• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوبز انڈسٹری کی معروف فن کارہ حرا مانی اب کسی روایتی تعارف کی محتاج نہیں کہ بہت تھوڑے عرصے میں انہوں نے اپنا اندراج منجھے ہوئے فن کاروں کی فہرست میں کروالیا ہے۔حرامانی نے اپنےکیرئیر کا آغاز 2010ء میں مانی کے ساتھ ایک شو کی، کوہوسٹ کے طور پر کیا۔ پھر2012ء میں جیو چینل سے نشر ہونے والے کامیڈی شو’’ہم سب اُمید سے ہیں‘‘ کی بھی میزبانی کی۔بعد ازاں،2013ء میں ڈراما’’میری تیری کہانی‘‘سے ایکٹنگ ڈیبیو دینے کے بعد شوبز انڈسٹری سے مکمل وابستگی اختیار کرلی۔

ان کے معروف ڈراموں میں ’’پریت نہ کریو کوئی ‘‘،’’سُن یارا‘‘،’’ یقین کا سفر‘‘،’’دِل موم کا دیا‘‘،’’آنگن‘‘،’’بندش‘‘،’’ ٹھیس‘‘،’’دو بول‘‘،’’محبّت نہ کریو‘‘،’’ میرے پاس تم ہو‘‘،’’ غلطی‘‘،’’ کشف ‘‘اور’’ محبّتیں، چاہتیں‘‘ شامل ہیں۔حرا مانی دو میوزک ویڈیوز میں بھی کام کرچُکی ہیں،جن میں سے ایک2020ء میں ’’یہ وطن تمہارا ہے‘‘ اوردوسری اِمسال ’’سواری‘‘کے نام سے ریلیز ہوئی۔گزشتہ دِنوں ہم نے حرامانی کا جنگ، سنڈے میگزین کے معروف سلسلے ’’کہی اَن کہی‘‘ کے لیے ایک انٹرویو کیا، جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

س:اپنے خاندان، جائے پیدایش، ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟

ج:میر اتعلق ایک سیّد گھرانے سے ہے۔میرے والد سیّد فرّخ جمال کا تعلق علاقہ غیر سے ہے۔ وہ ایک نجی بینک میں ملازمت کرتے تھے اب ریٹائر ہوچُکے ہیں۔والدہ ناہید جمال نواب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔میرے دادا سیّد منظور حسین سی ایس پی آفیسر تھے،جن کا تعلق نارتھ وزیرستان سےتھا، جب کہ دادی آفریدی خاندان سے تھیں۔ میرے دوچچا ؤں چیف آف ائیر مارشل ،جمال احمد خان اور نجیب اللہ خان کو 65ء کی جنگ میں بھارتی جہاز گرانے پر ستارہ جرأت سے نوازا گیا ۔میری پھپھو بے بی تبسم بھارت میں رہایش پذیر ہیں،جنہوں نے پاکستان میں نازیہ حسن کا پہلا انٹرویو کیا تھا، جب کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں جوہی چاؤلہ اور مادھوری ڈکشٹ کو متعارف کروانے کا سہرا بھی ان ہی کے سَرہے۔

اس کے علاوہ میرے خاندان کے بزرگوں میں معراج محمّد خان،جوشہید ذوالفقار علی بھٹو کے رائٹ ہینڈ اور وزیرِ اعظم عمران خان کے استادِ محترم تھے،معروف صحافی منہاج برنا، نام وَر شاعر وہاج محمّد خان، جن کا تخلص”دُکھی پریم نگری‘‘ تھا،شامل ہیں۔ مَیں نے 27فروری1989ء کو روشنیوں کے شہر،کراچی میں آنکھ کھولی اور اسی شہر سے ابتدائی تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔رہی بات تربیت کی، تو والدین نےمیری اورمیرے بھائیوں کی تربیت بہت پیار بَھرے اور دوستانہ ماحول میں کی۔

س:کتنے بہن بھائی ہیں، آپ کا نمبر کون سا ہے؟

ج:مَیں چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں اور میرا نمبر دوسرا ہے۔

س:بچپن ٹام بوائے کی طرح گزارا،تو بچپن اور لڑکپن کی کچھ باتیں ہم سے بھی شئیر کریں؟

ج:بچپن اور لڑکپن کی تو بے شمار باتیں ہیں،جنہیں یاد کرکےمُسکرائے بنا نہیں رہ سکتی ۔جیسےمَیں ایک بڑا ہی مشہور پان مسالا بہت شوق سے کھاتی تھی۔ فیس پاؤڈر لگانابہت اچھا لگتا تھا اورمجھے دلہن بننے اور بنانے کابھی بے حدشوق تھا۔ اکثر بھائیوں کو دلہن بناتی۔ ویسے مَیں لڑاکابالکل نہیں تھی،خاصی صلح جُو قسم کی بچّی تھی۔

س:ابتداًآپ نے پارلر میں منہدی لگائی، بینک میں ملازمت کی،اس کے علاوہ کیا کیا شوق پال رکھے تھے؟

ج:منہدی لگانے اور بینک میں ملازمت کے علاوہ مَیں نےجیولری بنائی،کپڑے ڈیزائن کیے اور ایک لڑکی کوٹیوشن پڑھانے کی بھی ناکام کوشش کی کہ وہ میرے پڑھانے کے باوجود فیل ہوگئی، تو اس کے بعد مَیں نے اس شوق سے ہمیشہ کے لیے توبہ کرلی۔

س:سلمان(مانی) کی زندگی میں آنے کی کہانی آپ مختلف انٹرویوز میں سُنا چُکی ہیں، ایک مختصر سا ری پلے ہمارے قارئین کے لیے بھی ہوجائے؟

ج:میری اور مانی کی کہانی تو اب تقریباً سب ہی کو حفظ ہو چُکی ہے، ہاں مَیں یہ ضرور بتانا چاہوں گی کہ مَیں مانی کی زندگی میں کیسے ٹھہری ہوئی ہوں،کیوں کہ مانی ہوا کے جھونکے کی مانند ہے، اُسےزیادہ گہری اور پریشانی والی باتیں پسند نہیں۔چوں کہ اُس کے ساتھ رہنا تھورا مشکل ہے،تو مَیںنے کبھی ایسا کچھ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ،جو اُس کے مزاج کے خلاف ہو اور یہی راز ہےکہ مَیں اُس کی زندگی میں ایسےٹھہرگئی کہ شریک ِسفر ہی بن گئی۔

س:شوبز انڈسٹری میں داخلے کا سفر کہاں سے شروع ہوا اور کیسے؟

ج: 2009ء میں ہمارابڑا بیٹامزمل پیدا ہوا،تواُس دوران مَیں ڈرامے،ٹی وی شوز وغیرہ دیکھتے ہوئے اکثر مانی سے کہتی تھی کہ مَیں بھی ایساکرسکتی ہوں،مجھے اپنی صلاحیتوں پربھرپور اعتماد ہے، توبالآخرمانی نے مجھے 2010ء میں اپنے ساتھ بطور میزبان شوبز انڈسٹری میں متعارف کروایااور بس اُس کے بعدپھر مَیں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔

مانی سے آگے بڑھ سکتی ہوں، نہ بڑھنا چاہتی ہوں
فیملی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں

س:مانی آپ کو انڈسٹری میں لے کر آئے اور اب آپ اُن سے چند قدم آگے بڑھ گئی ہیں، تو کیسا لگتا ہے؟

ج:مَیں مانی سے آگے بڑھ سکتی ہوں ، نہ بڑھنا چاہتی ہوں۔مجھے اس بات پر بےحد فخر ہے کہ مَیں اپنے شوہر کے ساتھ شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہوئی ہوں،لہٰذا اس چمکتی دُنیا میں ہم دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، ایک دوسرے سے آگے نہیں بڑھتے۔ ایک بار مانی کے دوست نے بھی کچھ ایسا ہی سوال کیا تھا، جس پرمانی نے کہا ، ’’جب میرابیٹا کلاس میں فرسٹ آتا ہے، تو میں اس سے جلتا نہیں کہ وہ میرے وجود کا حصّہ ہے،تو پھر حرا سے حسد کیوں کر ہوگا؟‘‘،تو میرا بھی یہی کہنا ہے۔

س:مختلف شوز کی میزبانی کی، ماڈلنگ بھی کرچُکی ہیں، جب کہ میوزک ویڈیوز میں بھی کام کیا، تو یہ تجربات کیسے رہے؟

ج:یہ سارے تجربات اس لیےبہترین رہے کہ مَیں نے کبھی کسی کی طرح بننے کی کوشش نہیں کی، ہمیشہ اپنی انفرادیت قائم رکھی اور آئندہ بھی یہی روش برقرار رکھوں گی۔

س:شو بز انڈسٹری کو کیسا پایا؟

ج:صرف اتنا ہی کہوں گی کہ جیسے آپ خود ہوتے ہیں، ویسا ہی سامنے والے کو بھی پاتے ہیں، تو مجھے تو اس انڈسٹری میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا، جو دِل برداشتہ کرنے کا سبب بنتا۔

س:خود اپنا کون سا ڈراما اور کردار اچھا لگتا ہے؟ آنے والے پراجیکٹس سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج:ویسے تو مجھے اپنے سارے ہی کردار پسند ہیں،البتہ سب سے زیادہ ڈراما’’سُن یارا‘‘کی روشنےکا کردار زیادہ اچھا لگا کہ مجھے اس میں کہیں کہیں اپنا عکس نظر آیا تھا۔آج کل بدر محمود کے ایک ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف ہوں، جس میں میراخاصا مختلف کردار ہے۔

س:شوٹنگ سے جب گھر آتی ہیں، تو کیا ایک عام سی سیدھی سادی حرا ہوتی ہیں یا … ؟

ج:دیکھیں، ہر خاتون اپنی زندگی میں، بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کا کردار ادا کرتی ہے اورخود سے جُڑے رشتوں کی آب یاری کے لیے وہ ہر کردار میں خوش نما رنگ بَھرنے کی جستجوبھی کرتی ہے، تو مَیری بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ جب شوٹنگ سے گھر لوٹوں، تو ہر رشتے کواس کا مقام، عزّت دوں۔

س: آپ کی آواز بھی اچھی ہے، وقتاً فوقتاً کچھ نہ کچھ گنگناتی رہتی ہیں،موسیقی کی دُنیا میں کہاں تک جانے کا ارادہ ہے؟

ج:اگر کورونا وائرس کی وجہ سے میوزک کنسرٹس بند نہ ہوتے، تو اب تک کسی بڑے کنسرٹ میں پرفارم کرچُکی ہوتی۔

س:بڑی اسکرین پر کب جلوہ گر ہورہی ہیں؟

ج: سچی بات تو یہ ہے کہ ہیروئن ،ہیروئن ہی ہوتی ہے، چاہے بڑے پردے کی ہو یا چھوٹے کی۔پھر ہماری ڈراما انڈسٹری فلم کے مقابلے میں زیادہ پاور فُل ہے۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مَیں فلموں میں کبھی کام نہیں کروں گی۔ہاں، جب کوئی فلم میرے معیار پر پوری اُترے گی، توبڑی اسکرین پر بھی ضرور جلوہ گرہو جاؤںگی۔

س:سُنا ہے آپ نے چہرے کے خدوخال درست کروانے کے لیے انجیکشز بھی لگوائے تھے، جس پر پرستاروں کا خاصا سخت ردِ عمل سامنے آیا،کیا ایسا ہی ہے؟

ج:نہیں، نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے۔بس ،یہ سب میک اپ کا کمال ہے۔

س:جنیدخان اور عفّان وحید کے ساتھ زیادہ کام کیا ، کوئی خاص وجہ؟ اور ان کے علاوہ کن کن اداکار وںکے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں؟

ج:مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے مقابل ہیرو کون ہے،مَیں تو بس اچھا اور معیاری کام کرنا چاہتی ہوں۔البتہ، رنبیر کپور اور نواز الدین کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ضرورہے ۔

س:ڈیپریشن کا بھی شکار ہوئیں، سائیکائٹریسٹ سے علاج بھی کروایا،تو یہ کیا قصّہ ہے ؟

ج:مَیں ذرا ملنگ ٹائپ ہوں، تو فیلڈ اور گھر کی مصروفیات کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہوگئی تھی۔پھر ان ہی دِنوں ایک مفلوک الحال بچّے کو دیکھا، جو اینٹ کے اوپر سَر رکھے سو رہا تھا،تب احساس ہوا کہ مَیں جن چیزوںکو اہمیت دے رہی ہوں،ان کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔بس یہی ایک لمحہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا ، جس کے بعد مَیں نے خدمتِ خلق کی شروعات کی۔ ہاں، کچھ عرصے کے لیے تھراپسٹ کے پاس بھی گئی تھی، تاکہ ذہنی دباؤ کم ہوسکے۔

س:مانی سے شادی سے پہلےدو منگنیاں ٹوٹیں،کیا مانی کے شریکِ سفر بننے کے بعد کبھی اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوا؟

ج:اللہ نہ کرے کہ کبھی پچھتاوا ہو کہ میری تو کُل کائنات ہی مانی ہے۔

س:آپ دونوں کیسے جیون ساتھی ہیں، جیسا لوگ سمجھتے ہیں، کیا ویسے ہی یا…؟

ج:جیسے سارے جیون ساتھی ایک دوسرے سے روٹھتے، مناتے اورسب دُکھ سُکھ بانٹتے ہیں،ہم بھی ویسے ہی ہیں۔

س:پہلی بار ماں بننے پر کیا احساسات تھے؟

ج:گرچہ یہ مرحلہ خاصاتکلیف دہ ہوتاہے، مگر جب اپنے وجود سے ایک نیا وجود جنم لیتا ہے، تو ماں بننے کا سرور تمام تکالیف پر غالب آجاتا ہے۔

س:اپنے دونوں بیٹوں مزّمل اورابراہیم سے متعلق کچھ بتائیں، اپنے ان کے تعلق کی کچھ خُوب صُورت باتیں؟

ج:مزّمل کے بعد ابراہیم 2012ء میںپیداہوا۔ ویسے تو ان کی خصوصیات الگ الگ ہیں، مگردونوں ہی خُوب شرارتی ہیں اور اکثر زیادہ تنگ کرنے پر مَیں انہیں تھپڑ بھی لگا دیتی ہوں، مگر مانی نے آج تک بچّوں پر ہاتھ نہیں اُٹھایا۔

س:ہر ماں کی طرح بچّوں کے معاملے میں حسّاس ہیں؟اور کیا اتنی مصروفیات میں انہیں بَھرپور وقت دے پاتی ہیں؟

ج:حسّاس تب تک تھی، جب دونوں بچّے چھوٹے تھے۔اب بہت ریلیکس ہوگئی ہوں۔ اصل میں مَیں اُن ماؤں جیسی نہیں، جو ہر وقت بچّوں کے سَر پر سوار رہتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ بچّوں کو وقت دیں ،لیکن آزاد بھی چھوڑیں، تاکہ اُنہیں آپ کی اہمیت کا احساس رہے۔

س:شادی سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟

ج:بس یہی کہ اب میری زندگی میں مانی، مزّمل اور ابراہیم شامل ہوگئے ہیں اور مَیں نے شوبز انڈسٹری جوائن کرلی ہے۔

س:ایک انٹرویو کے دوران شکوہ کیا تھا کہ ’’مجھے کوئی بھی فن کار اپنی شادی میں نہیں بلاتا، شاید مَیں کسی کی دوست نہیں ہوں‘‘،تو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس فیلڈ میں دشمن زیادہ بنائے کہ دوست؟

ج:شاید ہم دونوں کے سوشل نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری کے لوگ ہمیں بلاتے نہیں ہیں۔ سوشل نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہماری زیادہ توجّہ بچّوں کی پرورش پر مرکوز رہی اور تقریبات وغیرہ میں جانے سے گریز کیا۔ بہرحال،مَیں نے اس فیلڈ میں دوست زیادہ بنائے ہیں۔

س: بڑھاپے سے ڈر لگتا ہے؟

ج:ہاں ڈر تو لگتا ہے، مگر بڑھاپے میں مَیںوہ والی آنٹی بن جاؤں گی، جس نے بہت زیادہ بوٹکس کروائے ہوں گے۔مَیں خود کو بوڑھا ہوتا نہیں دیکھ سکتی، اس لیے اس ٹیکنالوجی کا ضرور استعمال کروں گی۔

س:آئینے میں خود کو دیکھ کر کیا خیال آتاہے؟

ج:یہی کہ مَیں کتنی خُوب صُورت ہوں۔

س: سال گرہ مناتی ہیں؟

ج:جب سے میچور ہوئی ہوں تو سال گرہ منانے کی بجائے ایک معقول رقم چیریٹی میں دے دیتی ہوں۔ ہاں مانی اور بچّوں کی ضرور مناتی ہوں۔

س: اگر اس فیلڈ سے وابستہ نہ ہوتیں، تو…؟

ج: مانی ایک ایسی شخصیت ہے کہ اس سے جو بھی وابستہ ہوجائے، وہ کچھ نہ کچھ بن ضرور جاتا ہے۔ تو اگر مَیں اس فیلڈ سے وابستہ نہ ہوتی تو تب بھی کچھ خاص ہی کررہی ہوتی۔

س:کسی سیاسی شخصیت سے متاثر ہیں، اگر ہیں،تو کیوں؟

ج:وزیرِ اعظم عمران خان سے متاثر ہوںکہ یہ سچّے اور غریبوں کے ہم درد ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی بھی فین ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک یہ دونوں لیڈرز زندہ ہیں،مُلک و قوم کے ساتھ کچھ بُرا نہیں ہوگا۔

س:کوئی ایسا کردار، جسے ادا کرنے کی خواہش ہو؟

ج:مجھےرومانی کردار ادا کرنے کی خواہش ہے۔

س:کب خوش ہوتی ہیں؟اور اظہار کا طریقہ کیا ہوتا ہے؟

ج:خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں، کبھی ماسی برتن خُوب چمکا دے تو خوش ہوجاتی ہوں، کبھی کراکری خرید کر بےحد خوشی محسوس ہوتی ہے۔خوشی کے اظہار کے لیے بہت باتیں یا پھر میسیجیز کرتی ہوں اور تحائف بھی دیتی ہوں۔

س:اگربن بلائے مہمان گھر آ جائیں، تو کیسا رویّہ ہوتا ہے؟

ج:بہت خوشی ہوتی ہے اور مہمانوں کو اللہ کی رحمت جان کر ان کی خُوب مہمان نوازی بھی کرتی ہوں۔یہ اور بات ہے کہ کھانے پینے کے لوازمات کا اہتمام مانی ہی کرتا ہے۔ مَیں تو بس مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی ہوں، خوب ہنستی، ہنساتی ہوں۔

س:موت سے ڈر لگتا ہے؟

ج:ہاں،یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ میرے بعد بچّوں کا کیا ہوگا۔

س:غصّہ کب آتا ہے، اظہار کیسے کرتی ہیں؟خصوصاً شوٹس پر کن باتوں پر آتا ہے؟

ج:پہلے غصّہ آنے پر چیزیں توڑتی تھی، اب جب سےچیزوں کی قدر ہوئی ہے، غصّہ برداشت کرنے کی عادت ہوگئی ہے۔

س:ویڈیو میک اپ آرٹسٹ ساجد وہاب کی سال گرہ پر آپ کی ایک ڈانس ویڈیو وائرل ہوئی، ایسے اسکینڈلز پر پریشان ہوجاتی ہیں یا انجوائے کرتی ہیں؟

ج:وہ وڈیو وائرل نہیں ہوئی تھی، مَیں نے خود ہی اسٹیٹس لگایا تھا۔ ویسے بھی مجھے ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘کی قطعاً پروا نہیں ، میرے نزدیک فیملی زیادہ اہم ہے۔

س:آپ اور مانی فلاحی امور میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں،کیا کوئی فلاحی تنظیم قائم کرنے کا ارادہ ہے؟

ج:ہم دونوں’’ حرا مانی چیریٹی‘‘ کے پلیٹ فارم سے فلاحی کام کرتے ہیں،جس کا دائرہ وقت کے ساتھ وسیع تر ہوتا جائے گا ،تاکہ ہمارے بعد ہمارے بچّےخدمتِ خلق کرسکیں ۔

س:آپ ان چند اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں، جن سے لوگ ری لیٹ کرتے ہیں، جو انھیں اپنی جیسی ہی لگتی ہیں، تو کیا یہ امیج برقرار رکھنا چاہیں گی؟

ج:جی بالکل، یہ امیج ہی برقرار ہی رکھنا چاہوں گی، کیوں کہ مَیں وہی لڑکی ہوں، جو ٹی وی کےآگےبیٹھی ہوتی ہے۔

س:اپنے بارے میں مختصراً کیا کہیں گی؟

ج:یہی کہ مَیں ذرا پاگل سی ہوں۔

س:میڈیا سے کوئی شکایت ، گلہ ؟

ج:دیکھیں، شکایت اُس سےکی جائے، جس پر کوئی فرق بھی پڑے۔اب میڈیا پر ہماری شکایت کا کیا فرق پڑنا ہے۔ہاں مَیں یہ ضرور کہوں گی کہ میرا نام صرف حرا مانی لکھا جائے۔

س:پرستاروں کے لیے کوئی پیغام؟

ج:مجھے شوبز انڈسٹری قبول نہیں کررہی تھی، پھر اچانک ہی میرے پرستاروں نے مجھے اس مقام تک پہنچادیا ،توآپ سب کی محبتوں ، چاہتوں کا بہت شکریہ۔