میڈیا کی آزادی کیلئے صحافیوں کو عملی جدوجہد کرنا ہوگی، عالمی کانفرنس
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میڈیا کی آزادی کیلئے صحافیوں کو عملی جدوجہد کرنا ہوگی، عالمی کانفرنس

اسلام آباد( نمائندہ جنگ)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام عا لمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں آن لائن انٹر نیشنل کانفرنس منعقد ہوئی،جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سینئر صحافیوں و کالم نویسوں ، اینکرز ، سیاسی رہنمائوں ، ماہرین تعلیم ،انسانی حقوق کے عالم برداروں ،وکلا اور مزدور رہنما ئوں نے شر کت کی ،’’ آزادی صحا فت اور پاکستان میں میڈیا کا بحران‘‘ کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس کی میز بان پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار،سیکر یٹری جنرل ناصر زہدی اور افضل بٹ تھے جبکہ آصف علی بھٹی نے نظا مت کے فرائض سر انجام دیئے، چار گھنٹے مسلسل جاری رہنے والی کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز و سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت صحافیوں کے خلاف کرائمز کی فوری سماعت کیلئے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کرے، پاکستان میں آئین کے تحت آزادی اظہار رائے،صحافت کی خودمختاری اور صحافیوں کیخلاف جرائم کے جائزہ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وسیع البنیاد پارلیمنٹری کمیٹی بنائی جائے،‎صحافتی ادارے اور تنظیمیں فیک نیوز کے خاتمے کیلئے ازخودکوششوں کا آغاز کریں تاکہ عوام وخواص کا میڈیا پر اعتماد بحال ہوسکے۔شہروں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی نوکریوں کے تحفظ اور تنخواہ کی بروقت ادائیگی کا جامع نظام بنانے اور ٹی وی پروگراموں میں غیر صحافی اینکرز کی حوصلہ شکنی اور سابق فوجی افسران کو دفاعی تجزیہ تک محدود رکھنے کیلئے میڈیا مالکان سے بات کی جائے ۔پی ایف یوجے کی پہلی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس میں‎امریکہ ،برطانیہ ،کینیڈا ، ترکی ،مشرق وسطی اور یورپ کے‎مختلف ملکوں میں برسوں سے شعبہ صحافت سے منسلک سنیئر صحافیوں انور اقبال ،عظیم ایم میاں ،معاوض صدیقی، محسن ظہیر، خالد حمید فاروقی ، ارشد بھٹی ،بدر منیر چوہدری ، وقار ملک ، ارشد رچیال ،پروفیسر شفیق احمد اور دیگر نے‎تجویز دی کہ پی ایف یو جے کے سنیئر ارکان پر مشتمل وفد بناکر یورپی یونین سمیت دیگر عالمی صحافتی تحفظ و فروغ کے اہم عالمی اداروں کا دورہ کرے اور انہیں پاکستان میں شعبہ صحافت کےحوالے سے حقیقی صورت حال سے آگاہ کرے،انہوں نے آفر دی کہ وہ خود بھی پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغنوں اور صحافیوںُ پر ہونے والے مظالم کی معلومات عالمی اداروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے تاکہ جو طاقتور ادارے پاکستان میں صحافت پر پابندیاں لگانے میں ملوث ہیں انہیں آئینی اور عالمی قوانین کےتحت ایسے اقدامات سے بعض رکھا جاسکے ،کانفرنس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کےنمائندوں نےبھی آزادی صحافت کی صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں پر پچھلے کئی برسوں سے تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس پر یورپی پارلیمنٹ بھی سخت تنقید اور تشویش کا اظہار کررہی ہے، اس صورت حال پر فوری طور پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تجویز دی گئی ہے کہ صحافیوں کی نوکریوں کےتحفظ کےلئے تمام میڈیا کے اداروں کو سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ کرانے کیلئے حکومت سے فوری مطالبہ کرنا چاہیے۔ ‎ کانفرنس میں ملک بھر سے یونینز ، پریس کلبز اور مختلف تنظیموں کے ارکان نے سفارشات پیش کیں کہ میڈیا کی آزادی اور عوام کی آواز اعلی ایوانوں تک ‎پہنچانے ، معاشرتی مسائل کےحل ، پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کی خاطر اب صحافیوں کو حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے ازخود عملی جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا جس میں سیاسی جماعتوں،وکلاء تنظیموں ، ورکرزیونینز ، طلباء و اساتذہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری رابطے کئے جائیں ۔‎

اہم خبریں سے مزید