• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ کے تناظر میں ہمیشہ اپنے مذہب اور اپنی تہذیبی و تمدنی روایات سے جڑاہوا نظر آتا ہے۔ بلکہ مذہب اس کی تاریخ و تہذیب پر اس حد تک اثر انداز ہے کہ ، عقیدے اور مسلک کی کارفرمائی اگرچہ جاپانیوں کے لییاہم نہیں ہے ، لیکن یہاں زندگی کا کوئی معاشرتی پہلو مذہب سے دور اور لاتعلق نہیں۔

عہد ِ حاضر کے پْرہنگام دور میں کہ جنگیں عالمی معاشرے پر مسلط ہوتی ہی ہیں اور جا پان ایسی داخلی اور خارجی جنگوں سے ماضی ہی نہیں عہد ِ حال میں ہر قوم سے کہیں زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس کا ایک نمائندہ اظہار ادب میں بھی بہت واضح صورت میں موجود ہے لیکن جس کے ماحصل کے طور پرانسان دوستی اور بقائے باہمی کے احساس بلکہ اس کی تڑپ نے جاپانی ادب کو بھی ایک انفرادی رنگ و آہنگ سے ممتاز کیا ہے۔

اگرچہ ایسے احساسات ہر قوم اور اس کے تخلیقی مظاہر میں موجود ہیں لیکن ایک ایسی قوم جس نے مسلسل دس ماہ (اواخر نومبر ۱۹۴۴ء سے ۱۵/اگست ۱۹۴۵ء تک) کے عرصے میں ایک بڑی اورمخالف قوم کی بہیمانہ جارحیت کے نتیجے میں اپنی قوم کے پانچ لاکھ ساٹھ ہزار انسانوں کی ہلاکتوں کا ، جن میں ستر فیصد عورتیں اور بچے ہوں، سامنا کیاہو، جس کو اپنے چارسو سے زیادہ شہری و دیہی مقامات پر پونے دولاکھ ٹن وزنی بموں کی تباہ کاریوں کا راست تجربہ ہو، اس کی ذہنی کرب اور نفسیاتی عوارض کا کون اندازہ نہ کرسکے گا؟ یہ کرب اور یہ عوارض عام انسانی زندگی کو جس طرح متاثر کرتے رہے ہوں گے ان کے مظاہر تو اْس وقت بچی کچی آنکھوں نے دیکھے ہی ہوں گے لیکن انھیں محفوظ ان تخلیقی کاوشوں نے کیا جو جنگ کی تباہ کاریوں سے کسی طرح معجزانہ طور پر بچ جانے اور ساتھ ہی سوچنے سمجھنے کیقابل رہ جانے والے فن کاروں نے اپنی تخلیقات میں محفوظ کرلیا۔

ایسے فن کاروں کی اْس وقت کی یا جنگ کے بعد کی متنوع تخلیقی کاوشوں کے باعث اس قوم کے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے احساسات نے وہاں کے ادب اور فن کے بے مثال نمونے تخلیق کیے ہیں، جن میں سے بعض تو ایسے لازوال ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تخلیق ہونے والادنیاکا کوئی ادبی شاہ کار و فن پارہ ، تخلیقی سطح پر، جنگ کے موضوع پر،اپنی نوعیت اورتاثیر میں شایدان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔فن اور ادب کے مقبول و روایتی اظہار کے صورتیں بھی یہاں متنوع ہیں۔ 

ان میں ایک 'منگا' Manga بھی ہے جو مزاحیہ خاکوں یا کارٹونوں کو وسیلہ بناتاہے۔طباعت کے آغاز اور اخبارات کی صحافت کے ابتدائی دور ہی میں ، جس کا سلسلہ انیسویں صدی کے شروع ہی سے مقبولیت حاصل کرلیتاہے، سیاست و معاشرت کے موضوعات کے ساتھ ساتھ ادب اور اس کی چاشنی بھی اس وسیلہ اظہار کا جزو بنتی رہی ہے اور زبان نے اس کے مقاصد کی ترسیل و تنظیم میں جاپان میں بڑا اہم کردار ادا کیاہے۔ بعد کے عہد میں خصوصا ً دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد، ایک نئے معاشرے کی تعمیر کے دور میں اورادب کے زمرے میں یہاں صرف تیزْوکا اوسامو کی مثال کافی ہوگی، جو ایک کارٹون بنانے والینقاش اور قلم کار تھے اور جو جنگ ِ عظیم دوم کے بعد کے جاپان کے ان ممتاز اور نامور تخلیق کاروں میں تھے جن کی شہرت جاپان میں اور جاپان سے نکل کر عالمی سطح پر اس کی اپنی اور جاپان کی شناخت کا باعث بنی اور اس کا تخلیق کردہ کردار'استرو بوائے'( Astro Boy)، ایک اصلاحی و تعمیری انسان نما تصوراتی روبوٹ، عالمی سطح پر اسی طرح مقبول و معروف ہے جس طرح عالمی شہرت یافتہ ممتاز کارٹون نقاش والٹ ڈِزنی ( Walt Disney)کے کردار ' مِکِی' (Mickey) اور 'ماوس' (Mouse) یا 'ڈونل ڈک' (DonaldDuck) ،لیکن والٹ ڈِزنی کے کردار ایک تصوراتی ماحول اور معاشرے میں محض حظ و تفریح کے مقصد سے تخلیق ہوئے ہیں او ر اپنا یہی مقصد رکھنے اور پورا کرنے کے سبب مقبول بھی ہوئے ہیں لیکن اوسامْو کے کردار، حظ و تفریح کے عناصر کے ساتھ ساتھ، جو نوعمر قارئین کے لییپْرکشش بنانے کی خاطر ضرور شامل کیے جاتے ہیں، اضافی طور پرکئی مقاصد کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔

وہ ایک تو اپنے ماحول کے فطری تقاضوں کے ترجمان ہوتے ہیں اور ماحول کی حقیقی عکاسی ان کا مقصد ہوتاہے۔ ان کے ذریعے ہم ان کے ماحول کو بھی جان سکتے ہیں۔اسی ذیل میں اس ماحول میں موجود مخلوقات یا کردار اس طرح سامنے آتے ہیں جو باہم ایک دوسری کے ساتھ اخوت و محبت کا رشتہ رکھتے ہیں اور کوئی کسی کی تحقیر یا توہین کرتاہوا نظر نہیں آتا۔

ورنہ بالعموم مزاح اسی وقت پیدا ہوتاہے جب اس میں شخصی کمزوریوں اور خلاف ِ فطرت رویوں کونمایاں کیاجاتاہے۔اوسامْواپنے کرداروں کو اس طرح بھی پیش کرتاہے کہ وہ کردار روشن خیالی اور سبق آموزی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔یہ ایک واضح فرق وامتیاز ہے جو کم از کم کارٹونوں پر منحصر ادب سے متعلق تخلیقی دنیامیں شاذ ہی کسی کے ہاں نظر آتا ہے۔ان سب اوصاف اور خصوصیات کے ساتھ ساتھ اوسامْو کی تخلیقات میں جو سب سے نمایاں اور ممتاز خوبی یا انفرادیت ہے وہ جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کے جذبات و احساسات ہیں۔ 

اگرچہ یہ واضح ہے کہ جنگ سے نفرت اور امن کی خواہش اوسامو کے اس ہولناک تجربے اور شدید کرب کے نتیجے میںہے اور ان کی تخلیقات کا نمایاں موضوع بنی ہے جن سے وہ راست گزرے ہیں اور اس عمر میں یہ عذاب سہے ہیں جو ان کی نوعمری یا نوجوانی کا دور ہے جب احساسات اور جذبات میں شدت عروج پر ہوتی ہے اور اس دور کے داخلی و ذاتی تاثرات زندگی بھرانسان پر طاری و حاوی رہتے ہیں اور اگر وہ فن کار یا تخلیق کار ہے تو اس کی تخلیقات کا لازمہ بنے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر شاید کوئی کارٹون نقاش اس تواتر اور استقلال کے ساتھ اپنے فن میں جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کے موضوعات کو اس پْرتاثیر انداز میں پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوا اور اپنے اس فن کی بنیاد پر عالمی شہرت و مقبولیت اور شناخت کے حاصل کرنیکا سبب نہ بن سکا۔

جاپان اس لحاظ سے ایک مثال ہے کہ اس کے معاشرے کی تعمیر و اصلاح میں ، انسانی محبت و اخوت کے فروغ میں ،اوسامو جیسے فنکاروں نے اپنی تخلیقات اور اپنے فن و ادب سے وہ کام لیے ہیں اور ایک مصلحت آمیز شعوری کوشش و کاوش سے افادی ادب کے زور و اثر کی وہ مثال پیش کی ہے جو اس کے انسانوں اور معاشرے میں عام جلوہ گر ہے۔