امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران میں متعدد مبینہ اہداف پر فضائی حملے کیے، سینٹ کام نے ان فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی فوجی کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ ڈرون حملے کے ردِعمل میں کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے 25 جون کو ایم/وی ایور لوولی (M/V Ever Lovely) نامی تجارتی جہاز پر ایک طرفہ حملہ آور ڈرون سے حملہ کیا، سنگاپور کا پرچم بردار یہ مال بردار جہاز حملے کے وقت عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کو بلاجواز نشانہ بنانا جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران کے اس طرزِ عمل نے بین الاقوامی تجارت کی اس اہم گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو بھی نقصان پہنچایا، جہاں سے عالمی تجارتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا ہے کہ ہماری افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے کے لیے رابطے اور معاونت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق امریکی فوج خطے میں موجود ہے اور مسلسل صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور اس کی تمام شرائط پوری طرح نافذ العمل رہیں۔