• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گردوں کی صحت کیلئے مفید غذائیں کونسی ہیں؟

گردے ہمارے جسم کا اہم ترین اعضاء ( آرگن ) ہیں جن کا کام خون میں موجود مضر صحت، آکسیڈنٹ اور فاضل مادوں کی صفائی کے بعد پورے جسم میں اس کی صحت مندانہ طریقے سے ترسیل کرنا ہے، ایسے میں گردوں کا صحت مند اور ان کی کارکردگی کا بہتر ہونا نہایت لازمی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق صحت مند طرز زندگی کے لیے جسمانی اعضاء کا صحیح کام کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے، انسانی زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے ہر اعضاء اپنے حصے کا کام کرتا ہے، کسی ایک اعضاء کی خراب کارکردگی یا متاثر ہونا زندگی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہر انسانی جسم میں  گردوں کا انسانی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ہوتا ہے، ان کی کارکردگی کا متاثر ہونا زندگی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے لہٰذا ان کا صحت مند ہونا اور صحیح طریقے سے کام انجام دینا نہایت ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد میں بلند فشار خون ( ہائی بلڈ پریشر)، ذیابطیس ٹائپ 1 اور 2، شریانوں میں کھنچائو کی شکایت پائی جاتی ہے ممکنہ طور پر یہ گردوں کے بیمار ہونے کی علامت ہو سکتی ہیں۔

طبی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ گردوں کی صفائی اور ان کی کارکردگی بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی اور سادہ غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے، خود کو متعدد بیماریوں جیسے کہ شوگر، منفی کولیسٹرول اور وزن میں اضافہ، شریانوں کی تنگی اور خراب جلد کے علاج کے لیے گردوں کی صفائی اور ان کا صحت مند ہونا لازم و ملزوم ہے، لہٰذا مندرجہ ذیل کچھ ایسی غذائیں اور مثبت عادات درج ذیل ہیں جن کی مدد سے زندگی طویل عرصے تک صحت مند طریقے سے گزاری جا سکتی ہے۔

گردوں کو صحت مند اور توانا رکھنے والی غذائیں اور پھل کونسے ہیں ؟

طبی و غزائی ماہرین کے مطابق فائبر سے بھرپور پھل سیب صرف ڈاکٹر کو ہی دور نہیں رکھتا بلکہ گردوں کو بھی مضر مادوں سے پاک رکھتا ہے، سیب میں موجود فائبر زہریلے مواد (Toxins)کو جذب کر کے خارج کر دیتا ہے، اس عمل کے لیے گردوں کو اچھی خاصی محنت کرنا پڑتی ہے، اس کے علاوہ سیب نظام ہاضمہ کے راستوں یعنی آنتوں میں ہونے والی انفلیمیشن کو بھی کم کرتا ہے۔

کرین بیری یا کا جوس پیشاب کی نالیوں میں ہونے والے انفیکشن کے سدباب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، کرین بیری جوس گردوں میں پتھری کا سبب بننے والے  کیلشیم آکسیلیٹ کو بھی صاف کرتا ہے۔

آلیو آئل یعنی زیتون کا تیل آپ کی تمام تر صحت کے ساتھ گردوں کو تندرست رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، زیتون کا تیل کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، با آسانی دستیاب زیتون کا تیل  پتھری کی وجہ سے ہونے والے درد میں راحت دیتا اور انفلیمیشن میں کمی لاتا ہے۔

ہرے پتے والی سبزیاں بھی گردوں کی صفائی و صحت کے لیے نہایت مفید ہیں، یہ وٹامن سی اور کے سے بھر پور ہوتی ہیں، ہری سبزیو میں موجود اجزا اور فائبر  بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں، جس سے گردوں پر دباو کم ہو جاتا ہے۔

ہرے پتے والی سبزیاں بازار میں بکثرت دستیاب ہوتی ہیں، ان کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر بطور سلاد کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردوں کو پتھری سے محفوظ رکھنے کے لیے لیموں پانی سے دوستی کرلینی چاہیے، لیموں کا رس Citrate Level  یعنی کہ اضافی کیلشیم کے سبب بننے والی پتھری کے عمل کو روکتا ہے، ماہرین کے مطابق روزانہ لیموں پانی کا استعمال گردوں کے ساتھ مجموعی صھت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

گردوں کی صفائی کے لیے تجویز کردہ مسالے کونسے ہیں؟

جسم میں ہونے والی سوزش اور جلن (Inflammation) کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، ان میں ایک گردوں کی بیماری بھی ہے، جسم کو انفلیمیشن سے پاک اور گردو ں کو صاف رکھنے کے لیے ہلدی کی موزوں مقدار کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا نہایت ضروری ہے، ہلدی میں کرکیومن (Curcumin)ہوتا ہے جس میں انفلیمیشن کے خلاف کام کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ہلدی کو چاول، سالن، دالوں، سبزیوں یہاں تک کہ اسموتھیز میں بھی شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی صحت کے سب سے بڑے دشمن زہریلے مواد (Toxins)اور انفلیمیشن ہیں، لہسن ان دونوں کو دور رکھنے میں بہت مدد کرتا ہے۔

لہسن میں جز الیسن (Allicin) موجود ہوتا ہے جو زبردست قسم کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیت رکھتا ہے،  یہ دونوں خصوصیات گردوں اور بلڈ پریشر کے لیے بہت فائد ہ مند ثابت ہوتی ہیں، اسی لیے گھر میں کوئی بھی کھانا تیار کریں ،اس میں لہسن ضرور شامل کریں۔

ادرک بھی گردوں کو صاف کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتا ہے، کچا ادرک کسی بھی غذا میں شامل کر کے کھایا یا پیا جا سکتا ہے۔

گردوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مزید کیا کیا جا سکتا ہے؟

سب سے پہلے تو زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی عادت اپنائیں، کم از کم دن میں 10 سے 12 گلاس پانی کے ضرور پئیں۔

لوبیہ بھی ایک بہترین غذا ہے، جو گردے کی ہی شکل کا ہوتا ہے۔

اگر کوئی مریض گردوں میں پتھری اور درد محسوس کر رہا ہے تو اسے چاہیے کہ چھ گھنٹے تک لوبیہ ابالے اور پھر اس کا پانی چھان کر ہر دو گھنٹے بعد پی لے، ایک سے دودن میں اس کے بہترین نتائج سامنے آجائیں گے۔ 

اس کے علاوہ تلسی، اجوائن ،انگور اور انار کا استعمال بھی گردے کی پتھری سے محفوظ رکھتا ہے۔

صحت سے مزید