم رہ گئے، ہم پر اعتراض تھا کہ اپوزیشن سے بات نہیں کرتے،اب ہم اپوزیشن کو کہہ رہے ہیں آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ کوئی امتحانات منسوخ نہیں ہورہے ہیں، او لیول کے چند پرچے ہوگئے ہیں مزید بھی ہوں گے، عوام وفاقی وزارت تعلیم کے اعلان کے سوا کسی افواہ پر دھیان نہ دیں، پچھلے سال بغیر امتحانات سب طلباء کو پاس کردیا جس میں بہت سی شکایات آئیں، بیرونی یونیورسٹیوں میں جانے والے طلباء کیلئے امتحان دینے کی اجازت دی گئی ہے، باقی جن طلباء کے امتحانات ملتوی ہوئے وہ اکتوبر نومبر میں ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید