• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرحی نعیم، کراچی

دستک ہوئی تو صبا نے دروازہ کھولا۔ سامنے پڑوس کی خالہ کھڑی تھیں۔ ’’ارے خالہ! آپ کیسے؟؟‘‘ ’’ اے بی! نہ سلام ،نہ دُعا، اُلٹا میرے ہی آنے پر تفتیش؟‘‘’’ اوہ! السلامُ علیکم خالہ!‘‘ ’’ وعلیکم السلام‘‘ انہوں نے صبا کو تیز نظروں سے دیکھا اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ جس کے جواب میں اس نے گھبرا کر اپنے ہاتھ پُشت پر کرلیے۔’’ اے لڑکی! آخر کیا ہو گیا ہے؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟’’ جی ، جی طبیعت تو بالکل ٹھیک ہے۔ وہ ،کورو…نا…‘‘ وہ اٹکتے ہوئے بولی۔’’ کیا وہ کم بخت بیماری تمہارے گھر بھی آپہنچی؟‘‘ نہیں، نہیں!یہ تو صرف احتیاطاً…‘‘’’کون آیا ہے؟‘‘ اندر سے امّی کی آواز آئی۔ ’’خالہ آئی ہیں۔‘‘ صبا نے بتایا’’ آئیے، آئیے خالہ…‘‘مارے باندھے صبا نے خالہ کو اندر کی طرف آنے کا راستہ دیا ۔ 

’’شکر ہے نزہت، تم نے آواز دے کر معلوم کر لیا، ورنہ تمہاری لڑکی تو شاید مجھے دروازے ہی سے واپس کردیتی‘‘’’ہائیں؟ مگر کیوں؟‘‘ امّی نے صبا کی طرف گردن گھما کے حیرت سے دیکھا۔’’ یہ توتم اِسی سے پوچھو۔ اور یہ تم بھی منہ چُھپا ئےبیٹھی ہو؟‘‘’’ ارے بس آپا، اس لڑکی نے تو سارے گھر کو خو ف زدہ کررکھاہے۔ ‘‘ امّی جھلّا کر بولیں اور ماسک تقریباً کھینچ کر اُتارتے ہوئے ایک لمبی سانس لی۔’’تو کیوں پہنا ہے؟‘‘’’پہنا نہیں، زبردستی پہنادیا گیا ہے۔ اس صبا نے توناک میں دَم کر رکھا ہے۔‘‘’’ خالہ یہ لیجیے۔‘‘ اتنے میں صبا ہاتھ میں ایک بوتل لے کر خالہ کے پاس آئی۔’’ اب یہ کیا بلا ہے؟‘‘’’ سینی ٹائزر ہے۔ ہاتھ صاف کرلیں‘‘’’ مگر کیوں؟‘‘’’ یہ جراثیم کُش ہے ‘‘’’ اے بی!مَیں ابھی عصر کی نماز پڑھ کر آرہی ہوں۔

میرا وضو ہے اور وضو سے بڑا ہتھیار کوئی نہیں۔‘‘ خالہ اس کی بات سمجھ کر چِڑ گئیں۔’’ لیکن گھر سے یہاں تک کتنی ہی جگہ آپ کا ہاتھ مختلف چیزوں سے ٹکرایا ہوگا۔ تویہ اس لیےہے۔‘‘ خالہ نے صبا کی بات سن کر اسے ایک گھوری دی اور بوتل ہاتھ میں تھام لی۔ ’’لائو دو، بلکہ وہاں بیسن میں رکھ دو، ابھی ہاتھ دھوتی ہوں۔ ‘‘’’ نہیں، نہیں۔ اس کے بعد پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ یہاں بیٹھے بیٹھے بھی ہاتھ صاف کر سکتی ہیں۔ ‘‘ خالہ کو دے کر اس نے بوتل پھر ماں کی طرف بڑھائی۔’’ صبا میرے سامنے سے تو یہ ہٹا لو۔ آخر سارے دن میں کتنی دفعہ میرے ہاتھ صاف کرواؤ گی؟ ابھی آدھے گھنٹے پہلے ہی تو میں نے هہاتھ دھوئے تھےاور اب تم باورچی خانے میں جائو اور چائے بنائو۔ ہاں ،وہ فریج میں کباب رکھے ہیں وہ بھی تل لینا۔ ‘‘’’ جی اچھا۔‘‘

’’ اس لڑکی نے تو سارے گھرکا ناک میں دَم کردیا ہے۔ جب سے یہ بیماری شہر میں آئی ہے مَیں تو پریشان ہو گئی ہوں۔ عارفہ کو بھی آنے سے پہلے اتنی ہدایات دیتی ہے کہ میری بچّی کہتی ہے’’ امّی! اس سے اچھی تو مَیں سسرال میں ہوں۔‘‘ امی جھنجھلا کر بتارہی تھیں۔ ’’ کل رات کو اپنے باپ سے کہہ رہی تھی کہ کیوں ناں ہم سب کسی پرائیویٹ اسپتال سے کورونا کا ٹیسٹ کروالیں۔‘‘ ’’وہ کیوں؟‘‘ خالہ متحیّر تھیں۔’’ کہ ہم سب کو کورونا تو نہیں ‘‘’’ پھر؟‘‘ خالہ نے پوری آنکھیں کھولیں۔’’ پھر کیا،ان کے ابو تو کچھ کچھ راضی ہو گئے تھے۔ 

بیٹی کے ہم خیال جو ٹھہرے، وہ تو ناصر نے ہی باپ سے کہا کہ آپ کیوں وہم میں پڑرہے ہیں؟ اگر اتنا ہی ضروری ہے تو سرکاری اسپتال سے کروالیں۔ ویسے بھی ہم میں سے کسی میں بھی کورونا کی علامات نہیں ہیں، تو ضرورت ہی کیا ہے؟‘‘ امّی سخت بے زارسی تھیں۔ ’’لیکن بیٹی محترمہ ، باپ کے سر تھیں کہ پرائیویٹ اسپتال سے ٹیسٹ کروائیں گے کیوں کہ سرکاری اسپتالوں میں صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔‘‘’’ہاں بات تو کسی حد تک ٹھیک ہے۔‘‘ خالہ نے سر ہلایا۔’’یہ لیجیے‘‘ صبا چائے لے آئی۔ ’’ صبا !تم کہاں جارہی ہو؟ چائے تو پی لو۔ ‘‘امّی نے اُسے آواز دی۔’’ ابھی ٹھہر کر پیتی ہوں۔‘‘ وہ پلٹ گئی۔

کچھ دیر میں سارے گھر میں دھواں پھیل گیا۔ ’’ نزہت! یہ کیا ہے؟‘‘ خالہ کباب کھاتے کھاتےرُک گئیں۔’’ کہیں تمہارے گھر میں آگ…؟‘‘ خالہ بری طرح گھبرا گئیں ، کباب کہیں حلق میں پھنس گیاتھا۔ امّی نے سر تھام لیا۔’’ کیا ہوا نزہت ؟‘‘ خالہ نے بمشکل کباب کا ٹکڑا نگلا۔’’ آپا! مَیں نے آپ کو بتا یا ناں اس لڑکی کا۔ہر وقت تو یہ اس بلا ، فون سے چمٹی رہتی ہے، جو کچھ اس میں دیکھتی ہے، پڑھتی ہے، فوراً وہی کچھ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ 

اب اس نے پڑھا ہوگا کہ دھونی دینے سے گھر میں موجود حشرات الارض مر جاتے ہیں اور اس سے وبائی امراض سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ بس وہی کچھ ہم تین دن سے بھگت رہے ہیں۔ باپ سے لوبان ، حرمل، گوند کندر، نہ جانے کیا کیا منگوالیا۔ اب دن رات اس کی دھونی دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے پیاز، ادرک، چل رہا تھا۔ پانچ کلو، پیاز لے لی کہ اب ہر کھانے کے ساتھ کھائیںگے۔ گرم پانی پر گزارہ الگ ہو رہا ہے۔ اس لڑکی کا بس نہیں چل رہا، گھر کو ’’ قرنطینہ سینٹر ‘‘بنادے۔‘‘

’’ امّی! آپ نے غرارے کر لیے تھے؟‘‘ صبا ایک مرتبہ پھر موجود تھی۔’’ صبا! یہ دیکھو میرے ہاتھ…(امّی نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے)خدا کے لیے اب بس کردو۔ اب تو اس کی ویکسین بھی آگئی ہے، ہم وہ لگوا لیں گے، پر تم کسی طرح سُدھر جاؤ۔ ‘‘’’ اوہو امّی، احتیاط، علاج سے بہتر ہے۔‘‘’’ اور سب سے بہترین وہ قرآنی و نبوی دعائیں ہیں، جو ان تکالیف سے نہ صرف محفوظ رکھتی ہیں، بلکہ بے جا ڈر وخوف سے بھی نجات دیتی ہیں۔‘‘ یہ کڑک دار آواز خالہ کی تھی۔ ’’اے لڑکی! کیا تم صبح وشام کی دُعائیں بھی پڑھتی ہو یا سارا و قت منہ پر ڈھاٹا لگائےدھونی دیتی رہتی ہو؟‘‘’’جی خالہ! مَیں وضو بھی کرتی رہتی ہوں۔‘‘

’’ یہ پہلی عقل اور ڈھنگ کی بات کی ہےتم نے، شکرہے۔‘‘ خالہ کے چہرے کے تاثرات کچھ نرم پڑے۔ ’’ بیٹی! یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے، یہ بیماری اور اس کی احتیاطی تدابیر، جو حکومت کر رہی ہے، وہ سب اپنی جگہ درست، لیکن تم نے جو گھر میں ایمرجینسی لگائی ہوئی ہے، یہ سب ڈر، خوف اور حد سے زیادہ احتیاط یہ کسی طور مناسب نہیں۔‘‘ خالہ اب سمجھانے کے مُوڈ میں تھیں۔ ’’احتیاط ضرور کرو، لیکن توازن سے، نماز و اذکار اور ساتھ حکومتی احتیاطی تدابیر، زیادہ مجمعے میں جانے سے احتراز، بیمار آدمی سے فاصلہ، اب یہ جو تم حد سے زیادہ خوف وہراس میں مبتلا ہو، تو اس سے تو سارا گھر پریشان ہے۔ بیٹا! الله تعالیٰ پر بھروسا رکھو۔‘‘ ’’کاش ہماری قوم بھی سمجھ جائے۔‘‘ صبا بڑبڑاتی ہوئی اندر چلی گئی۔

ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ گھنٹی بجی۔صبا نےدروازہ کھولا،ابّو ڈھیروں سامان کے ساتھ لدے پھندے اندر داخل ہو رہے تھے۔’’ارے! اتنا سامان کیوں لے آئے؟‘‘ امّی نے حیرانی سے پوچھا۔’’ صبا نے کہا تھا کہ جنرل اسٹور بند ہونے کا خدشہ ہے، لوگ گھروں میں سامان جمع کر رہے ہیں، آپ بھی لے آئیں۔ بات معقول تھی ،تو بس میں دفتر سے جلدی اٹھ گیا، سپر اسٹور گیا تو وہاں تو حالت ہی بُری تھی کہ سارا شہر ہی اُمڈا پڑا تھا۔ ہر کوئی ٹرالیاں بھرنے میں مصروف، بس پھر میں نے بھی مہینے بھر کا سودا خرید لیا۔تم یہ لسٹ دیکھ لو، اگر کچھ رہ گیا ہےتو بتا دو، مَیں کل لے آئوں گا‘‘ ابّو نے تفصیلات فراہم کیں۔’’ دکھائیں اپنی لاڈلی، چہیتی ، عقل مند بیٹی کو، وہی بتا دے گی کمی بیشی کا بھی ۔‘‘ امّی کے تو سر پہ لگی اور تلوئوں پہ بُجھی۔’’ ارے میاں! یہ سب افوا ہ سازی ہے۔‘‘ خالہ ابرو چڑھا کر بولیں۔

’’ افواہ ہی سہی، لیکن پیش بندی میں کیا حرج ہے؟‘‘ ابّو یہ کہتے ہوئے شاپنگ بیگز صبا کے ہاتھ میں پکڑا کے ، کچھ خود لیے کچن کی طرف بڑھ گئے۔’’ اچھا نزہت! مَیں تو چلی۔ تمہارے گھر کا تو الله ہی حافظ ہے۔ ‘‘خالہ نے الفاظ کا چناؤ تھوڑی احتیاط سے کیا تھا، ورنہ کہنا تو یہ چاہ رہی تھیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

تازہ ترین