• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترین کیخلاف مقدمات، علی ظفر جلد رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرینگے

اسلام آباد (طارق بٹ) جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات، علی ظفر جلد اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ اس حوالے سے سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی دی گئی ذمہ داری پوری کرچکا ہوں اور اپنی رپورٹ تیار کررہا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق، سینیٹر علی ظفر اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آئندہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کو پیش کریں گے۔ یہ رپورٹ ایف آئی اے کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے خلاف قائم مقدمات کے حوالے سے ہے۔ دی نیوز کے رابطہ کرنے پر علی ظفر نے بتایا ہے کہ انہوں نے تفصیل سے طرفین کا موقف سنا ہے اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے انہیں جو ذمہ داری دی تھی وہ مکمل کرچکے ہیں اور اب انہوں نے اپنی رپورٹ تیار کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جہانگیر ترین کی قانونی اور فنانشل ٹیموں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ جب کہ ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں اپنا موقف پیش کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس پر اپنی رائے دینے سے انکار کردیا۔ انہیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے کردار کا جائزہ لینے کی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی بلکہ انہیں حقائق سامنے لانے کا کہا گیا تھا تاکہ جہانگیر ترین اور ان کے حامیوں کی جانب سے جو اعتراضات سامنے آئے تھے انہیں ختم کیا جاسکے۔ جیسے ہی ایف آئی اے کی تحقیقات میں تیزی آئی تھی جہانگیر ترین نے وفاق اور پنجاب کے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت پر دبائو ڈالا تھا تاکہ پہلے مرحلے میں تحقیقات سست روی کا شکار ہوں اور پھر ختم ہوجائیں۔ یہ ارکان اسمبلی جہانگیر ترین کو ریلیف دلوانے کے لیے وزیراعظم سے بھی ملے تھے، جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کے مطالبات پورے کردیئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے انہیں بتایا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں شکر اسکینڈل سے متعلق ایف آئی اے تحقیقات کی نگرانی کریں گے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔ اس اجلاس سے ایک روز قبل سینئر پولیس افسر محمد رضوان جو کہ ایف آئی اے ٹیم کی سربراہی کررہے تھے اور جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات کررہے تھے، ان کی ذمہ داری اچانک تبدیل کردی گئی تھی۔ انہیں اس عہدے سے ہٹا کر سینئر افسر ابوبکر خدا بخش کے زیراثر کردیا گیا تھا۔ جہانگیر ترین نے ان کے خلاف بات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا انہیں تحقیقات سے علیحدہ کیا جائے۔ ابتدائی طور پر جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات کا آغاز شکر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا تھا جسے ایف آئی اے نے تیار کیا تھا۔ تاہم، جہانگیر ترین اور ان کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ شکر اسکینڈل سے متعلق کوئی ایک کیس بھی ایف آئی اے یا کسی دوسری ایجنسی نے رجسٹر نہیں کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے دائر تین ایف آئی آرز میں لفظ شکر تک موجود نہیں ہے۔ یہ کیسز منی لانڈرنگ سے متعلق تھے۔ جب کہ ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ جب ایف آئی اے قانون کے مطابق، ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے تو افسران سختی سے ایف آئی اے ایکٹ، تعزیرات پاکستان، انسداد منی لانڈرنگ قانون، ضابطہ فوجداری اور پولیس ایکٹ کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی قانون وزیراعظم، وزیر داخلہ، مشیر داخلہ، رکن پارلیمنٹ یا وزیراعظم کے نامزد کسی بھی شخص کو ان امور میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتا۔ ایف آئی اے افسران قانون کے مطابق حقائق جانچنے کے پابند ہیں۔ جب کہ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں وہ اسلام آباد سے بنائے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خلاف جو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں وہ ایف آئی اے کو یو ایس بی میں فراہم کی گئی تھیں۔ یہ ایف آئی آرز ایف آئی اے افسران کی آزاد انکوائری کا نتیجہ نہیں تھیں۔

اہم خبریں سے مزید