• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک نماز چھوڑنے پر دوسری نمازیں پڑھنے کا کوئی ثواب نہیں؟

سوال: میں اور میرے ایک دوست زیادہ مصروفیت کی وجہ سے کبھی کبھی پانچوں وقت کی نماز ادا نہیں کر پاتے۔ کبھی عصر اور کبھی مغرب کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ 

ایک صاحب نے ہمیں یہ مسئلہ بتایا کہ اگر کوئی نماز چھوٹ جائے تو دن میں کسی نماز کا ثواب نہیں ملتا, چنانچہ میرے بعض دوست ایسے ہیں کہ اگر ان سے فجر کی نماز چھوٹ جائے تو وہ اس دن کوئی نماز نہیں پڑھتے۔ 

کیا یہ بات صحیح ہے کہ دن میں ایک دو نمازیں پڑھیں تو ان کا کوئی فائدہ اور ثواب نہیں؟

جواب: اسلام کے پانچ اہم بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن نماز ہے۔ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ضروری ہے۔ بلاعذر شرعی نماز کو مؤخر کرنا، گناہ کبیرہ اور عمداً اس کو ترک کرنا، بعض آئمہ کے نزدیک کفر ہے۔ 

جیسا کہ ایک حدیث میں جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے۔ 

’’جس نے عمداً نماز کو ترک کردیا تو اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ذمہ اس سے بری ہوگیا۔‘‘ یعنی اس نے کفر کیا۔ (ابن ماجہ، مسند احمد)۔

سرور دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد گرامی ہے۔ ’’ہمارے اور کفار و مشرکین کے درمیان فرق ترک نماز کا ہے۔ سو جو نماز ترک کردے، وہ کافر ہوجائے گا۔‘‘ (ترمذی، نسائی)۔ 

نماز ایمان کی کسوٹی اور مومن کی پہچان ہے، اس میں سستی کی اجازت نہیں تاہم اگر کسی وجہ سے یا انسان کی اپنی کسی سستی کی وجہ سے کوئی نماز چھوٹ جائے تو اس کا اثر باقی چار نمازوں پر اس طرح نہیں پڑتا کہ ان نمازوں کا کوئی ثواب ہی نہ ملے اور وہ درست بھی نہ ہوں۔ 

ہر نماز الگ الگ مستقل طور پر فرض ہے اور ہر ایک کا وقت الگ ہے۔ ایک نماز کے چھوٹ جانے پر عمداً دوسری نماز کو چھوڑ دینا، مزید گناہ مول لینا ہے اور بقول بعض فقہاء کے ایسا کرنا فعل کفر کو قبول کرنا ہے۔ 

اگر کوئی نماز چھوٹ جائے تو موقع ملتے ہی اس کی قضا کرلی جائے اور تمام نمازوں کو ان کے صحیح وقت پر ادا کرنے کی پوری پوری کوشش کی جائے کہ نماز فرض دیگر تمام کاموں سے ضروری اور دین کا اہم ترین رکن اور ستون ہے۔

کتاب و سنت کی روشنی میں اپنے مزید مسائل کے حل جاننے کے لیے وزٹ کریں:

https://ramadan.geo.tv/category/islamic-question-answers

خاص رپورٹ سے مزید