• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل لبنان معاہدہ: انخلاء حزب اللّٰہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط

— تصویر بشکریہ غیرملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیرملکی میڈیا

واشنگٹن میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل، لبنان اور امریکا کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ابتدائی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت لبنانی فوج مرحلہ وار پورے ملک میں اپنی ساخت اور سیکیورٹی بحال کرے گی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں خصوصاً حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کیا جائے گا۔

اس عمل کی تصدیق کے بعد ہی اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلاء کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے میں جنوبی لبنان کے 2 ابتدائی علاقوں کو پائلٹ زون قرار دیا گیا ہے جہاں لبنانی فوج مکمل سیکیورٹی سنبھالے گی، متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو شروع ہو گی اور بے گھر شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جائے گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو ’آغاز کا پہلا قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد لبنان کی خود مختاری کی بحالی، حزب اللّٰہ کی عسکری صلاحیت کا خاتمہ اور اسرائیل کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ہے تاہم موجودہ متن کے مطابق انخلاء کو حزب اللّٰہ کے غیر مسلح ہونے کی سے مشروط کیا گیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک حزب اللّٰہ غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیل کو خطرہ برقرار رہتا ہے، اسرائیلی فوج لبنان سے مکمل انخلاء نہیں کرے گی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللّٰہ نے معاہدے میں شرکت نہیں کی۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے لبنان چھوڑنا چاہیے جبکہ اس نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات معمول پر لانے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ کشیدگی میں کمی کی کوشش ہے تاہم اسرائیلی فوج کی کارروائیاں، جنوبی لبنان پر قبضہ اور حزب اللّٰہ کے سخت مؤقف کے باعث مستقل امن کا راستہ اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید