• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کو مزید ’’انتقامی کارروائیوں‘‘ کا نشانہ بنانے کے لئے نئے مقدمات کی تیاریوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں ۔یار لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں دو اہم بیوروکریٹوں اور ایک معاون خصوصی پر مبنی ایک ’’ٹرائیکا‘‘ اہم کردار ادا کرنے میں مسلسل مصروف ہے۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ پرائم منسٹر کے براہ راست ماتحت وفاقی خفیہ ادارے کا سربراہ اور کلیدی عہدے پر تعینات اعلیٰ بیوروکریٹ روزانہ کی بنیاد پر لندن اور یو اے ای میں تعینات ’’خفیہ ادارے‘‘ کے افسران سے رپورٹیں حاصل کر رہے ہیں ۔ان خفیہ رپورٹوں میں اپوزیشن لیڈر کے بیرون ملک مقیم بیٹے سلمان شہباز کی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر نئے مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔معاون خصوصی ’’احتساب اکبر ‘‘ اس معاملہ میں ’’قانونی مہارت ‘‘ دکھا رہے ہیں۔

خفیہ ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے نجی محفل میں انکشاف کیا ہے کہ سلمان شہباز کے یو اے ای اور ترکی کے دوروں کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے حوالہ سے بھی ان کو ’’خفیہ رپورٹوں‘‘ میں ’’ٹارگٹ‘‘ کیا گیا ہے ۔اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی رہائی اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں کپتان اور ان کی ’’کچن کیبنٹ‘‘ کے ارکان ان کارروائیوں میں تیزی دکھا رہے ہیں؟

نجی کمپنی کی سرکاری سرپرستی

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک ’’نجی کنسٹرکشن کمپنی‘‘ کی سرکاری سرپرستی کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔مذکورہ کمپنی کا دفتر ایف سیون میں واقع ایک کوٹھی کے اندر قائم کیا گیا ہے ۔یار لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کو ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ چلا رہا ہے اور یہ اس سے قبل سابق صدر مشرف کے دور میں بھی مختلف وزارتوں کے ’’تعمیراتی منصوبوں‘‘ کے ٹھیکے حاصل کرتی رہی ہے ۔

کچھ عرصہ بند رہنے کے بعد اب اسے پرانے نام سے ہی دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے اور ’’ہائوسنگ منسٹری‘‘ کے بڑے منصوبوں کو براہ راست مذکورہ کمپنی کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بعض حکومتی ارکان کی طرف سے اس سلسلہ میں تحفظات بھی کئے گئے ہیں لیکن ان کے مذکورہ کمپنی کے حوالہ سے ’’خدشات‘‘ کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی کیونکہ اس کمپنی کے سربراہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو نہ صرف ’’طاقتور ہاتھوں‘‘ کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بنی گالہ سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے؟

اعلیٰ بیوروکریٹ کا طلسماتی کردار

٭صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں سی ایم سیکرٹریٹ کے اہم ترین کلیدی عہدہ پر تعینات ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کے ’’طلسماتی کردار‘‘ کے حوالہ سے کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔یار لوگوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں اضلاع اور ڈویژن کی سطح پر اہم عہدوں پر تقرریوں اور تعیناتیوں کے بارے میں افسر شاہی کے حلقوں میں مذکورہ اعلیٰ بیوروکریٹ کو ’’دوسرا شمس‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ۔واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ان کے والد گرامی ایک دور میں اعلیٰ عدلیہ کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں۔

بیوروکریسی کے علاوہ حکمران جماعت کے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی بھی اس اعلیٰ افسر کے ’’اثرورسوخ‘‘ سے ازحد متاثر ہیں ۔بیشتر حکومتی ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ جو افسران تک ’’رسائی ‘‘حاصل کر لیتا ہے وہ اپنی مرضی کے عہدہ کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اعلیٰ بیوروکریٹ اتنی خوبیوں کے مالک ہیں کہ انہیں پرائم منسٹر ہائوس اور سی ایم ہائوس میں پسندیدہ اور ’’فیورٹ‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید