• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی رکن کانگریس رشیدہ طلیب اور الہان عمر کا اسرائیلی جارحیت پر ردِعمل


 امریکی ڈیمو کریٹ مسلم خاتون رکن کانگریس رشیدہ طلیب غزہ کی دُکھی ماں کی کہانی سناتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔

رشیدہ طلیب نے کہا کہ دوستوں کو یاد دلا دوں کہ فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں، ہم بھی انسان ہیں، ہمیں بھی خواب دیکھنےکی اجازت ہے، ہم مائیں ہیں، بیٹیاں ہیں، پوتیاں ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم انصاف کے طالب ہیں، ہر قسم کے ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے معذرت خواہ نہیں، فلسطینی کہیں نہیں جارہے، آپ اسرائیل کی نسلی حکومت کو خواہ جتنے پیسے بھیجیں۔

رشیدہ طلیب نے غزہ کی ایک ماں کی تحریر کو پڑھ کر سنایاکہ غزہ کی ماں کہتی ہے وہ بچوں کو اپنے بیڈروم میں سلاتی ہے تاکہ مریں تو ساتھ مریں، وہ نہیں چاہتی ہے کہ کوئی زندہ رہے اور دوسرےکی موت کا غم سہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ بیان مجھےاور بھی توڑ دیتا ہے جب میں اپنے ملک کی پالیسیاں دیکھتی ہوں، اسرائیل کو فنڈنگ اس ماں کے اپنے بچوں کو زندہ دیکھنے کے حق سے انکاری ہے۔

رشیدہ طلیب نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اسرائیل کے لیے امداد عالمی انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کرنا ہوگا، اسرائیلی کی غیرمشروط حمایت سے فلسطینیوں کی زندگیاں مٹ رہی ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہماری غیر مشروط حمایت لاکھوں پناہ گزینوں کے حقوق سے انکاری ہے۔

دوسری جانب الہان عُمر نے کہا کہ اسرائیل فلسطین تصادم میں ہر موت ایک سانحہ ہے، عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا ہر راکٹ اور ہر بم جنگی جرم ہے۔

الہان عمر نے کہا کہ مجھے ہر اس بچے کے درد کا احساس ہے جو خوف کے مارے بستر میں چھپ جاتا ہے۔

اُنہوں نے خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کاش ہم بطور قوم اس درد سے مساوی طور پر نمٹیں، اس وقت ہم ایسا نہیں کررہے۔

الہان عمر کا مزید کہنا تھا کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کرنے کے بجائے ہمارے بہت سے کانگریس اراکین سیلف ڈیفنس کے نام پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی حمایت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 109 ہوگئی ہے، شہداء میں 28 بچے اور 15 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 621 افراد زخمی ہیں۔ ہزاروں فلسطینیوں کے آشیانے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید