• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آٹھ ماہ زیرِ علاج رہا، 20، 25 سرجریز کی اذیت جھیلی

بات چیت: شفق رفیع

عکّاسی: اسرائیل انصاری

’’ہنستے مُسکراتے چہرے، جگمگاتی آنکھیں، گھر والوں کے ساتھ عید منانے کی خوشی، بچّے کی روزہ کُشائی پر پہنچنے کی جلدی، مہینوں بعد میکے جانے کے لیے بے چین بیٹی، بہن ، بھائیوں کو دیکھنے کے لیے بے تاب آنکھیں،تو جلدی کام ختم کرکے واپس لوٹنے کا انتظار…‘‘پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی پرواز 8303نے 22مئی 2020ء، بروز جمعتہ الوداع ، جب علّامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ ،لاہور سے کراچی کے لیے اُڑان بَھری ہوگی، تونہ جانے کتنے ہی دل اپنوں سے ملنے کے لیے بے تاب، بے چین ہوں گےکہ کہیں کوئی بیٹی سسرال سے عید کرنے مَیکے جا رہی تھی، تو کہیں کوئی بیٹا اپنے بابا کے لَوٹنے کا منتظر تھا، تو کوئی ریٹرن ٹکٹ لیے جلد از جلد کام نمٹاکے واپس لاہور جانے کی جلدی میں تھا۔ 

مگر… انسان چاہےکتنی ہی پلاننگز کیوں نہ کرلے، بالآخرہوتا وہی ہے، جو قدرت کو منظور ہوکہ ایئر بس A-320کے مسافروں، کریو یا ان کے گھر والوں کو کہاں معلوم تھا کہ کراچی کے لیے اُڑان بھرنے والی یہ بد نصیب پرواز کراچی ایئرپورٹ سے ملحقہ شہری آبادی ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو جائے گی اور ان کے پیاروں کو مَنوں مٹی تلے سُلا کر، بس کئی کہانیاں اور اَن مٹ نقوش ہی چھوڑ جائے گی۔ ایک تو ویسے ہی گزشتہ برس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث ماحول سخت رنجیدہ تھا ، پھر رمضان کے آخری جمعے کو پی آئی اے کے ایئر بس طیارہ حادثے نےایسی قیامت ڈھائی کہ ہر سُو سوگ کا ماحول طاری ہوگیا۔ 

یہی وجہ تھی کہ کب عید آئی اور گئی کچھ پتا ہی نہیں چلا۔ذرا سوچیں کہ جس وقت طیارہ ہچکولے کھا رہا ہوگا، نارمل فلائٹ میں ایمرجینسی ڈکلیئر کی گئی ہوگی، تو مسافروں، بالخصوص بچّوں کا کیا حال ہوا ہوگا؟ اُن کی آہیں، سِسکیاں، چیخیں اور بے بسی کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتاکہ آن کی آن میں اپنے پیاروں سےملنے کی خوشی ، بچھڑنے کے غم میں بدل گئی ، دل بھی تڑپا ہوگا، آنکھیں بھی نم ہوئی ہوں گی، شاید کسی کے دل سے آواز نکلی ہو کہ ’’اے کاش! مَیں ایک آخری بار، بس ایک بار اپنے ماں ، باپ کو دیکھ سکوں، اے کاش! مَیں اپنی اولاد کو گلے لگا سکوں، بیوی کو بتا سکوں کہ وہ میرے لیے کتنی اہم ہے، بھائی کو کہہ سکوں کہ میری ڈانٹ میں پیار چُھپا ہوتا ہے۔‘‘ آہ…! کیاکیا درد ناک مناظر ہوں گے ۔

آٹھ ماہ زیرِ علاج رہا، 20، 25 سرجریز کی اذیت جھیلی
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

کہنے کو تو ایئر بس A-320کے حادثے، میں طیارے میں سوار مسافروں ، پائلٹس اورکریو ہی نے جان کی بازی ہاری ، لیکن اس حادثے کے کچھ متاثرین ماڈل کالونی کےوہ رہایشی بھی ہیں،جن کے ذہنوں سےایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود حادثے کا خوف، اثرات ختم نہیں ہو ئے۔اور ایسے ہی ایک متاثر وہاں کے رہایشی ، سہیل اصغر بھی ہیں۔ جس وقت طیارے کو حادثہ پیش آیا اور وہ ماڈل کالونی کی ایک گلی میں جا گرا، تو اس کی زَد میں سہیل اصغر بھی آئے، جو سودا سلف خریدنے کے لیے گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ سہیل اصغر گزشتہ 25 سال سے جنگ گروپ کے شعبۂ مارکیٹنگ اینڈ سیلز سے وابستہ ہیں۔

گزشتہ دنوں ہم نے ان سے ایک ملاقات کی، جس میں انہوں نے 22 مئی 2020ء کو رونما ہونے والے حادثے کے حوالے سے اپنی چند تلخ یادیں شیئر کرتے ہوئے بتا یا کہ ’’ہم لوگ ماڈل کالونی میں گزشتہ 17 سال سےذاتی گھر میں رہایش پذیر ہیں۔ ماڈل کالونی کی جس گلی میں پی آئی اے کی ائیر بس گِری، اُسی گلی کے آخر میں ہمارا گھر ہے۔ وہ ایک عام دن نہیں تھا کہ وہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ تھا۔ گھروں میں عید کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ اُس روز شدید گرمی تھی، ایسا معلوم ہورہا تھا ،جیسے سورج سوا نیزے پر ہو۔ نمازِ جمعہ کی ادَائی کے بعد قریباً سب ہی لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چُکےتھے۔ مَیں بھی گھر ہی میں تھا کہ اہلیہ نے کہا کہ ’’عید کے لیے کچھ سودا سلف لاناہے، تاکہ تہوار کے دنوں میں پریشانی نہ ہو۔‘‘ لہٰذا مَیں نے سوچا کہ شام میں جانے سے بہتر ہے کہ ابھی ہی چلا جاؤں کہ اس طرح کچھ وقت بھی گزرجائے گا، افطار کے بعد مارکیٹ جانے کی ہمّت بھی نہیں ہوتی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسٹورز وغیرہ بھی جلدی بند ہو رہے تھے۔ 

میرا معمول ہے کہ گاڑی گھر کے بالکل سامنے نہیں ،تھوڑی دُور پارک کرتا ہوں، تاکہ مرکزی دروازہ بلاک نہ ہو۔ابھی مَیں گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ اچانک ہی یہ حادثہ رُونما ہوگیا۔ چوں کہ گاڑی دیوار کی طرف پارک تھی، تو جس وقت طیارہ گرا، میرا چہرہ دیوار کی طرف اور پشت گلی کی طرف تھی۔ اب مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ زندگی کتنی بے ثبات، بے بھروسا اور مختصر ہے کہ حادثے سے محض چند سیکنڈز پہلے تک مَیں اپنی ہی دنیا میں مگن کئی پلاننگز لیےگاڑی میں بس بیٹھنے ہی والا تھا کہ یک دَم ہی جیسے میری دنیا بدل گئی،بلکہ اُلٹ گئی۔ میرے ، میری فیملی یا اپنے گھروں میں روزے کی حالت میں چین و سکون سے بیٹھے اہلِ محلّہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے۔

ہم ماڈل کالونی میں ایک طویل عرصے سے رہ رہے ہیں، ہمارے گھروں کے اوپر سے جہازوں کی آمد و رفت کوئی نئی بات نہیں کہ ہم اس کے عادی ہو چُکے ہیں اور دیگر علاقوں میں رہنے والوں کے بر عکس ہمارے لیے جہازوں کی گھن گرج، لینڈنگز، ٹیک آف معمول کی بات ہے۔ اور میرے سامنے گزشتہ 17 برس میں نہ کوئی حادثہ پیش آیا، نہ ہمیں کوئی پریشانی ہوئی، شاید یہی وجہ ہے کہ دماغ کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ہم پر اس طرح طیارے کی صُورت ایک قیامتِ صغریٰ بپا ہونے والی ہے۔ 

بالخصوص میرے لیے تو یہ حادثہ کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوا۔ ‘‘ ’’طیارہ کس طرف گرا، اس کے نتیجے میں کتنے افراد زخمی اور مکانات تباہ ہوئے؟‘‘ ہم نے پوچھا تو سہیل اصغر کچھ یوں گویا ہوئے کہ ’’ ایئر بس A-320 ہماری گلی کے عین وسط میں گری تھی، تو اس کے نتیجے میں گھروں کی ایلی ویشن (سامنے کا حصّہ)مکمل طور پر تباہ ہوئی۔ مگر اللہ پاک کا بے حد شکر ہے کہ جہاز کسی گھر کے اوپر نہیں گرا کہ اگر گھروں پرگر جاتا تو تباہی کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں تھاکہ اُس وقت قریباً 250 افراد گھروں میں تھے۔ 

البتہ، جہاز کے کچھ حصّے مثلاً، کاک پِٹ کا کچھ حصّہ، ٹیل اور وِنگز وغیرہ دو، تین گھروں پر گِرے، جس سے ان گھروں کو نقصان تو پہنچا، لیکن اس قدر نہیں کہ گھر مکمل طور پر تباہ ہوجاتے۔جہاں تک بات ہے اہلِ محلّہ کے زخمی یا متاثر ہونے کی، تو چوں کہ گرمی بھی بہت زیادہ تھی، تو قریباً تمام ہی لوگ گھروں میں تھے، بس بد قسمتی سے مَیں ہی واحد رہایشی تھا، جو اُس وقت باہر جانے کے لیے نکلا اور حادثے کی زَد میں آگیا۔علاوہ ازیں، کام کرنے والی ماسیاں بھی باہر تھیں، جن میں سے دوشدید زخمی ہوئیں اورایک جاں بحق ہو گئی۔ ‘‘

طیارہ گرتے وقت کے حالات بتاتے ہوئے سہیل اصغر نے کہا کہ ’’جس وقت جہاز زمیں بوس ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ مَیں گاڑی کی سِیٹ سےگر کربے ہوش ہوگیا۔اہلِ محلّہ بتاتے ہیں کہ جہاز گرنے کے ساتھ ہی پوری گلی میں مختلف گیسز، ہائیڈرو لِک آئل اور دھواں بھر گیا کہ سانس تک لینے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ اس دَوران مَیں گاڑی کے قریب بنی کیاری کی طرف بے ہوش پڑا تھااورگلی میں کھڑی زیادہ تر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز تباہو چُکی تھیں۔ میری دونوں ٹانگیں بُری طرح جُھلس چُکی تھیں، یہ کوئی عام جلنا نہیں تھا بلکہ طیارہ حادثے کے نتیجےمیں پہنچنے والا نقصان تھا۔ 

یہی نہیں،میرے گھٹنے کا اوپری حصّہ غائب تھا، ٹانگوں پر انتہائی گہرے زخم آئے ، جو آج تک مکمل طور پر نہیںبھر سکے۔بعد ازاں، اہلِ محلّہ نے بتایا کہ جہاز گرتے ہی سوائے دو مسافروں کے تمام افراد شہید ہو گئے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قیامت ہو، ہر طرف دھواں، شور، چیخیں، سِسکیاں، آہ و بکا ، مدد کی پکار ، انسانی خون اور اعضاء بکھرے پڑے تھے۔ ‘‘ ’’آپ کو کس نے اور کیسے ریسکیو کیا؟‘‘ ’’ میرے ایک پڑوسی نے، جن کے گھر کی طرف مَیں نےگاڑی پارک کی تھی ،بتایا کہ’’ طیارہ گرنے کے بعد جب ہم باہر نکلے تو کسی کے کراہنے کی آوازیں آرہی تھیں، قریب جا کر دیکھا تو وہ آپ تھے، بس اُسی وقت ہم نے آپ کو کھینچ کر گھر کے اندر کیا اور ریسکیو اہل کاروں کو خبر کی کہ ہمارے ایک پڑوسی بھی شدید زخمی ہیں، جنہیں ہم نے اپنے گھر میں لٹا دیا ہے۔‘‘

بہر حال، جس وقت مجھے ہوش آنے لگاتو مَیں نے محسوس کیاکہ ہر طرف فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو اہل کار موجود ہیں۔جب تک ریسکیو اہل کار میری مدد کو آئے، مَیں ہوش میں آ چُکا تھا اور محسوس کر رہا تھا کہ میرا دھڑ بری طرح جُھلسا ہوا، کان کٹا ہوا اور چہرےکی بائیں سائیڈ ہائیڈرو لک آئل کی وجہ سے جل چُکی ہے ، جس کی وجہ سے خون جاری تھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب ریسکیو اہل کار مجھے ایمبولینس میں ڈالنے لگے تو مَیں نے بس ایک بات کہی کہ مجھے کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل(سی ایم ایچ )لے جائیں کہ وہ ہمارے گھر سے قریب ترین ہے۔ وہاں پہنچا توعملہ پہلے ہی سےہائی الرٹ تھا،جس نے مجھے دیکھتے ہی کچھ ٹیسٹس وغیرہ کیے اور کہا کہ ’’ان کے جسم کا زیادہ تر حصّہ جل چُکا ہے، لہٰذا یہ برن کیس ہے۔‘‘ 

باقی ٹیسٹس کی رپورٹس نارمل تھیں، جن کی بنا پر انہوں نے مجھے خطرے سے باہر قرار دے دیا۔ ‘‘ ’’ آپ اپنی گلی ہی میںحادثے کا شکار ہوئے، آپ کی فیملی بھی گھر ہی میں موجود تھی،تو جب طیارہ حادثہ پیش آیا تو کسی فیملی ممبر نے باہر آکر آپ کی خبر نہیں لی؟ محلّے والوں نے کیوں ریسکیو کیا؟‘‘ ہمارے سوال کے جواب میں سہیل اصغر کا کہنا تھا کہ ’’ ہوا کچھ یوں کہ میرے گھر والے سمجھ رہے تھے کہ مَیں حادثے سے قبل ہی مارکیٹ جا چُکا ہوں ، پھر جب انہوں نے مجھے کال کی تو چوں کہ موبائل بھی تباہ ہو گیا تھا ،تو نمبر بند جا رہا تھا، تو وہ سمجھے کہ مارکیٹ کی بیسمینٹ میں ہوں ، جہاں نیٹ ورک کام نہیں کررہا، اس لیے میرا نمبر آف جا رہا ہے۔ علا وہ ازیں، جہاز کا کاک پِٹ والا حصّہ میرے گھر کے عین سامنے گرا تھا، جس کی وجہ سے فیملی گھر ہی میں محصور ہو کر رہ گئی تھی، تو وہ لوگ باہر بھی نہیں نکل سکے۔ یوں، مَیں اپنی ہی گلی، محلّے میں نہ جانے کتنی دیر بے یارو مدد گار پڑا کراہتا رہا۔ ‘‘

حادثے کے حوالے سے سہیل اصغرکا مزید کہنا تھا کہ ’’پی آئی اے کی فلائٹ 8303 کو جو حادثہ پیش آیا ،وہ خالصتاً سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز وغیرہ کی غفلت، لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ایک تو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سول ایوی ایشن اور متعلقہ اداروں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کراچی کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ سے اب ایئر پورٹ آبادی کے بیچوں بیچ آگیا ہے۔ تو انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ آبادی کے اوپر سے نچلی لینڈنگز (Low landings)کرتے وہ جورَن ویز استعمال کرتے ہیں، وہ آبادی کے قریب ہیں،تو اس سے کبھی بھی کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔حالاں کہ کراچی کی بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے حکومت، سول ایوی ایشن اور متعلقہ حکّام کو اس حوالے سے بہت پہلے ہی حکمتِ عملی بنانی اور لائحہ عمل مرتّب کر لینا چاہیے تھا، مگر ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں جب تک پانی سر سے نہ گزر جائے ،کچھ نہیں ہوتا۔ 

قارئین کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ یہ کوئی چھوٹا علاقہ نہیں ،یہاں بیس، پچیس ہزار کی آبادی ہے۔ اس سے بھی زیادہ غور طلب امر یہ ہے کہ یہاںسٹی، بیکن ہاؤس، ایجوکیٹرز سمیت دس بڑے انگلش میڈیم اسکولزہیں،جن میں آٹھ سے دس ہزار بچّے پڑھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک پیٹرول پمپ اور ایک سی این جی اسٹیشن بھی موجود ہے،تو اگر آبادی سے اسی طرح لینڈنگز، ٹیک آ ف ہوتے رہے ،توخاکم بدہن مستقبل میں بھی اس طرح کے حادثات پیش آسکتے ہیں۔ اور ذرا سوچیے کہ اگر کوئی جہاز پیٹرول یا سی این جی پمپ پر گر گیا تو کس قدر جانی و مالی نقصان ہوگا، کتنی تباہی ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ میرا ماننا ہے کہ 22مئی 2020ء کو پیش آنے والا واقعہ سراسر سول ایوی ایشن اتھارٹی وغیرہ کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ‘‘ ’’اس حوالے سے کیا بہتری لائی جا سکتی ہے؟‘‘ ہمارا سوال تھا۔’’اوّل تو انہیں بہت پہلے ہی ایئر پورٹ، شہر سے باہر منتقل کر دینا چاہیے تھا کہ یہاں موجود آبادیاں آج کی نہیں، 35، 40سال پرانی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہوائی اڈّے کی منتقلی کوئی آسان کام نہیں، اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ کئی سال پہلے پلاننگ کرتے تو آج یہ مسائل پیش نہ آتے۔ اب اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم طیاروں کی لینڈنگز کا انتظام اُن رَن ویز پر کریں، جو آبادی سے فاصلے پر ہیں۔‘‘

’’ حکومت نے کوئی مالی امداد کی؟‘‘اس سوال کے جواب میں سہیل اصغر کا کہنا تھا کہ ’’ حکومت نے فی زخمی 5لاکھ روپے اورانتقال کر جانے والوں کے لواحقین کو دس، دس لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، جو دیر سویر وفا کر ہی دیا۔ مگر جس وقت علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، اُس وقت وہ رقم نہ مل سکی۔ مجھے قریباً ساڑھے تین ماہ بعد پیسے ملے، تو حکومت کو اس حوالے سے بھی سوچنا چاہیے کہ کسی حادثے کی صُورت میں فی الفور امداد کی جائے تاکہ متاثرین مزید پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔ 

اسی طرح گھروں کی مرمّت کے سلسلے میں بھی پی آئی اے نے متاثرہ رہایشیوں کی کسی حد تک بھرپائی کی ، مگر اس مَیں بھی بہت تاخیر ہوئی۔‘‘ اس حادثےکے زندگی پرمرتّب ہونےوالےاثرات کے حوالے سے سہیل اصغر کا کہنا تھا کہ ’’میری تو زندگی پوری طرح بدل گئی کہ مَیں آٹھ مہینے اسپتال داخل رہا، کیوں کہ میرا جسم بُری طرح جل چُکا تھا، تو مجھے جِلد کی 20 سے 25سرجریز سے گزرنا پڑا، جس کی وجہ سے میری صحت بھی متاثر ہوئی۔ 

یہاں تک کہ حادثے کا ایک سال گزرنے کے با وجود مَیں اب بھی مکمل ری کور نہیں ہو سکا، چلنے میں معذوری (Semi disability)کا شکار ہوں، گاڑی نہیں چلا سکتا، اُٹھنے، بیٹھنے، چلنے پھرنے میں مشکل ہوتی ہے، جو کسی ذہنی اذّیت سے کم نہیں۔ آٹھ ماہ کے طویل انتظار کے بعد مَیں بمشکل واکر سے چلنے کے قابل ہو پایا اور دو ماہ قبل بِنا واکر چلنا شروع کیا ہے، وہ بھی عام افراد کی طرح نہیں، چھوٹے بچّوں کی طرح اور جس ٹراما سے مَیں اور میری فیملی گزری ہے، لگتا ہے اُس کے اثرات تا حیات ہمارے ذہنوں پر نقش رہیں گےکہ آج بھی اگر معمولی پٹاخے کی بھی آواز سُن لوں تو دل دہل جاتا اور جہاز دیکھ کر تو ایک خوف سا طاری ہوجاتا ہے۔‘‘