• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید مسلمانوں کا عظیم تہوار ہے۔اللہ کے نبیﷺنے فرمایا ،’’ہر قوم کا ایک تہوار ہوتا ہے، تمہارا تہوار عید الفطر اور عید الاضحی ہے۔‘‘ عید ایک دینی تہوار بھی ہے اور تہذیبی اور ثقافتی اقدار کا اظہار بھی۔ ساری دُنیا میں مسلمان ہرسال عیدیں ہمیشہ بَھرپور طریقے سے مناتے رہے ہیں۔ روزِ عید گھر کے حضرات بچّوں کے ہم راہ خوشی خوشی نئے لباس میں ملبوس، جائے نماز پکڑے عید گاہ اور مساجد کی طرف جاتے ہیں، تو ہر طرف رنگ و نُور کی بہار سی چھا جاتی ہے۔ 

اسی طرح جب گھروں میں بچّیاں اورخواتین رنگین پیراہن اورہار سنگھار سے آراستہ ہوکر نمازِ عید پڑھ کر آنے والوں کا استقبال کرتی ہیں، تو عید مبارک کی کھنکتی آواز ہر طرف خوشیاں سی بکھیر دیتی ہے۔ پھر حسبِ روایت کھانے پینے اور خوش گپیوں کے ساتھ عیدی دینے کا سلسلے شروع ہوتا ہے۔ گو کہ عید ہمیشہ خوشیوں بَھری تقریبات کا سلسلہ ساتھ لاتی ہے، جو اس پورے مہینے کو مصروف اور خوش گوار بنا دیتا ہے۔ لیکن جب گزشتہ برس کورونا وائرس دُنیا بَھر میں پھیلا،تو زندگی گزارنے کے انداز ہی بدل گئے۔ 

اِمسال بھی عید الفطر ایس او پیز پر عمل کرتے منائیں، تو بہتر یہی ہے کہ اِسی مناسبت سے عید مبارک کہنے کا اہتمام کیا جائے اور ملاقاتوں کا بھی۔ چوں کہ بہن بھائیوں اور عزیزو اقارب کی بڑی دعوتیں کرنا احتیاط کے منافی ہے، تو کم افراد پر مشتمل الگ الگ چھوٹی دعوتوں کا اہتمام کرلیں۔

فاصلوں سے ملیں، لیکن ملیں ضرور کہ انسان کے لیے محبّت اور یگانگت آکسیجن کی طرح ضروری ہے۔ عید خوشی کا موقع اور تشکّر کے اظہار کا نام ہے، تو محدود پیمانے ہی پر سہی، راستے نکال لیں اور دُعا کریں کہ کھوئی ہوئی رونقیں جلد لوٹ آئیں۔