آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کچھ چیزوں کو خاک کر دینے سے کیا ان کو ذہن سے بھی ماؤف کیا جا سکتا ہے ۔ قائد اعظم کا وہ پلنگ، سیدھی بیک اور فرنٹ، شیشم کا بنا ہوا۔ اس پر سفید چادر بچھی ہوئی۔ سامنے ڈاکٹر الٰہی بخش کا کمرہ، دوسری سمت محترمہ فاطمہ جناح کا کمرہ، سامنے مختصر سی بالکونی، سیڑھیوں سے اترو تو دائیں ہاتھ ڈائننگ روم اور بائیں ہاتھ مختصر سا ڈرائنگ روم، دونوں کمروں میں قائد اعظم کے ساتھ معزز رہنماؤں کی تصاویر، کھانے کے کمرے میں ایک الماری جس میں مختصر سی کراکری اور بس۔ یہ تھا پورا خزانہ جس کو دیکھنے کیلئے میں بار بار زیارت جایا کرتی تھی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے بڑا سکون ملتا تھا۔ لگتا تھا جیسے میں قائداعظم سے ہر بار ملاقات کرتی تھی۔ آخری مرتبہ کوئی چار سال ہوئے (کہ اس کے بعد تو کوئٹہ اس قابل ہی نہیں رہا کہ وہاں جان سلامت لیکر جایا جا سکے) میں مسز اقبال حیدر کے ساتھ گئی تھی۔ وہ بدھ کا دن تھا اور بتایا گیا کہ بدھ کے دن قائد اعظم ریذیڈنسی میں چھٹی ہوتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کو فون کیا، نام پتہ بتایا کہ کراچی سے میرے ساتھ کون خوش بخت ہے جو یہ جگہ دیکھنے آئی ہے۔ بصد کرم ڈی سی صاحب نے چپڑاسی بلواکر ریذیڈنسی کھلوائی۔ مسز اقبال حیدریعنی گڈوکا تو یہ حال تھا کہ جیسے دنیا ہی میں جنّت مل گئی بالکل نوجوان لڑکی کی سی جذباتی کیفیت کے ساتھ کبھی ایک کمرے میں

جاتی کبھی دوسرے میں، فوٹو اتارتی جاتی اور روتی جاتی کہتی جاتی۔ ”یہ تھا کل اثاثہ میرے قائد کا“ بلڈنگ کے چاروں طرف صنوبر کے درخت گواہ تھے کہ قائد اعظم اس قدر کمزور تھے کہ ان کو چادر میں ڈال کر نیچے اتارا گیا تھا۔ کئی بزرگ بھی اس امر کی گواہی دے رہے تھے۔ کسی ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ ”ہم نے اسے اس لئے اڑایا ہے کہ یہ ریذیڈنسی ہماری غلامی کی نشانی تھی“ کتنے بے وقوف اور احمق ہیں یہ لوگ جو اپنی وراثت کو بھی شناخت نہیں کر سکتے ہیں۔ مجھے جرمنی یاد آنے لگا۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں سب سے پہلے جن چیزوں کو محفوظ کیا گیا اور انڈر گراؤنڈ رکھا گیا وہ جرمن تاریخ کے وہ عظیم مجسمے تھے جو جرمنی کی ماضی کی تاریخ کی نشاندہی کرتے تھے۔ ساری دنیا کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لئے اقوام متحدہ نے یونیسکو کا ادارہ بنایا تھا۔ مجھے یاد ہے فوزیہ سعید مجھے قاہرہ میں وہ پارک دکھانے لے گئی جہاں سب لوگ ڈھیروں ڈھیر گند، غلاظت اور کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے۔ حکومت نے اس سارے علاقے کو صاف کر کے، ریسٹورنٹ اور پارک اس طرح بنایاتھا کہ آپ ایک جانب سے گاڑی میں بیٹھ کر دیکھنا شروع کریں اور دوسری جانب سے باہر نکل جائیں۔ میرے پاس وقت کم تھا۔ ہم نے بھری دوپہر ہی میں وہ پارک دیکھا اور اب میں اس کا تقابل مستقیم پارک سے کر رہی ہوں جس کو بچانے کیلئے نوجوان ترکی میں احتجاج کر رہے ہیں۔ ہمارے لاہور میں نہر کیلئے سڑک وسیع کرنے کو درختوں کو گرانے کا جب پروگرام بنایا گیا تو لاہور کے لوگوں نے باہر نکل کر اس قدر احتجاج کیا کہ حکومت کو وہ منصوبہ ختم کرنا پڑا، اسلام آباد میں بھی پرانے برگد کے درختوں کو بچانے کے لئے فوزیہ من اللہ نے ایسی تحریک چلائی کہ سارے نوجوان لڑکے لڑکیاں جلوس کی شکل میں باہر آگئے اور آخر کار سی ڈی اے کو ماننا پڑا۔ آج بھی جب ایف الیون کی طرف جائیں تو شاندار برگد کا درخت پہلے آپ کا استقبال کرتا ہے اور پھرآپ کو آگے جانے دیتا ہے۔
ابھی میری آنکھوں سے ماتمی آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ شقی القلب رجعت پسند لوگوں نے میری چودہ بچیوں کو عین کوئٹہ کی بروری روڈ پر خودکش حملے کے ذریعے مار ڈالا۔ میری جوان بچیاں جو پڑھ رہی تھیں، میری نوجوان نرسیں جوان کے زخم سینے کیلئے آگے بڑھی تھیں ان سب کو مار ڈالا۔ آخر یہ سب لوگ چاہتے کیا ہیں۔ میرے گھروں کو اجاڑ کے فرقہ پرستی کو ہوا دے کر ، میں تو پریشان ہوں۔ آج ہی مظفر گڑھ میں ننھی سی چار سالہ بچی نے ایک پیاز کھیت سے کیا اٹھایا کہ جاگیردار نے اس بچی پر خونخوار کتا چھوڑ دیا۔ میرے اندر تو بقول وسعت اللہ خان کے ، مرہم سے بھی آگ لگے جا رہی ہے۔ ہم لوگ تو ویسے ہی مسکرانا بھول چکے تھے ۔ ان سانحات نے تو تن بدن میں آگ لگا دی ہے۔ میں اپنے قائد سے یہ بھی تو نہیں کہہ سکتی ہوں کہ ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔ کہا گیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی تین ماہ کے اندر ریذیڈنسی کو دوبارہ بنا دے گی۔ اصل کی جگہ نقل تو ہم نے بدھا بھی دیکھے ہیں مگر جو کچھ اجنتا ایلورا میں ہے، وہ ہری پور میں سلیٹ سے بنائے جانیوالے بدھا میں تو نہیں ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے تاریخ کو یاد رکھنے کا۔ یوں تو بھٹو صاحب کے زمانے ہی میں تاریخ، جغرافیہ ہٹا کر معاشرتی علوم کو شامل نصاب کر دیا گیا تھا۔ اس زمانے سے لیکر آج تک بچوں کو نہ پتھر کا زمانہ پتہ ہے، نہ شیرشاہ سوری کا زمانہ، مغلوں سے لیکر انگریزوں تک کا زمانہ۔ بی ایل اے والے کہتے ہیں کہ ہم نے انگریزوں کی نشانی کو مٹایا ہے۔ کیا کل کو سارے ریلوے اسٹیشن، سارے ریسٹ ہاؤسز اور مری، نتھیا گلی وغیرہ ان سب کو مٹا دو گے۔ کبھی کچھ خود بھی بناؤ گے کہ مٹانا تو بہت آسان ہوتا ہے سب سے مشکل تو بنانا ہوتا ہے، دیوار چین بنا کر دکھاؤ۔ ایفل ٹاور بنا کر دکھاؤ، مینار پاکستان بنا کر دکھاؤ۔
میرے دوستو ! برا مت منانا، میرا دل بہت دکھا ہوا ہے، میرا ہی نہیں، جن لوگوں سے بات کرتی ہوں وہ رو کر زیارت کا ذکر کرتے ہیں، وہ بار بار قائد اعظم کے کمرے کو یاد کرتے ہیں۔ سارے بچے ماں باپ کو اداس دیکھ کر پریشان ہیں کہ آخر کیا گم ہوگیا ہے، کیا چھین لیا گیا ہے کیا مٹ گیا ہے، لوگوں نے تو سیفو کو مٹا دیا تھا مگر پھٹے ہوئے صفحوں کو مرتب کرنے پر تاریخ کی پہلی شاعرہ برآمد ہوئی مجھے تو اٹھارویں ترمیم کے بعد ملک کے تمام آثار قدیمہ کی قسمت کچھ اچھی نہیں لگ رہی۔ معلوم نہیں کہ کل بادشاہی مسجد کے بارے میں کہہ دیا جائے کہ یہ تو ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتی یا پھر لاہور میوزیم کے بارے میں کہہ دیا جائے کہ یہاں تو بدھا کے مجسمے ہیں یہ ہمارے ایمان کے خلاف ہیں۔ ان کو نکال دیا جائے، خدا کا واسطہ ہے زمانہ جاہلیت میں بھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے تہذیبی ورثے پر فخر کرنا کس دن آئیگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں