• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوورسیز پاکستانیوں پر اتنی ’’مہربانیاں‘‘ کیوں …

ڈیٹ لائن لندن … آصف ڈار
وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے ان دنوں اچانک اوورسیز پاکستانیوں پر اپنی ’’مہربانیوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی اس طرح ’’نوازشات‘‘ سے ذہن لامحالہ ایسے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے لگتا ہے کہ نجانے کیا ہونے والا ہے، حال ہی میں انہوں نے شاید پہلی مرتبہ بذات خود اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ سمیت انتخابی اصلاحات پر قانون سازی کے لئے نہ صرف مذاکرات کرے بلکہ موجودہ قانون میں ترمیم کرانے میں مدد بھی کرے تاکہ روز روز کی ’’دھاندلی دھاندلی‘‘ کی اس دہائی کا خاتمہ ہو (اپوزیشن اور بعض دوسرے اس کو دھاندلے کی منصوبہ بندی کہتے ہیں) یہاں تک تو ان کی بات بالکل درست ہے کہ انتخابی اصلاحات ہونی چاہئیں اور ان میں اپوزیشن کی شمولیت بھی ضروری ہے مگر جو بات مجھے کھٹک رہی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ان انتخابی اصلاحات میں اوورسیز پاکستانیوں کو بھی پاکستانی انتخابات میں ووٹ کا ’’حق‘‘ دینے کی ترمیم پیش کی ہے۔ اس بات سے شاید ساری پارٹیاں اتفاق بھی کرلیں کیونکہ تقریباً ساری پاکستانی پارٹیوں کا ووٹ بینک بیرونی ممالک میں بھی موجود ہے تاہم اس بات سے شاید کوئی پارٹی اتفاق نہیں کرےگی کہ اوورسیز پاکستانی براہ راست ان پاکستانی انتخابات میں حصہ بھی لے سکیں۔ اس کے لئے ان کو اپنی امریکی، برطانوی، یورپی یا کسی بھی ملک کی شہریت کو چھوڑنا پڑتا ہے، کیونکہ انہیں غیرملکی تصور کیا جاتا ہے، کمال ہوگیا ہے، ان غیرملکیوں کے ووٹوں سے ارکان تو منتخب ہوسکتے ہیں مگر ان ارکان کو منتخب کرنے والے خود نہ تو الیکشن لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی حکومتی عہدہ رکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں جب کہ یہ اوورسیز پاکستانی جہاں دوہری شہریت رکھتے ہیں ان ممالک میں نہ صرف پارلیمنٹ کے ارکان منتخب ہوتے ہیں بلکہ کیبنٹ منسٹر اور لندن کے میئر جیسے عہدوں پر بھی فائز ہوتے ہیں۔ اس کی مثال برطانیہ اور بعض دوسرے یورپی ممالک میں بھی موجود ہے، بھلے وقتوں میں برطانوی حکومت کے اندر چانسلر آف ایکس چیکر، ہوم سیکرٹری، ٹرانسپورٹ سیکرٹری اور اسی طرح کے بڑے عہدے پاکستانیوں کے پاس رہے ہیں مگر اب ان پر بھارت نژاد افراد کی حکمرانی ہے۔ اس تنزلی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت نے برطانوی سیاست کی بجائے پاکستانی سیاست پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، ہر کوئی اپنے نام کے ساتھ کسی نہ کسی پاکستانی پارٹی کا عہدیدار لکھوانا پسند کرتا ہے تاکہ اس کی ٹھوں ٹھاں بنی رہے۔ اگر یہی عالم رہا تو برطانیہ جیسی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیشی اور سری لنکن نمائندوں کی تعداد پاکستانیوں سے بڑھ جائے گی کیونکہ بھارت سمیت تمام سائوتھ ایشین ممالک کے اوورسیز باشندے اپنی آبائی سیاست نہیں کرتے، اگر پاکستانیوں کو ووٹ کا ’’حق‘‘ دیا گیا تو پاکستانی سیاستدان ان ممالک کو بھی سیاسی اکھاڑہ بنا دیں گے، ووٹ مانگنے کے لئے یہاں کا رخ کریں گے، کھابے اڑائیں گے، اوورسیز پاکستانیوں کو سہانے خواب دکھائیں گے اور منتخب ہوکر سب کچھ ہمیشہ کی طرح بھول جائیں گے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اوورسیز پاکستانی کمیونٹی دھڑوں میں بٹ جاتی ہے، گلیوں بازاروں میں دما دم مست قلندر ہوتا ہے۔ برطانیہ میں اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اگر حکومت واقعی اوورسیز پاکستانیوں کی خیرخواہ ہے تو ووٹنگ کے جھنجھٹ میں ڈالنے کی بجائے انہیں قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں خصوصی نشستوں پر نمائندگی دے تاکہ ان کے نمائندے ان کے مسائل حل کرانے میں براہ راست کردار ادا کرسکیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ان دنوں میں دوسری ’’نوازش‘‘ پاکستانی سفیروں اور ہائی کمشنرز پر کی ہے اور براہ راست انہیں کھڑکایا ہے۔ اگرچہ انہوں نے جو باتیں کی ہیں ان میں سے کئی بالکل درست ہیں اور لوگوں کو اپنے سفارتخانوں اور ہائی کمشینوں سے بہت سی شکایات ہیں جن کی اکثریت جائز شکایات پر مشتمل ہے۔ مگر وزیراعظم نے ان سفارتکاروں کو بالکل اسی طرح کھڑکایا ہے جیسے وہ اپوزیشن کے ساتھ کرتے ہیں، حالانکہ اپوزیشن لیڈروں اور سفارتکاروں میں بہت فرق ہوتا ہے،سفارتکار دنیا بھر میں مملکت پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، ان سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں ان میں سے بعض بہت اچھے کام بھی کرتے ہیں، مگر سب کو ایک ہی لاٹھی سے مارنا اور اس کے لئے براہ راست خطاب کا سہارا لینا شاید بہتر طریقہ نہیں تھا۔ انہوں نے بہت سی سچی باتیں کرکے اپنا ’’فرض‘‘ تو ادا کردیا مگر اس سے اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا نہ سفارتکاروں کی کارکردگی اچھی ہوگی۔ بہتر یہ ہوگا کہ وہ سفارتکاروں کو طلب کرکے ’’جو کرنا تھا خاموشی سے کر گزرتے‘‘ مگر وہ شاید آئندہ انتخابات کی تیاری میں عوام کی ’’مزید ہمدردیاں‘‘ سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یورپ سے سے مزید