• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے بچے میں خواندگی کی صلاحیت پروان چڑھائیں

ہمارے سامنے ایک زبردست چیلنج ہے۔ آج کے معلومات پر مبنی عالمی اقتصادی نظام میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے بچے بے حد مضبوط علمی صلاحیتوں کے مالک ہوں۔ انہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ پڑھنے، لکھنے،بولنے اور سننے کی بنیادی صلاحیتوں کو پختہ کریں تاکہ وہ دقیقہ شناس دانشور بن سکیں اور معلومات کو بصیرت کے ساتھ استعمال کر سکیں۔

یہ ضروری ہے کہ ہمارے بچے مختلف نوعیت کے مطالعہ کے مواد کو سمجھنے پر قادر ہوں اور صاف، واضح، بامعنی اور مؤثر طریقے سے لکھ سکیں۔ فیصلے کرنے اور نئے علوم تخلیق کرنے کے سلسلے میں انہیں معلومات اکٹھی کرنے اور انہیں استعمال کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے۔ پیچیدہ معاملات پر انہیں تنقیدی غور و فکر کی ضرورت پڑے گی۔ یہی وہ علمی صلاحیتیں ہیں جو ہمارے بچوں کو اس لائق بنا سکتی ہیں کہ وہ دنیا دریافت کریں اور زمانے کے ساتھ قدم بڑھائیں، سوالات کریں، جوابات کا پتہ لگائیں اور اپنے اندر استقلال پیدا کریں۔ علم ان کے مستقبل کا دروازہ ہے۔

خواندگی کا حصول صرف اسکول تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر جگہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا دائرہ سب وے کے سائن پڑھنے،اناج کے ڈبوں کو پڑھنے سے لے کر مادری زبان میں خاندانی کہانیاں سننے اور انٹرنیٹ کا استعمال کرنے تک، ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔

تحقیق نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ اسکول میں داخلے کے بعد بچوں کی پڑھائی کے لیے آمادگی پر والدین اور نگراں کا گہرا اثر رہتا ہے۔ پڑھنے، لکھنے، بولنے اور سننے کا سلسلہ ہر سال پروان چڑھتا رہتا ہے اور اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ بچوں کے ابتدائی، ثانوی اور ہائی اسکول کے مراحل میں خاندان کے مثبت اثر کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

خواندگی کی صلاحیت کس طرح پروان چڑھتی ہے؟

ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔ ہر بچے کے اندر صلاحیتوں اور دلچسپیوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ ہر بچے کے لیے تعلیم کے کچھ طریقے دیگر طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ آپ اپنے بچوں کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کی شناخت کرسکتے ہیں اور ان معلومات کو استعمال کرکے، گھر پر اور اسکول میں اساتذہ اور دوسروں کے ساتھ مل کر اس کی خواندگی کی صلاحیتوں کو ترقی دینے میں معاون ہوسکتے ہیں۔ ہر بچے کی ترقی کی شرح الگ ہوتی ہے۔ ایک بچہ بالکل ابتدائی عمر سے پڑھنا شروع کردیتا ہے جب کہ دوسرے کے اندر یہ دلچسپی ایک یا دو سال بعد پیدا ہوتی ہے۔

پیدائش سے پری-کنڈرگارٹن

بچے پیدا ہوتے ہی آواز سنتے، اس کے مطابق ردعمل کا اظہار کرتے اور اس کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ وہ غوں غاں کرتے، نقل کرتے اور بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواندگی کی ترقی میں یہ ایک اہم موڑ ہے۔ اس زمانے میں بچے گھر میں بولی جانے والی کسی بھی زبان میں جتنی زیادہ کہانیاں اور الفاظ سنیں گے بعد میں وہی زبان بولنے اور لکھنے میں انہیں اتنی ہی آسانی ہوگی۔

چھوٹے بچوں کو سننا اچھا لگتا ہے۔ وہ اپنی پسندیدہ کتابیں بار بار بلند آواز میں سننا پسند کرتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں ’کیوں؟‘ صرف اس لیے تاکہ وہ آپ کی گفتگو سن سکیں۔ چھوٹے بچوں کو گفتگو کرنا اچھا لگتا ہے۔ جب ایک بار انہیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آواز کا ایک مطلب ہوتا ہے، تو وہ بڑی جلدی زیادہ الفاظ سیکھ جاتے ہیں اور بڑوں کے ساتھ گفتگو میں انہیں استعمال کرنے لگتے ہیں۔

چھوٹے بچوں کو پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ وہ کتابوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور آہستہ آہستہ آگے سے پیچھے اور بائیں سے دائیں پڑھنا سیکھ جاتے ہیں۔ اسکول جانے سے پہلے بچے حروف تہجی سیکھ سکتے ہیں، الفاظ کو پہچانتے اور ان آواز کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

چھوٹے بچوں کو لکھنا اچھا لگتا ہے۔ وہ ہر کام میں بڑوں کی نقل کرتے ہیں اور لکیروں اور تصویروں کی مدد سے اپنے خیاالت کا اظہار کرنا سیکھتے ہیں۔

اپنے بچے سے بات کریں

٭ اپنے بچے سے روزمرہ کی چیزوں پر بات کریں۔

٭ آپ کا بچہ جن چیزوں کو دیکھتا ہے ان کا نام بتائیں۔

٭ الفاظ کا سہارا لے کر انہیں علامتوں اور لیبل کے بارے میں بتائیں۔

٭ کتاب میں موجود تصویروں کے بارے میں گفتگو کریں۔

٭ آپ کا بچہ ٹی وی اور ویڈیو کے جن پروگراموں کو دیکھتا ہے، ان کے متعلق گفتگو کریں۔

٭ اپنے خاندان کی کہانیاں، پسندیدہ یادیں اور ماضی کے تجربات بیان کریں۔

٭ گانا گائیں۔

٭ بچوں کے گیت سکھائیں۔

٭ حروف تہجی کے گیت سکھائیں۔

٭ جھوٹ موٹ کا کھیل کھیلیں۔

٭ آپ جو بھی کررہے ہیں اسے ان الفاظ میں بیان کریں جو آپکا بچہ استعمال کرسکے۔

اپنے بچے کی بات سنیں

٭ آپ کا بچہ جن چیزوں کو دیکھ رہا ہے یا جو کام کررہا ہے، ان کے بارے میں سوال کریں۔

٭ اپنے بچے کی بنائی ہوئی لکیروں اور تصویروں کے بارے میں سوال کریں۔

٭ اپنے بچے کو کہانی سنانے پر آمادہ کریں۔

٭ صبر کے ساتھ سوالوں کو سنیں اور جواب دیں۔

اپنے بچے کو پڑھ کر سنائیں

٭ اپنے بچے کے سامنے روزانہ پڑھنے کے لئے مستقل وقت اور جگہ متعین کریں۔

٭ لائبریری کی کتابیں استعمال کریں۔ اپنے بچے کو ان کا انتخاب کرنے دیں۔

٭ آپ اپنی زبان میں پسندیدہ کتابوں کو بار بار پڑھیں۔

٭ رسالوں اور فہرستوں سے تصویریں کاٹ کر ساتھ ساتھ پڑھنے کے لیے کتابیں مرتب کریں۔

٭ حروف کی آواز سکھانے کے لئے حروف تہجی کی کتابوں کا استعمال کریں۔

تصویریں بنانے اور لکھنے پر ابھاریں

٭ ڈرائنگ کا سامان مہیا کریں اور تصویریں سجائیں۔

٭ اپنے بچے کو کسی پسندیدہ کہانی سے کوئی تصویر بنانے کو کہیں۔

٭ آپ کے بچے نے جو تصویریں بنائی ہیں ان پر چیزوں کے نام لکھیں تاکہ آپ کا بچہ لکھے ہوئے الفاظ کے ساتھ خیالات کو جوڑنا سیکھنے لگے۔

٭ اپنے بچے کو کوئی کہانی سنانےکو کہیں؛ اسے لکھوائیں؛ اور اسے دوبارہ پڑھنےکوکہیں۔

٭ اپنے بچے کو دکھائیں کہ آپ کس طرح لکھتے ہیں۔

٭ جب تحفہ دینے کا کوئی موقع ہو تو کتابوں، رنگدار چاکوں، مخصوص کاغذات، میگزین کی خریداری یا دیگر ایسی چیزوں پر غور کریں جو آپ کے گھر کو خواندگی کے اعتبار سے ایک بہتر ماحول میں تبدیل کرسکیں۔

٭ اپنے بچے کے سامنے خود بھی پڑھیں اور لکھیں۔ وہ سمجھے گا کہ یہ ’بالغوں‘ کی اہم صلاحیتیں ہیں، جنہیں ہم سب ہر روز استعمال کرتے ہیں۔