• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم اور معیشت کے تعلق پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ہم اس سے منسلک کچھ بنیادی اصطلاحات کے بارے میں بات کرلیں۔ مثلاً تعلیم کیا ہے؟ اور اسے کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟ معیشت اور معاش میں کیا فرق ہے؟ انفرادی معاش کا سماجی و عالمی معیشت سے کیا تعلق ہے۔ تعلیم، معیشت پر اور معیشت، تعلیم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟ سب سے پہلے تعلیم پر بات کرتے ہیں کہ تعلیم ہے کیا؟ تعلیم کا لفظ سہ حرفی لفظ ’’علم‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی جاننا یا آگہی کے ہیں۔ تعلیم کا لغوی معنیٰ ہے، علم حاصل کرنا۔ یہ نکتہ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس سے تعلیم و تدریس کا فرق سمجھ سکتے ہیں۔ اگر تعلیم کا مطلب ہے، علم حاصل کرنا، تو تدریس کا مطلب ہے درس دینا، سکھانا یا بتانا۔ اب ہم بنیادی مسئلے کی طرف آتے ہیں، اور وہ یہ کہ زور تعلیم پر ہونا چاہیے یا تدریس پر؟

ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بہت سے مسائل کی بنیاد اسی فرق پر ہے، یعنی زور تعلیم کے بجائے تدریس پر زیادہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں درس تو دیے جاتے ہیں، مگر علم حاصل نہیں ہوتا۔ نصیحتیں تو کی جاتی ہیں، مگر سیکھا کچھ نہیں جاتا، کیوں کہ زور سکھانے پر ہے سیکھنے پر نہیں۔ بقول احمد فراز؎ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے..... روز آجاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے، یوں ہے۔ 

یوں ہی ہمیں علم اور خواندگی کا فرق سمجھ لینا چاہیے، جسے تعلیم و تدریس کی طرح ہم معنی سمجھا جانے لگا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ملک میں تعلیم کا تناسب پچاس فی صد یا ساٹھ فی صد ہے، جب کہ ہمارا مطلب خواندگی سے ہوتا ہے۔ یعنی پڑھنے کی صلاحیت سے۔ ضروری نہیں کہ جہاں خواندگی ہو، وہاں تعلیم یعنی علم بھی حاصل کیا جارہا ہو۔ پڑھنے کی صلاحیت نہ ہونے کو ناخواندگی کہہ سکتے ہیں اور علم نہ ہونے کو لاعلمی یا جہالت۔ 

جہالت کم کرنے کے لیے جاننے، سیکھنے اور خود میں مثبت تبدیلی لانے کی خواہش اور صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔ جہالت کا زیادہ تعلق ہمارے رویوں سے ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے پڑھے لکھے لوگ اگر ٹریفک قوانين کی پاس داری نہیں کرتے، قطار نہیں بناتے، ذرا ذرا سی بات پر لڑنا جھگڑنا شروع کردیتے ہیں، تو انہیں سند یافتہ جاہل کہا جاسکتا ہے۔اس طرح تعلیم صرف سبق پڑھنے، یاد رکھنے اور امتحان میں کام یاب ہونے کا نام نہیں ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ تدریس کہا جاسکتا ہے۔

تعلیم دراصل علم کی تعمیر اور اس کے نتیجے میں خود سیکھنے، سمجھنے، سوال کرنے، جواب ڈھونڈنے اور پھر اُن جوابات پر مزید سوال اٹھانے کا نام بن جاتی ہے۔ اس کے بغیر تعلیم کو تعلیم نہیں کہا جاسکتا اسے صرف سند حاصل کرنے کا عمل کہا جاسکتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ ایک اچھا طالب علم سوالوں کے جوابات پیش کرتا ہے، جب کہ ایک بہتر طالب علم ان پر مزید سوال پیش کرتا ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جب ہم تعلیم کے معیشت سے تعلق پر بات کرتے ہیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم تعلیم، تدریس اور خواندگی تینوں کے معیشت سے تعلق کو سمجھ سکیں۔ 

اسناد، تدریس اور خواندگی کا تعلق براہ راست معیشت سے ہوسکتا ہے، لیکن علم اور تحصیل و تعمیرِ علم کا تعلق براہ راست معیشت سے جوڑنا درست نہیں۔ کیوں کہ بہت سے ناخواندہ لوگ بھی اپنے خراب رویوں کے باوجود معاشی طور پر کام یاب ہوسکتے ہیں اور بہت سے عالم معاشی طور پر کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیتے اور بہت سوں کو اس کا کوئی قلق بھی نہیں ہوتا۔ گویا تعلیم، تدریس اور خواندگی کا معیشت سے یکساں تعلق نہیں ہے، بلکہ ان کی نوعیت خاصی مختلف ہے اور تینوں کے معاشی مقاصد بھی ایک دوسرے سے منسلک ضرور ہیں، لیکن بالکل ایک جیسے نہیں۔ 

علم کو سمجھے بغیر نہ تعلیم کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس سے تعلق کو۔ ویسے تو مرزا یاس یگانہ چنگیزی نے کہا تھا؎علم کیا علم کی حقیقت کیا.....جیسی جس کے گمان میں آئی۔ یہ شعر تو ایک پوسٹ ماڈرن یا مابعدِ جدیدیت کا بیان معلوم ہوتا ہے، جس میں ہر کوئی علم کو اپنے طور پر سمجھتا ہے اور سمجھ سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوال فلسفے کا ہے، جس کی ایک شاخ کو EPIST EMOLOGY علم العلم یا علمیات کہتے ہیں۔ لیکن یہاں ہم اس کے لیے تصور علم کی اصطلاح استعمال کریں گے۔

کَشافِ تنقیدی اصطلاحات مرتبہ: ابوالاعجاز حفیظ صدیقی مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد 1985ء میں علمیات سے متعلق لکھا ہے کہ ’’علمیات ایک علم ہے، جس کا موضوع خود علم ہے، چناں چہ یہ علم اس طرح کے امور سے بحث کرتا ہے کہ علم کیا ہے؟ کیسے حاصل ہوتا ہے؟ کیا صداقت کا یقینی علم ممکن ہے؟ اس کی امکانی حدود کیا ہیں؟ علم صحیح کی بنیاد عقل پر ہے یا حواس پر؟ حسّی تجربہ کس حد تک قابل اعتماد ہے؟ عقل پر کس حد تک بھروسا کیا جاسکتا ہے اور کیا وجدان بھی علم کا ذریعہ ہے؟‘‘ (صفحہ 125)

مولانا عبدالماجد دریا بادی نے علمیات کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ’’وہ علم جس میں خود علم کی ماہیت اور اس کی حدود وغیرہ سے بحث کی جاتی ہے۔‘‘ چوں کہ یہاں ہم آسانی کے لیے علمیات کے بجائے تصوّر علم استعمال کررہے ہیں، یعنی کسی فرد یا معاشرے کا تصور علم کیا ہے، تصوّر علم کے ذریعے ہم جانتے ہیں کہ کس بات کو علم مانا جاسکتا ہے اور کس کو نہیں۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کسی بات یا بیان کو علم کیوں تسلیم کیا جائے؟ علم کی حدود کیا ہیں؟ علم کے ذرائع کیا ہیں؟ 

کن ذرائع سے حاصل کیا گیا علم واقعی علم ہے اور کن ذرائع سے حاصل گیے گئے علم کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ کیا علم پر کامل یقین یا اندھا اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا وہ علم جو مکمل یقین کا مطالبہ کرے، وہ واقعی علم ہے؟ ساتھ ہی وہ علم، جس پر شکوک و شبہات ہوں، اسے کس حد تک اور کب تک علم سمجھنا چاہیے؟ وہم اور یقین کا کیا تعلق ہے اور یہ علم پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

اس حوالے سے احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب کہا ہے؎وہم سے بوقلموں کون و مکاں.....ورنہ یک رنگ یقیں کی باتیں۔ بوقلموں کا مطلب ہے رنگارنگی یا نیرنگی، یعنی وہ چیز جس کا رنگ بدل سکتا ہو یا بدلتا ہوا نظر آئے۔ تو ہمارا تصوّر علم وہم یعنی شک وشبہے اور سوالات پر مبنی بھی ہوسکتا ہے اور دوسرا تصوّر علم مکمل یا اندھے یقین پر بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ 

اس سے متعلق سوال یہ ہیں کہ اندھے یقین یا ڈوگما ( DOGMA ) کو کتنا علم تسلیم کرنا چاہیے؟ ہم میں سے بہت سے عالم ہونے کے دعوے دار شاید عالم ہیں ہی نہیں، کیوں کہ وہ جس علم کی بات کررہے ہیں، ہماری دانست میں وہ علم ہے ہی نہیں، تو پھر وہ عالم کیسے ہوئے۔ کیوں کہ اگر تصور علم واضح ہو، تو وہ جان لیں گے کہ کیا علم ہے اور کیا نہیں۔ اس طرح لوگ پوچھیں گے کہ اندھے یقین کو علم کا درجہ دینا یا علم کو اندھا یقین اور ڈوگما بنالینا کس حد تک جائز اور معقول ہے؟

ان تمام سوالوں کا معاش اور معیشت سے گہرا تعلق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو ڈوگما کو علم کے طور پر پیش کرنے والے معاشی طور پر کام یاب نہ ہوتے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جس معاشرے میں ڈوگما کو علم سمجھا جائے، وہاں نام نہاد عالم بڑے خوش حال ہوتے ہیں، کیوں کہ معاشرے کا تصوّرِ علم ہی ناقص ہے۔ اسی لیے لاعلمی یا جہالت کو علم کا درجہ دے کر معاشی فوائد حاصل کیے جاتے ہیں اور جو واقعی عالم ہیں، وہ معاشی طور پر عموماً بدحال ہوتے ہیں، کیوں کہ سماج ان کے علم کو علم نہیں مانتا۔ 

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ایسے لوگوں کے سامنے اندھے پجاریوں کے ہجوم ہوتے ہیں، جو دراصل عالم نہیں ہیں، لیکن ایسے لوگ ابلاغ بہت اچھا کرتے ہیں، یعنی انہیں جھوٹی سچی باتیں دوسروں تک پہنچانے کا فن خوب آتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ زیادہ تر دھوکے باز ابلاغ کے بڑے ماہر ہوتے ہیں، یعنی اپنی چکنی چپڑی باتوں میں کچھ علم اور کچھ جہالت کا تڑکا لگا کر خوب معاشی فائدے حاصل کرتے ہیں، حتیٰ کہ بڑے بڑے اعلیٰ عہدے دار ان کے سامنے سرنگوں ہوکر ان سے ایک ایسے علم کی رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو شاید علم ہے ہی نہیں۔ آخر میں ایک بار پھر احمد فرازکا شعر پیش خدمت ہے؎بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا.....گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے تھے۔

سنڈے میگزین سے مزید